بنگلادیش کی انتخابات: ماضی کی حکومتوں سے حال تک کا سیاسی سفر
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
بنگلادیش میں ہونے والے عام انتخابات محض ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک طویل سیاسی تاریخ، جدوجہد، نظریاتی کشمکش، جمہوری وعدوں اور آمریت کے سائے سے نکلنے والی قوم کی امیدوں کا تسلسل ہوتے ہیں۔ جب بھی ڈھاکا کی گلیوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطاریں لگتی ہیں تو 1971 کی جنگِ آزادی سے لے کر آج تک کی پوری تاریخ گویا زندہ ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس بار بھی بارہ کروڑ سے زائد ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، اور یہ حقیقت خود اس بات کی عکاس ہے کہ ملک کا سیاسی منظرنامہ صرف ماضی کی وراثت پر نہیں بلکہ مستقبل کی امنگوں پر بھی قائم ہے۔
بنگلادیش کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قیام کے بعد کی حکومتوں پر نظر ڈالی جائے۔ 1971 میں پاکستان سے آزادی کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن ملک کے بانی رہنما کے طور پر ابھرے۔ عوامی لیگ کی قیادت میں نئی ریاست کی بنیاد رکھی گئی، آئین بنایا گیا اور قومی شناخت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم آزادی کے چند ہی برسوں بعد معاشی بحران، قحط اور انتظامی کمزوریوں نے ملک کو شدید آزمائش میں ڈال دیا۔ 1975 میں سیاسی بے چینی عروج پر پہنچی اور ایک فوجی بغاوت میں شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ بنگلادیش کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا اور اس کے بعد ملک میں فوجی مداخلت کا دور شروع ہوا۔
شیخ مجیب کی شہادت کے بعد ضیاء الرحمان اقتدار میں آئے۔ انہوں نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی اور سیاست کو نیا رخ دینے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں قومی شناخت میں اسلامی عنصر کو زیادہ نمایاں کیا گیا، آئین میں ترامیم کی گئیں اور خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش ہوئی۔ معاشی میدان میں کچھ اصلاحات بھی کی گئیں، خصوصاً زرعی شعبے اور دیہی ترقی پر توجہ دی گئی، لیکن 1981 میں ضیاء الرحمان بھی ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیے گئے اور ملک ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔
اس کے بعد جنرل حسین محمد ارشاد نے 1982 میں اقتدار سنبھالا اور فوجی حکمران کے طور پر حکومت کی۔ ان کے دور میں مقامی حکومتوں کو کچھ اختیارات دیے گئے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبے شروع ہوئے، تاہم سیاسی آزادی محدود رہی۔ عوامی لیگ اور بی این پی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے ارشاد کے خلاف تحریک چلائی۔ بالآخر 1990 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں ارشاد کو استعفیٰ دینا پڑا اور عبوری حکومت کے تحت انتخابات کرائے گئے۔ یہ دور بنگلادیش میں جمہوریت کی بحالی کی علامت بن گیا۔
1991 کے انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کامیاب ہوئی اور بیگم خالدہ ضیاء وزیر اعظم بنیں۔ اس دور میں پارلیمانی نظام بحال کیا گیا، آئینی ترامیم کی گئیں اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے دعوے کیے گئے۔ تاہم سیاسی رقابت میں شدت آتی گئی۔ عوامی لیگ اور بی این پی کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم رہی۔ 1996 میں انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھے اور شدید عوامی احتجاج کے بعد نگراں حکومت کا نظام متعارف کرایا گیا تاکہ آئندہ انتخابات غیر جانبدار طریقے سے کرائے جا سکیں۔
1996 میں عوامی لیگ دوبارہ اقتدار میں آئی اور شیخ حسینہ وزیر اعظم بنیں، جو شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں۔ اس دور میں بھارت کے ساتھ گنگا پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا اور چٹاگانگ ہِل ٹریکٹس میں امن معاہدہ طے پایا جس سے طویل بغاوت کا خاتمہ ممکن ہوا۔ تاہم سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔ 2001 میں بی این پی دوبارہ اقتدار میں آئی اور خالدہ ضیاء ایک بار پھر وزیر اعظم بنیں۔ اس عرصے میں معاشی ترقی کے ساتھ انتہاپسندی کے مسائل بھی سامنے آئے۔ 2004 میں عوامی لیگ کے جلسے پر حملہ ہوا جس میں کئی افراد جان سے گئے اور سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
2006 سے 2008 تک ملک سیاسی بحران کا شکار رہا۔ فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے اقتدار سنبھالا اور بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کی۔ شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء دونوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس دور کو بعض لوگ احتساب کا مرحلہ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اسے جمہوری عمل میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ 2008 کے انتخابات میں عوامی لیگ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور شیخ حسینہ دوبارہ اقتدار میں آئیں۔
