7

تفسیر سورۃ العصر ترجمہ و تفسیر (سورۃ نمبر 103) پیر 09 فروری 2026 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

تفسیر سورۃ العصر ترجمہ و تفسیر (سورۃ نمبر 103)

پیر 09 فروری 2026
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

ترجمہ:
قسم ہے زمانے کی!
بے شک انسان نقصان میں ہے،
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی، اور صبر کی نصیحت کی۔

تعارفِ سورت:
یہ مکی سورت ہے، تین آیات پر مشتمل ہے، مگر اپنے معنی و پیغام میں یہ پورے قرآن کا خلاصہ سمجھی جاتی ہے۔
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
“اگر لوگ صرف سورۃ العصر پر غور کر لیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔”
یعنی اس سورت میں کامیاب زندگی کا پورا فلسفہ موجود ہے۔

آیت 1: “وَالْعَصْرِ” – قسم ہے زمانے کی۔ اللہ تعالیٰ نے زمانے (عصر) کی قسم کھائی،
کیونکہ وقت ہی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ انسان کی عمر گھٹتی جاتی ہے، اور جو وقت اللہ کی اطاعت میں گزرتا ہے وہی اصل میں نفع ہے۔

امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں:

اللہ نے زمانے کی قسم کھا کر ہمیں متنبہ کیا کہ یہ زندگی محدود ہے، جو وقت گزر گیا وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔

آیت 2: “إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ” – بے شک انسان نقصان میں ہے یہ ایک عام حکم ہے،
یعنی تمام انسان خسارے میں ہیں، کیونکہ وقت گزرتا جا رہا ہے اور انسان اپنی زندگی کو عیش و غفلت میں ضائع کر رہا ہے۔ اگر اس نے اپنے وقت کو ایمان اور عملِ صالح میں نہیں لگایا، تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔

خسارہ سے مراد صرف مال یا دنیاوی نقصان نہیں، بلکہ زندگی کے مقصد سے محرومی ہے۔

آیت 3: “إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا…” سوائے ان کے جو ایمان لائے
یہاں اللہ تعالیٰ نے چار شرطیں بیان فرمائیں جن پر عمل کرنے والا انسان نقصان سے بچ جاتا ہے:

(1) ایمان:
اللہ، رسول ﷺ، آخرت، فرشتوں، کتابوں اور تقدیر پر سچا ایمان۔
ایمان وہ بنیاد ہے جو انسان کو راہِ ہدایت پر قائم رکھتی ہے۔

(2) عملِ صالح:
ایمان کے بعد نیک اعمال، جیسے نماز، روزہ، صدقہ، والدین کی خدمت، سچائی، عدل اور حسنِ اخلاق۔
ایمان کے بغیر عمل قبول نہیں، اور عمل کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔

(3) “وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ” – حق کی تلقین:
یعنی دوسروں کو حق، عدل، اور سچائی کی دعوت دینا۔
یہ دین کی تبلیغ، امر بالمعروف، اور نہی عن المنکر کا حکم ہے۔
مسلمان خود بھی سیدھی راہ پر چلے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلائے۔

(4) “وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ” – صبر کی نصیحت:
یعنی مشکلات، مصائب، اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہنا،
دین پر استقامت اختیار کرنا، اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرنا۔ کیونکہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو لازماً آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔

سورۃ العصر کا خلاصہ:
یہ سورت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیاب زندگی کے چار ستون ہیں:

1. ایمان
2. نیک عمل
3. حق کی دعوت
4. صبر و استقامت

جو شخص ان چار اوصاف سے خالی ہے، وہ خواہ کتنا ہی دولت مند یا طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک خسارے میں ہے۔

عملی پیغام:
وقت ضائع نہ کریں — یہ زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ ہے۔
ایمان کو مضبوط بنائیں، اعمال کو بہتر کریں۔
نیکی اور حق کی بات دوسروں تک پہنچائیں۔

مصیبتوں میں صبر کریں، کیونکہ صبر ایمان کا زینت ہے۔

نتیجہ:
سورۃ العصر گو مختصر ہے مگر معنی میں بہت وسیع ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی نجات صرف ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، اور صبر میں ہے۔ یہ چار صفات اپنانے والا انسان ہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔

الدعاء
یا حیئ یاقیوم برحمتک استغیث

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں