*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : سفرِ مکہ سے سفرِ کربلا تک*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
منہاج العلم میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے سفر مکہ تا کربلا پوری تفصیل سے درج ھے آج اپنے کالم کو اس سفر کی زینت بنانے کی سعادت حاصل کررھا ھوں۔۔۔۔ معزز قارئین!! سفر کربلا کو بیان کرنے سے قبل مکہ اور کربلا کے فاصلہ کی طوالت اور دوری کا اندازہ اپنے معزز قارئین کے سامنے رکھنا اس لئے ضروری سمجھتا ھوں کہ آج ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ چند گھنٹوں اور انتہائی آرام دہ ہوگیا ھے جبکہ یہی فاصلہ ماضی میں نہ صرف کئی دنوں کئی ہفتوں اور کئی مہینوں پر مشتمل تھا بلکہ سفر کی انتہائی شدید تکالیف و مشکلات سے بھی نبردآزما ہونا پڑتا تھا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مکہ سے کربلا تقریباً ایک ہزار سات سو اکتیس کلو میٹر ہے۔ یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق اٹھارہ گھنٹے بذریعہ جدید و سبک رفتار گاڑیوں وغیرہ میں طے کیا جاسکتا ہے مگر آج سے ایک ہزار تین سو اکیاسی سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل ترین اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر حضرت امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر آٹھ ذی الحج ساٹھ ہجری یعنی دس ستمبر چھ سو اسی عیسوی کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ شروع کیا۔ سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں چودہ مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے یا لوگوں سے خطاب کیا، معزز قارئین ان چودہ مقامات کا سرسری ذکر کرنے کی کوشش کرونگا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے.…”الصفا”… یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے، شاعر بولا” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔ شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام اپنا سفر شروع کرچُکے تھے۔…”ذات عرق”… مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً باون کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام نے جواب دیا:”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔… “بطن الروما”۔… یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلو میٹر آگے ہے یہاں امام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام کو آگے جانے سے روکا اور بولا” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں” مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔ …”زرود”… حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاؤن تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کیلئے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔ …” زبالہ” … اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جنکا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔ امام نے فرمایا “بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔ اس مُقام پر امام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کردیا گیا ہے اور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔ بہت سے قبائل جو راستے میں امام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام کے ساتھ اُنکے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔ … “بطن العقیق” … اس مُقام پر امام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ “کوفہ میں آپکا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُسکے داخلی اور خارجی دروازے بند کردئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں “یہاں بھی امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔” … “صورت” … اس مُقام پر امام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔ …”شرف”… اس مُقام پر امام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔… “ذو الحسم”… اس مُقام پر امام کی مُلاقات حُر اور اُسکے ایک ہزار سپاہیوں سے ہُوئی جو پیاسے تھے، امام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔ اس مُقام پر امام نے حُر اور اُسکی فوج سے خطاب کیا اور فرمایا، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کرسکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کرسکتے ہیں، اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہو تو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔ حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔…”بیضہ”… امام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم “لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے، خُدائی عہد و پیمان کو توڑے، سنتِ رسول ﷺ کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کہ ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔ امام نے اس مُقام پر مزید فرمایا، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لئے مختص کردیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارے قاصد آئے اور خطوط پہنچے کہ تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔ امام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم ” اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کرچُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کردیگا”۔ امام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کردیا جائیگا، امام نے فرمایا “تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کردو گے”۔ حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام کو کربلا کی طرف گھیر کر لے جاتے رہے۔…”عزیب الحجنات”… اس مُقام پر امام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم “اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہوچُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔…”قصر بنی مقاتل “…فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائیگا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام کو گھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا “بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔… امام کے اٹھارہ سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیا ہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔…”نینوا”… اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لو اور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔ حُر نے امام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہونگے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کررہے ہیں لہٰذا میں آپکو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائیگا۔…”کربلا”…امام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ دو محرم اکسٹھ ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر تین اکتوبر سنہ چھ سو اسی کی تاریخ تھی۔