2009 کے بعد عوامی لیگ مسلسل حکومت کرتی رہی۔ اس عرصے میں معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا، گارمنٹس انڈسٹری اور برآمدات میں وسعت آئی، غربت میں کمی واقع ہوئی اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی۔ پدما برج جیسے بڑے منصوبے مکمل ہوئے، بجلی کی پیداوار بڑھی اور ڈیجیٹل بنگلادیش کا نعرہ سامنے آیا۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے انتخابی شفافیت، سیاسی گرفتاریوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔ 2014 اور 2018 کے انتخابات میں اپوزیشن کے بائیکاٹ یا محدود شرکت کے باعث سیاسی تنازعات میں اضافہ ہوا۔
موجودہ انتخابات ایسے پس منظر میں ہو رہے ہیں جہاں ایک طرف ماضی کی حکومتوں کا تجربہ ہے اور دوسری طرف نئی نسل کی توقعات۔ نوجوان ووٹر، جو آبادی کا بڑا حصہ ہیں، روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل پر توجہ چاہتے ہیں۔ بنگلادیش موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سیلاب، سمندری طوفان اور سمندر کی سطح میں اضافہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے یہ انتخابات صرف سیاسی اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل اور بقا سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
ماضی کی حکومتوں سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ فوجی ادوار میں کچھ انتظامی اصلاحات ضرور کی گئیں، لیکن طویل مدت میں جمہوری ادارے کمزور ہوئے۔ اسی طرح جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئیں تو ملک بحران کا شکار ہوا۔ اس لیے موجودہ انتخابات میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ نتائج جو بھی ہوں، انہیں قبول کیا جائے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
بنگلادیش کی سیاست میں خاندانی قیادت کا عنصر بھی نمایاں رہا ہے۔ شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء کے درمیان سیاسی مقابلہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ بعض اسے ذاتی رقابت قرار دیتے ہیں اور بعض نظریاتی اختلاف۔ تاہم اب ایک نئی سیاسی قوت، جو نوجوانوں پر مشتمل ہے، میدان میں موجود ہے اور مستقبل میں سیاست کا نقشہ بدلنے کا امکان بھی موجود ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی ماضی کی حکومتوں کے اثرات واضح ہیں۔ عوامی لیگ عمومی طور پر بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کی حامی رہی ہے جبکہ بی این پی نسبتاً متوازن خارجہ پالیسی کی بات کرتی رہی ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، بندرگاہوں کی ترقی اور علاقائی تجارت کے معاہدے بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بنگلادیش کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن سیاسی استحکام اس ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
موجودہ انتخابی مہم میں معاشی ترقی، بدعنوانی، انسانی حقوق، عدالتی آزادی اور میڈیا کی آزادی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ ماضی میں تقریباً ہر حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے، جس سے عوامی اعتماد متاثر ہوا۔ اگر نئی حکومت شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنا سکے تو یہ ملک کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔
بنگلادیش کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کی ہے۔ 1990 کی تحریک ہو یا بعد کے سیاسی بحران، عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت کو اہم سمجھا ہے۔ آج بھی جب پولنگ اسٹیشنوں پر نوجوان، خواتین اور بزرگ قطاروں میں کھڑے ہیں تو یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ جمہوری شعور زندہ ہے۔ ماضی کی حکومتیں اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں سمیت تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن ان سے سبق سیکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل زیادہ روشن ہو سکے۔
موجودہ انتخابات بنگلادیش کے لیے ایک امتحان ہیں۔ اگر یہ شفاف اور منصفانہ انداز میں مکمل ہوتے ہیں اور تمام فریق نتائج کو تسلیم کرتے ہیں تو ملک سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر تنازعات اور احتجاج ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام سب مل کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔
بنگلادیش کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم مشکلات سے نکل کر آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جنگِ آزادی سے لے کر معاشی بحالی تک، فوجی ادوار سے جمہوری واپسی تک، ہر مرحلے پر عوام نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج جب نئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو ماضی کی حکومتوں کے تجربات، ان کی کامیابیاں اور خامیاں سب سامنے ہیں۔ اگر ان سے درست نتائج اخذ کیے جائیں تو بنگلادیش واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں سیاست ذاتی مفاد کے بجائے قومی ترقی کے لیے ہو، اختلاف دشمنی کے بجائے مکالمے میں ڈھل جائے، اور جمہوریت محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن جائے۔