سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور: بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم موڑ.؟؟
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
فون نمبر: 03333737575
اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر بلوچستان کا نام گونجا جب قومی اسمبلی کے سپیکر نے سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ یہ استعفیٰ بظاہر ایک آئینی اور قانونی عمل ہے، مگر اس کے اثرات محض ایک نشست کے خالی ہونے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ ہیں۔ ان کا قومی اسمبلی سے علیحدہ ہونا وفاق اور بلوچستان کے تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سردار اختر مینگل نے تین ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا، جو اب منظور کیا گیا ہے۔ وہ این اے 256 خضدار سے منتخب ہوئے تھے۔ خضدار کا حلقہ بلوچستان کی سیاست میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ علاقہ قبائلی، سماجی اور سیاسی حوالوں سے حساس سمجھا جاتا ہے۔ اس حلقے سے ان کی کامیابی اس بات کا اظہار تھی کہ بلوچستان کے عوام نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک منتخب نمائندہ، جسے عوام نے ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا، وہ اسمبلی چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے؟ اس کا جواب بلوچستان کی طویل سیاسی تاریخ، وفاق سے شکوے شکایات، وسائل کی تقسیم، لاپتہ افراد کے مسئلے اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات میں تلاش کرنا ہوگا۔ سردار اختر مینگل ماضی میں بھی بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ صوبے کے سیاسی اور معاشی حقوق رہے ہیں۔
بلوچستان طویل عرصے سے محرومیوں کی شکایت کرتا آیا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبہ ترقی کے اشاریوں میں پیچھے ہے۔ گیس، معدنیات اور ساحلی وسائل کے باوجود مقامی آبادی خود کو نظر انداز شدہ محسوس کرتی ہے۔ ایسے میں جب صوبے کی ایک بڑی سیاسی آواز قومی اسمبلی سے علیحدہ ہو جائے تو اس کے پیچھے محض ذاتی یا وقتی سیاسی وجوہات نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی پیغام کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں استعفیٰ ایک مضبوط سیاسی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک سیاسی اور اخلاقی چیلنج بھی بن جاتا ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ منتخب نمائندہ ایوان کے اندر اپنی آواز مؤثر انداز میں نہیں اٹھا سکا یا اس کی بات سنی نہیں گئی۔
دوسری جانب کچھ حلقے اسے بلوچستان کی روایتی احتجاجی سیاست کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں ماضی میں بھی منتخب نمائندے احتجاجاً استعفیٰ دے چکے ہیں یا اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ تاہم یہ حکمت عملی ہمیشہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسمبلی سے باہر آ کر بلوچستان کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیے جا سکتے ہیں یا ایوان کے اندر رہ کر جدوجہد زیادہ نتیجہ خیز ہوتی ہے؟
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ استعفیٰ دینے اور اس کی منظوری کے درمیان ایک طویل وقفہ رہا۔ اس تاخیر نے بھی کئی سیاسی سوالات کو جنم دیا۔ کیا یہ استعفیٰ کسی سیاسی مذاکرات کا حصہ تھا؟ کیا پس پردہ کوئی مفاہمت یا اختلافات چل رہے تھے؟ یا پھر یہ محض آئینی کارروائی میں تاخیر تھی؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید واضح کریں گے۔
بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ یہاں قبائلی اثر و رسوخ، قوم پرست سیاست، وفاقی جماعتوں کا کردار اور مقتدر حلقوں کے اثرات سب مل کر ایک منفرد سیاسی ماحول تشکیل دیتے ہیں۔ سردار اختر مینگل ان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو قوم پرست بیانیے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی سیاست کا بھی حصہ رہے ہیں۔ ان کا اسمبلی سے نکلنا اس بیانیے کو مزید تقویت دے سکتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے۔ اگر بلوچستان کے نمائندے ایوان چھوڑتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں رابطے اور اعتماد کی کمی موجود ہے۔ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے کہ تمام صوبوں کی آواز کو سنا جائے اور ان کے تحفظات کو دور کیا جائے۔ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی سیاسی اہمیت بھی غیر معمولی ہے، خاص طور پر علاقائی اور عالمی تناظر میں جب گوادر اور سی پیک جیسے منصوبے زیر بحث ہوں۔
آنے والے دنوں میں این اے 256 خضدار کی نشست پر ضمنی انتخاب ہوگا۔ یہ انتخاب بھی بلوچستان کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر بلوچستان نیشنل پارٹی دوبارہ یہ نشست جیت لیتی ہے تو یہ سردار اختر مینگل کے مؤقف کی توثیق سمجھی جائے گی، جبکہ کسی دوسری جماعت کی کامیابی سیاسی توازن میں تبدیلی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔
بالآخر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ محض ایک فرد کا پارلیمنٹ سے نکلنا نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم علامتی واقعہ ہے۔ اس کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ بلوچستان کے عوام خود کو قومی دھارے کا مکمل اور بااختیار حصہ محسوس کریں۔ قومی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہر صوبے کی آواز کو برابر اہمیت دی جائے اور مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