6

دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے تحریر:اللہ نوازخان

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے
جمعہ چھ فروری 2026 کو، نماز جمعہ کے دوران اسلام آباد کی ایک مسجدو امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ایک خودکش بمبار نے دھماکہ کیا۔اس دھماکےکی وجہ سے 33 نمازی شہید اور150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ذرائع کے مطابق دھماکے میں چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیےبہت زیادہ بال بیرنگ بھی استعمال کیے گئے۔حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے،اس کا تعلق فتنتہ الخوارج سے تھا۔اس حملے کی ذمہ داری داعش کی ذیلی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔حملہ آور پانچ سال افغانستان میں گزار کر آیا تھا،جہاں اس نے اسلحہ اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔حملہ آورکی شناخت اس کے شناختی کارڈ سے ہوئی،جو سیکورٹی فورسز کو دھماکے والی جگہ پر ملا۔شناختی کارڈ پر حملہ آور کا نام یاسر درج تھا۔اسکے گھر سے دو افراد اور ایک خاتون کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے نیز حملہ آور کے کچھ سہولت کار بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور نوشہرہ سے خودکش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سے اسلام آباد پہنچا،حملہ کرنے سے قبل تھوڑی دیر ہوٹل میں بیٹھا اور کھنہ روڈ سے پیدل چل کر مسجد تک پہنچا۔اس نے دو فروری کو مسجد کی ریکی بھی کی۔حملہ آور نے دھماکے سے قبل فائرنگ بھی کی۔واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ کئی دہائیوں سے خودکش حملے جاری ہیں۔صرف خودکش حملے نہیں ہوتے بلکہ معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی جاتی ہے۔ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ دہشت گردی کے دیگر طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے کہ پاکستان کو بےرحمی سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے ہزاروں شہری گنوا چکا ہے۔
صرف اسلام آباد ہی میں نہیں بلکہ بلوچستان،پنجاب سمیت پورے پاکستان میں دہشتگردی بہت زیادہ پھیل چکی ہے۔جس طرح خود کش حملہ آور کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس کی تربیت افغانستان میں ہوئی اور افغانستان میں داعش نے اس کو پاکستان میں خودکش حملہ کرنے کی ذمہ داری سونپی۔اس سے علم ہوتا ہے کہ پاکستان سخت خطرات میں گھرا ہوا ہے۔افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور داعش کا ملوث ہونا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کو ختم کرنے کے لیے بہت بڑی طاقتیں کوشش کر رہی ہیں۔انڈیا نے بھی ہمیشہ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کیں اور اب بھی کروا رہا ہے۔اب جس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ افغانستان دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کے خلاف کاروائیاں ضرور کرنی چاہیے،تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔جس طرح سہولت کاروں کے بارے میں علم ہو رہا ہے،ان سہولت کاروں کو بھی کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہیے۔سیکیورٹی اداروں کو بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون بھی بہت ضروری ہے،بغیر عوامی تعاون کے دہشتگردی پر قابو پانا تقریبا ناممکن ہے۔بحیثیت قوم ہمیں کچھ ایسے فیصلہ کرنے ہوں گے جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔پاکستان میں جس طرح دہشت گردی ہو رہی ہے اس کو آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا،لیکن یہ بھی ناممکن نہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا جا سکے۔
دہشتگردی کے خاتمہ کرنے کے لیے کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دینی چاہیے۔اس سوال کا جواب حاصل کرنا بھی ضروری ہے کہ دہشت گرد تک بارودی مواد کس طرح پہنچایا گیا؟اس کے سہولت کار کون کون تھے؟سہولت کاروں کو گرفتار کر کے ان سے یہ تفتیش بھی کرنی چاہیے کہ ان کے مستقبل کےکیا منصوبے ہیں؟خود کش حملہ آور کا شناختی کارڈ کا ملنا بھی کئی سوالات اٹھاتا ہے۔کیا اس کا شناختی کارڈ جان بوجھ کر پھینکا گیا تاکہ آسانی سے حملہ آور کی شناخت ہو سکے،اس کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کا مزید دہشت پھیلانا مقصود تھا۔شناختی کارڈ کی موجودگی کی وجہ یہ بھی بتائی جا سکتی ہے کہ حملہ آور بغیر شناختی کارڈ کے سفر نہیں کر سکتا تھا،تو اس کا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ وہ دھماکہ والی جگہ سے پہلے ہی وہ شناختی کارڈ پھینک سکتا تھا۔بہرحال تفتیشی ادارے اپنی تفتیش کر رہے ہیں اور مزید تفتیش بھی کریں گے۔یہ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ فوری طور پر دہشت گردی پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہے،لیکن اس چیلنج کو قبول کرنا ہوگا۔سب سے خطرناک دہشت گردی یہ ہے کہ انسانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔انسان کو بطور ہتھیاراستعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو خود کش بمبار بنا دیا جائے۔اس پر غور کرنا ضروری ہے کہ ایک انسان خود کش بمبار کیوں بنتا ہے؟برین واشنگ کے علاوہ محرومی یا زیادتی یا کسی اور وجہ سے ایک خودکش بمبار بنتا ہے تو ہمیں ان تمام مسائل کو حل کرنا ہوگا تاکہ کسی کو بھی خودکش بمبار بننے سے روکا جا سکے۔
اسلام آباد کی مسجدو امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ سےپوری قوم کو دلی تکلیف ہوئی ہے۔یہ دھماکہ صرف ایک فرقے کی مسجد پر نہیں ہوا بلکہ پورے پاکستان پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔فرقہ واریت نے بھی دہشت گردی میں اضافہ کیا ہے،فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے بھی پوری قوم کو اٹھنا ہوگا۔ماضی میں کئی دفعہ فرقہ وارانہ تصادم بھی ہوئے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے یہ ظاہر کیا گیا کہ ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف دہشت گردی کر رہا ہے۔اس کا امکان بھی رد نہیں کیاجاسکتا کہ فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے ہیں۔بڑی بڑی طاقتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے فرقے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ہمیں بطور قوم متحد ہونا ہوگا تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔دہشت گردی سے نہ تو کوئی مسجد محفوظ رہی اور نہ کوئی مزار محفوظ رہا ہے نیز بازار اور تعلیمی درسگاہیں بھی نشانہ بن رہی ہیں۔مسجد،مندر،چرچ یا کوئی دیگر عبادت گاہ،تمام کو محفوظ کرنا ہوگا۔پوری قوم کو سختی سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں