چوری کے چاکلیٹ اور پینو آپا
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
سیمی کو خالہ کے گھر آے ہوے ابھی چند ہی گھنٹے ہوے تھے، مگر گھر کے چھوٹوں سے بڑوں تک سب ہی ایسے ڈرے سہمے ہوے تھے گویا کسی انہونی کے انتظار میں ہوں، اب یہ انہونی بھی ناں، ہم سب نے کبھی اس موی انہونی کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں ہوتا مگر یہ انہونی کہیں نہ کہیں سے سر اٹھا کے ہمارے حواسوں پہ بجلی گرانے کے جتن کرتی ہی رہتی ہے تو ماجرا کچھ یوں تھا کہ سیمی کی خالہ کسی بڑے ہسپتال کی ایڈمن تھیں،چار بچے اور ساس سسر کے ساتھ ساتھ آیا گیا بھی بہت تھا، مانو بلا ناغہ صبح شام کچن میں کسی نہ کسی کی لذت کا کام و دہن کا اہتمام تو ہو ہی رہا ہوتا تھا،اور سچی بات تو یہ کہ کسی بھی گھر کا جلتا ہوا چولہا اس گھر کی خوش نصیبی کا سر عام اعلان ہوتا ہے، زندگی کی علامت اور بہار کی آمد کا ایک اطلاعی جھونکا، یہ دلنشیں خبر اور خوشگوار احساس کہ گھر والے کھلے دل اور کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ چوڑیاں کھنکھتی ہوی اور چولہے جلتے ہوے ہی اچھے لگتے ہیں. خیر سیمی کی خالہ جو تقریباً سارا دن گھر سے باہر رہتی تھیں مگر باورچی خانے کے کاروان کو رواں دواں رکھنے اور اہل خانہ اور مہمانوں کو کھلانے پلانے کے اہتمام کے لیے انہوں نے چوبیس گھنٹے کے لیے ایک ملازمہ رکھ چھوڑی تھی، اس کا نام تو اللہ جانے کیا تھا مگر سب اسے پینو آپا، پینو آپا ہی کہتے تھے. پینو آپا چاے پراٹھا،پینو آپا آملیٹ والا سینڈوچ، پینو آپا گرین ٹی، پینو آپا نرگسی کوفتے، پینو آپا چپلی کباب، پینو آپا کابلی پلاو، پینو آپا پودینے والی چٹنی، پینو آپا گڑ والے چاول اور تو اور چب خالہ کے بڑے بیٹے کی شادی ہوی تو بہو رانی صرف اور صرف چایننز کھانے ہی کھاتی تھیں تو پینو آپا نے بنا ماتھے پہ بل ڈالے یہ اضافی ذمہ داری بھی نہ صرف اٹھای بلکہ دل و جان سے نبھای بھی، کچھ لوگ واقعی میں ہر فن مولا ہی ہوتے ہیں، سرگی ویلے نک سک سے تیار پینو آپا بہترین لباس پہن کر جب لکھنوی تہذیب و تمدن کی پیروی میں سب کو ہاتھ اٹھا کر آداب کہتیں اور پھر بل دار پراٹھے، قیمے والے پراٹھے، آلو والے پراٹھے، مولی والے پراٹھے، خستہ پوریاں حلوے اور چنوں کے ساتھ مسکراتے ہوے نزاکت کے ساتھ پیش کرتیں تو ذایقے کے ساتھ ساتھ پینو آپا کی شان دار شخصیت کی بھی کھانے، کھانے والوں پہ خوب دھاک بیٹھتی. پینو کی شان دار شخصیت، اونچا لمبا قد،سنہری چمکتا ہوا رنگ، سنہری کانچ جیسی خمیدہ آنکھیں جنہیں میں نے ہمیشہ ہی حیرت زدہ دیکھا، بھرے بھرے ہونٹ جو سدا ہی مسکراتے تھے،لمبی سیدھی مانگ اور پشت تک آتی بلدار چوٹی، مہارانیوں جیسی چال،پینو آپا کے پراٹھوں کے بل زیادہ بلدار تھے یا چوٹی کے؟ لیکن دونوں میں غضب کا تال میل تھا، قصہ مختصر کہ پینو آپا مامی جی کے گھر کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ تھیں یا عام اور سادہ فہم الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ خالہ جی کے کنبے کا اٹوٹ انگ ہی تھیں، ایک اہم ذمہ دار ملازم کی طرح انھوں نے خالہ جی کی بہت سی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے معمولی سی تنخواہ کے عوض سنبھال رکھا تھا، جس کا کوی نعم البدل نہ تھا، خالہ جی کی نوکری بھی بڑے سکون سے چل رہی تھی اور گھر داری کے اوکھے پینڈے بھی پینو آپا کے سگھڑاپے کی وجہ سے بخیر و خوبی اپنی پٹری پہ رواں دواں تھے، مہینے سالوں میں بدلتے گیے اور خزاوں نے بہاروں کا پیچھا جاری رکھا. خالہ بزرگ ہو گییں، بچے بڑے ہو کے گھر کی ذمہ داریوں میں لگ گیے اور گھر نیے آنے والے مزید ننھے منھوں سے سج گیا، سب بزرگ کسی نہ کسی بیماری کے اسیر تھے کوئی دمے کے علاج کا مجرب نسخہ ڈھونڈتا پھرتا تھا تو کوی گوڈے کے دردوں کی اکسیر دوا، مگر پینو آپا اپنی سج دھج کے ساتھ ابھی بھی چاک و چوبند اپنے باورچی خانے اور مزیدار کھانوں کے ہجوم میں ہشاش بشاش، یہ اللہ پاک کی تقسیم بھی بڑی بے نیاز ہے اور دین بھی بالکل اللہ پاک کی طرح،وہ خالق کل کاینات جسے چاہے جو مرضی عطا کر دے کسی کی ضد، ریس، غصہ، جھنجھلاہٹ، رولی، وخت سیاپا اس کی عطا کے کلیے میں نہ ہی چھید ڈال سکتا ہے اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکتا ہے ماسوائے دعا کی تدبیر کے کہ اللہ پاک کہتا ہے صرف گڑگڑا کر کی جانے والی دعا ہی انسانی تقدیر کو بدل سکتی ہے تو کچھ ایسا ہی ادھر خالہ جی کی طرف بھی تھا، خالہ جی کے ساس سسر اللہ کو پیارے ہوے، خالو جی کو شوگر نے کہیں کا نہ چھوڑا، خالہ جی بھی ریٹائرمنٹ کے بعد جوڑوں کے درد کا ایسے شکار ہویں کہ لاٹھی کے سہارے کی محتاج ہو گییں، بیٹیاں بیاہ کے اپنے گھروں کی ہوییں، بیٹوں کی بہویں، نیی مالکاییں بن بیٹھیں گویا تختے ہل گیے اور تخت و تاراج بدل گیے مگر مولا کی شان کہ پینو آپا اپنی راجدھانی پہ دھڑلے سے براجمان رہیں، نہ بظاہر ان کے حلیے میں کوی تبدیلی آئی اور نہ ہی ان کی خدمات میں، میں بھی بچپن سے بڑھاپے میں آ گی مگر جب بھی چھٹیاں ہوتیں میں بمع بچوں کے خالہ کی طرف دوڑ لگا دیتی اور سچی بات ہے جتنا مان زیبی کو خالہ جی کے گھرانے سے ملا اپنے میکے سے بھی نہ مل سکا تو زیبی خالہ جی کی طرف بمع اہل و عیال کے آتی، سبخوب مزے مزے کے کھانے کھاتے، کھیلتے کودتے اور پھر اپنی معمول کی زندگیوں میں واپس لوٹ جاتے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا تھا مگر اس ویک اینڈ پہ زیبی نے جونہی خالہ جی کے گھر کی دہلیز پار کر کے اندر پاوں رکھے تو ماحول میں عجب طرح کی اداسی اور سوگواری نے استقبال ہی نہیں کیا آکے باقاعدہ گلے بھی ملی اور پیروں سے بھی لپٹی. اب یہ پیروں سے لپٹی ہوی اداسی تو سچ میں نری موت ہی ہوتی ہے خیر زیبی نےجونہی بیگ کو ایک طرف پھینک کے صوفے پہ براجمان ہوی تو خالہ لاٹھی ٹیکتی ہوییں پاس ہی آ بیٹھیں انھیں سلام کیا تو محسوس ہویا ان کا لہجہ گلو گیر ہے، جھک کے انھیں دیکھا تو ان کا رنگ لال اور پپوٹے سوجے ہوے تھے. کیا ہوا خالہ جی؟ جونہی خالہ جی نے وعلیکم السلام کہا تو زیبی نے پوچھا، وہ پینو کام چھوڑ کے چلی گئی ہے ناں، تو اس لیے اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی من نہیں لگ رہا. یہ جملہ کہنے تو ایک دم سادہ ہے گر اس میں جو چیخ، جو ملال ،جو محرومی تھی زیبی سے بہتر کون جان سکتا تھا. زیبی جیسے ہی صوفے پہ بیٹھی تھی ویسے ہی اٹھی اور خالہ جی سے صرف اتنا کہا میں پینو آپا کو لے کر آتی ہوں آپ دروازہ کھلا ہی رکھنا. زیبی بھاگم بھاگ پینو آپا کے گھر پہنچ گءی، باہر والا دروازہ تھا ہی نہیں ایک پرانی چادر کو رسیوں کے سہارے کھڑا کر کے پردے کا بھرم رکھنے کی ناکام سی کوشش کی گیی تھی. زیبی بے دھڑک اندر چلی گیی، خالہ جی کے گھر میں پھرکی کی طرح گھومنے والی پینو آپا سر نیہوڑائے لکڑیوں والے چولہے کے سامنے بیٹھ کر بجھے ہوے چولہے کی راکھ کرید رہی تھی اف یہ راکھ کریدنا بھی ناں، اذیتوں میں سب سے بڑی اذیت ہے یوں جیسے آپ اپنے ہی زخموں کو اپنے ہی ہاتھوں سے کریدنے لگ جاو، زیبی کسی روبوٹ کی طرح چلتی ہوی پینو آپا کے سر پہ جا کھڑی ہوی اسے زیبی کے آنے کی بالکل خبر نہ ہوی، کبھی کبھی انسان دکھ کی اس انتہا پہ ہوتا ہے کہ اسے کے سارے ہی حواس خمسہ، اس غم میں ڈوبے ہوے انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، تو زیبی کو بھی آپا پینو کو زمانہ حال میں واپس لانے کے لیے کافی جتن کرنے پڑے، پتا چلا کہ خالہ جی کی چھوٹی پوتی کی چاکلیٹس کافی عرصے سے غایب ہو رہے تھے اور بالآخر یہ بھید کھلا کہ وہ چند چاکلیٹس کہی دھاییوں تک اس خاندان کی خدمت گزار پینو آپا اپنی نواسی کے لیےلے جاتی رہی تھیں، کوی اتنا بڑا گناہ نہ تھا ایک مجبور و بے کس بڑھیا نے بس اپنے گھر کے چھوٹے بچے کا چاکلیٹ سے دل بہلانے کے لیے مالکوں کے سامان سے چند چاکلیٹ چرانے کا گناہ عظیم کیا کیا، اس کی ساری خدمات کو پس پشت ڈال کر اس کمزور اور بیچاری عورت پہ چور کی مہر لگا دی، زیبی کو پینو آپا کی محرومی، بیچارگی اور مظلومیت پہ بے تحاشا ترس آیا اور زیبی پینو آپا کے وہ گلے سے لگ کر خوب روی، جب دل کا غبار تھوڑا سا کم ہوا تو زءبی نے قریبی مارکیٹ میں جا کر چاکلیٹ کا بڑا سا ڈبہ پینو آپا کی نواسی کو لے کر دیا اور پھر پینو آپا کو لے کر خالہ جی کے پاس لے آی ، ہمیں اور آپ سب کو اب دل بڑا کر کے صدیوں پرانی اس روایت کا منہ توڑنا ہو گا کہ چور ہمیشہ روٹی چور ہی رہے گا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com
قصور کے علاقہ کھڈیاں میں پیش آیا واقعہ
چوری کے چاکلیٹ اور پینو آپا تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قبول نہیں۔صومالی صدر
طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کردیے ہیں۔صدر پاکستان
بلوچستان کے بحرانوں کو ایک ہی طریقے سے حل کرنیکی کوشش کرکے ہم غلطی کررہے ہیں۔رانا ثناء اللہ