7

نیٹو: امن کے نام پر جنگوں کا اتحاد اور امریکی مفادات کی طویل کہانی.؟؟؟ کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی

نیٹو: امن کے نام پر جنگوں کا اتحاد اور امریکی مفادات کی طویل کہانی.؟؟؟

کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
فون نمبر: 03333737575

نیٹو، جسے دنیا امن، اجتماعی تحفظ اور مشترکہ سلامتی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، درحقیقت جدید عالمی سیاست کے سب سے متنازع اتحادوں میں سے ایک رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب یورپ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا، شہر کھنڈرات میں بدل چکے تھے، معیشت برباد ہو گئی تھی اور کروڑوں انسان بے گھر تھے، اس وقت عالمی طاقتوں نے ایک ایسے اتحاد کی ضرورت محسوس کی جو بظاہر نئی جنگ کو روک سکے اور باطن میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھے۔ چنانچہ 1949ء میں نیٹو کی بنیاد رکھی گئی، جس کا ظاہری مقصد سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا اور یورپ کو اجتماعی دفاع فراہم کرنا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ اتحاد دفاعی معاہدے کے بجائے عالمی مداخلت اور طاقت کی سیاست کا ایک مؤثر آلہ بن گیا۔

نیٹو کے قیام کے وقت یہ اصول طے کیا گیا کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوگا تو اسے تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ نظریاتی طور پر یہ اصول پرکشش تھا، لیکن عملی طور پر اس کی تشریح ہمیشہ طاقتور ممالک، خصوصاً امریکہ، کے مفادات کے مطابق کی گئی۔ سرد جنگ کے دور میں نیٹو کا بنیادی کردار سوویت یونین کو روکنا تھا، جس کے لیے یورپ بھر میں امریکی فوجی اڈے، ایٹمی ہتھیار، میزائل نظام اور وسیع دفاعی ڈھانچے قائم کیے گئے۔ اس عمل میں یورپ کے کئی ممالک نے عملی طور پر اپنی خودمختاری کا ایک حصہ امریکی پالیسیوں کے تابع کر دیا۔

جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا تو دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب نیٹو کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ کئی دانشوروں نے سوال اٹھایا کہ جس خطرے کے نام پر نیٹو قائم ہوا تھا، جب وہی خطرہ باقی نہیں رہا تو اس اتحاد کا وجود کیوں برقرار رکھا جا رہا ہے؟ لیکن اس کے برعکس نیٹو مزید طاقتور ہو گیا۔ مشرقی یورپ کے وہ ممالک جو کبھی سوویت بلاک کا حصہ تھے، ایک ایک کر کے نیٹو میں شامل کیے گئے، جس سے روس میں شدید خدشات اور عالمی سیاست میں نئی کشیدگی نے جنم لیا۔

نیٹو کی تاریخ ایسے فوجی اقدامات سے بھری پڑی ہے جن پر آج بھی اخلاقی اور قانونی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ یوگوسلاویہ پر بمباری ہو یا افغانستان میں طویل فوجی مداخلت، ہر جگہ نیٹو کا کردار دفاع سے زیادہ جارحانہ نظر آتا ہے۔ افغانستان میں بیس سال تک جاری رہنے والی جنگ، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری جان سے گئے، ملک مکمل طور پر تباہ ہوا اور بالآخر نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہی قوت دوبارہ اقتدار میں آ گئی جسے ہٹانے کے لیے جنگ لڑی گئی تھی۔ یہ حقیقت نیٹو کی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

نیٹو خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کا محافظ قرار دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی مواقع پر اس اتحاد نے ایسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات رکھے جہاں جمہوریت صرف نام کی تھی۔ جہاں بھی امریکی مفادات شامل رہے، وہاں اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام، اسلحے کی دوڑ اور مسلسل جنگیں اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔

اب جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ میں اقتدار میں آئے ہیں تو نیٹو کے بارے میں امریکی پالیسی مزید واضح ہو گئی ہے۔ ٹرمپ ابتدا ہی سے نیٹو کو امریکہ کے لیے ایک مالی بوجھ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ نیٹو کے اخراجات کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے جبکہ یورپی ممالک اپنے دفاع کے لیے مناسب وسائل خرچ نہیں کرتے۔ اسی سوچ کے تحت ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بار بار دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں۔

حالیہ فیصلہ، جس کے تحت امریکہ نیٹو کے چند اہم فوجی کمانڈ عہدوں سے دستبردار ہو کر انہیں یورپی ممالک کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ بظاہر کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدام یورپی ممالک کو زیادہ ذمہ دار بنانے کے لیے ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے امریکی مفادات صاف نظر آتے ہیں۔ امریکہ اب یورپ کے بجائے ایشیا، خصوصاً چین، پر زیادہ توجہ دینا چاہتا ہے جہاں مستقبل کی عالمی طاقت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو امریکہ کا یہ رویہ متضاد اور خود غرض محسوس ہوتا ہے۔ دہائیوں تک امریکہ نے نیٹو کے ذریعے یورپ میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا، سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوا اور فوجی موجودگی کے ذریعے اپنی بالادستی کو مضبوط کیا۔ اب جب عالمی حالات بدل رہے ہیں تو امریکہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ان ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے جو طویل عرصے سے امریکی تحفظ پر انحصار کرتے رہے ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد یورپ پہلے ہی شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں نیٹو کے اندر اس قسم کی تبدیلیاں اتحاد کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ اگر کل کسی بڑے بحران کا سامنا ہوا تو کیا نیٹو اسی اتحاد اور طاقت کے ساتھ ردِعمل دے سکے گا، یا ہر ملک اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے گا؟

نیٹو کا مستقبل اب محض ایک فوجی اتحاد تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی عکاسی بن چکا ہے۔ ایک طرف چین کا بڑھتا ہوا اثر، دوسری طرف روس کے ساتھ کشیدگی اور تیسری جانب امریکہ کی اندرونی سیاسی و معاشی ترجیحات میں تبدیلی، یہ تمام عوامل نیٹو کے لیے نئے امتحانات پیدا کر رہے ہیں۔

امریکہ پر تنقید اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ملک آزادی اور جمہوریت کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی کئی خطوں میں جنگ، تباہی اور عدم استحکام کا سبب بنا ہے۔ نیٹو اس پالیسی کا ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔ امن کے نام پر جنگیں، تحفظ کے نام پر تباہی اور جمہوریت کے نام پر طاقت کی سیاست وہ حقیقتیں ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیٹو کی کہانی صرف اجتماعی دفاع کی کہانی نہیں بلکہ یہ امریکی مفادات، عالمی طاقت کی سیاست اور بدلتی ترجیحات کی ایک طویل داستان ہے۔ صدر ٹرمپ کا حالیہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی اتحاد بھی مستقل نہیں ہوتے، بلکہ وقت اور مفادات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نیٹو باقی رہے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ اتحاد مستقبل میں واقعی عالمی امن کے لیے کام کرے گا یا طاقتور ممالک کے مفادات کا ایک اور ذریعہ بن کر رہ جائے گا۔

دنیا کو آج ایسے اتحادوں کی ضرورت ہے جو جنگ کے بجائے امن، مقابلے کے بجائے تعاون اور طاقت کے بجائے انسانیت کو ترجیح دیں۔ اگر نیٹو واقعی اپنے وجود کو جائز ثابت کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا، ورنہ تاریخ شاید اسے بھی ان اداروں کی فہرست میں شامل کر دے جو بڑے دعوؤں کے ساتھ وجود میں آئے مگر وقت کے ساتھ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتے چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں