49

*کارڈیو میٹابولک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی اور غذائی عادات میں تبدیلی ناگزیر ہے، ماہرین

*کارڈیو میٹابولک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی اور غذائی عادات میں تبدیلی ناگزیر ہے، ماہرین*

*ریفائنڈ تیل، خصوصاً سویا آئل اور دیگر صنعتی طریقوں سے تیار کردہ تیل صحت کے لئے خطرناک اور زیادہ درجہ حرارت پر تیار کئے جانے کی وجہ سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔پروفیسرڈاکٹر مسعودحمید*

*بیماری کی شدت کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت تشخیص، صحت مند غذاؤں اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی*

*موٹاپا ایک دائمی اور خطرناک مرض، دو سو سے زائد بیماریوں کا دروازہ ہے: ڈاکٹر سید ریاض الحسن*

*سگریٹ کے دھوئیں میں چار ہزار سے زائد کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جن میں کم از کم 200 زہریلے ہیں۔ڈاکٹراکمل وحید*

*پاکستان میں موٹاپے کی شرح 58 فیصد جبکہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے مسائل 88 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔پروفیسر قیصر جمال*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے بانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید نے کہا کہ کاربوہائیڈریٹس جسم کو کم معیار کی توانائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ پروٹین اور صحت مند چکنائیاں اعلیٰ معیار کا ایندھن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام چکنائیاں یکساں نہیں ہوتیں، کچھ چکنائیاں صحت کے لیے مفید جبکہ کچھ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر اور پاکستان سوسائٹی آف فزیشنز (سندھ ریجن) کے اشتراک سے جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان “کارڈیو میٹابولک بیماریوں کی روک تھام کو سمجھنا” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم، جامعہ کراچی میں کیا گیا۔ ڈاکٹر مسعود حمید نے کہا کہ پھل کاربوہائیڈریٹس کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم پھلوں کے رس میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کیلے میں تقریباً 20 گرام شکر ہوتی ہے جو چار چائے کے چمچ چینی کے برابر ہے۔ انہوں نے ریفائنڈ تیل، خصوصاً سویا آئل اور دیگر صنعتی طریقوں سے تیار کردہ تیلوں کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تیل زیادہ درجہ حرارت پر تیار کیے جاتے ہیں جس سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پہلے سے گرم کیا ہوا تیل استعمال کرنا انتہائی مضرِ صحت ہے، جس کی تصدیق سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی لٹریچر سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مسعود حمید نے کولڈ پریسڈ تیلوں کے استعمال پر زور دیا، جن میں سرسوں، السی، ناریل اور زیتون کا تیل شامل ہیں، اور کہا کہ اگرچہ یہ تیل مہنگے ہیں مگر صحت کے تحفظ کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہیں۔ علاقائی اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں تیل کا استعمال پاکستان کے قریب ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں نسبتاً کم ہے۔ اسی طرح بھارت اور بنگلہ دیش میں شکر کی کھپت بھی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں ہر 100 میں سے تقریباً 33 افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 20 فیصد ہے، جو طرزِ زندگی اور غذائی عادات میں فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ زیرِ بحث موضوع نہایت اہم ہے کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق انسانی صحت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف میں تیسرا ہدف صحت، بہتر معیارِ زندگی اور فلاح و بہبود سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اوسط متوقع عمر بڑھ کر 62 سے 64 سال ہو گئی ہے، تاہم مجموعی معیارِ زندگی میں کمی تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریاں نہ صرف ذہنی دباؤ اور خاندانی مسائل بلکہ شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بیماری کی شدت کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت تشخیص، صحت مند غذاؤں اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کوآرڈینیٹر پاکستان سوسائٹی آف فزیشن (کراچی چیپٹر) ڈاکٹر سید ریاض الحسن نے کہا کہ موٹاپا محض قوتِ ارادی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور دائمی بیماری ہے جو 200 سے زائد امراض سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے موٹاپے کو “گیٹ وے ڈیزیز” قرار دیا جو ذیابیطس، دل اور جگر کی بیماریوں کی بنیاد بنتی ہے۔ ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپا تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ ماہرین نے میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) پر بھی روشنی ڈالی، جسے پہلے نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز کہا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری عالمی سطح پر 30 فیصد سے زائد آبادی کو متاثر کر رہی ہے اور پاکستان میں ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار 75 فیصد بالغ افراد MASLD میں مبتلا ہیں، جبکہ عمومی آبادی میں اس کی شرح تقریباً 47 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق 20 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں MASLD سے متعلق شعور انتہائی کم ہے، حالانکہ یہی عمر کا گروپ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 95 فیصد سے زائد افراد اپنی بیماری سے بے خبر ہوتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اکمل وحید نے کہا کہ سگریٹ کے دھوئیں میں چار ہزار سے زائد کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جن میں کم از کم 200 زہریلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دل کی بیماریاں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور ہر سال تقریباً 90 لاکھ افراد ان کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
کنسلٹنٹ فزیشن وپاکستان سوسائٹی آف فزیشن سندھ ریجن کے نائب صدر پروفیسر قیصر جمال نے کہا کہ پاکستان میں موٹاپے کی شرح 58 فیصد جبکہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے مسائل 88 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جولمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طرزِ فکر اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے بغیر ان بیماریوں پر قابو پانا ممکن نہیں۔ سیمینار کے اختتام پر پینل ایکسپرٹس، جن میں سابق صدر پاکستان کارڈیک سوسائٹی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ ایچ سومرو، پروفیسر ڈاکٹر شہباز حیدر اور پروفیسر ڈاکٹر عطیہ سبین رحمن شامل تھیں، نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے اور بیماریوں سے بچاؤ پر تفصیلی گفتگو کی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں