8

* دروازۂ جہنم —* ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے

* دروازۂ جہنم —*
ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے

دنیا میں بہت سی عجیب جگہیں موجود ہیں، لیکن ترکمانستان کے صحرائے قرہ قوم میں واقع “دروازۂ جہنم” ان میں سب سے منفرد مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا گڑھا ہے جس میں دن رات آگ جلتی رہتی ہے، اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ آگ چند دن یا چند مہینوں سے نہیں بلکہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے روشن ہے۔

یہ گڑھا 1971 میں اس وقت وجود میں آیا جب سوویت ماہرین اس علاقے میں قدرتی گیس کی تلاش کر رہے تھے۔ کھدائی کے دوران زمین اچانک دھنس گئی اور ایک بڑا گڑھا بن گیا۔ جلد ہی معلوم ہوا کہ اس کے اندر سے میتھین گیس مسلسل خارج ہو رہی ہے۔

ماہرین کو خدشہ تھا کہ یہ گیس ماحول اور آس پاس کے لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے انہوں نے گیس کو جلانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ چند دنوں میں تمام گیس ختم ہو جائے گی اور آگ خود بخود بجھ جائے گی، لیکن ایسا نہ ہوا۔

چند دنوں کے لیے جلائی گئی آگ آج بھی روشن ہے۔ پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن گڑھے کے اندر شعلے مسلسل بھڑک رہے ہیں۔ رات کے وقت اس کا منظر انتہائی حیران کن ہوتا ہے۔ دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین کا ایک حصہ پگھل کر آگ میں تبدیل ہو گیا ہو۔

اس گڑھے کا قطر تقریباً 70 میٹر اور گہرائی 30 میٹر کے قریب ہے۔ اس کے اندر سینکڑوں مقامات سے گیس نکلتی ہے جس کی وجہ سے مختلف سائز کے شعلے مسلسل دکھائی دیتے ہیں۔

دروازۂ جہنم آج ترکمانستان کی مشہور ترین سیاحتی جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لوگ صرف اس عجیب منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے صحرا کا سفر کرتے ہیں۔

دلچسپ حقائق:
• یہ گڑھا 1971 سے مسلسل جل رہا ہے۔
• اس کی آگ قدرتی میتھین گیس سے بھڑکتی ہے۔
• رات کے وقت اس کی روشنی کئی کلومیٹر دور سے دیکھی جا سکتی ہے۔
• اسے دنیا کے عجیب ترین انسان ساختہ حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔
• مقامی لوگ اسے “دروازۂ جہنم” کے نام سے جانتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں