عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران
ازقلم غنی محمود قصوری
اس نے خلافت کا جھنڈا تھاما تو اس کے 5 سالہ عہد میں جب عوام کے حالات بہتر ہو رہے تھے تو پھر اچانک سے برسات ہونا بند ہو گئی
بہت دیر تک برسات نا ہوئی،جانور مرنے لگے اور خشک سالی نے ڈیرے جما لئے تھے حتی کہ تیز ہوائیں چلتیں جو راکھ کو اڑا کر ساتھ لے کر آتیں
ہر کوئی پریشان ہو گیا کہ الہی یہ کیا ماجرہ ہے ابھی تو ہم نے خوشحالی کی طرف قدم جمائے ہی تھے کہ
شہر و گردونواح میں شدید قحط پڑ گیا جو لگ بھگ 9 ماہ تک رہا تھا
تب ہر کوئی پریشان تھا اب کیا ہو گا زندگیاں تو ختم ہو جائیں گیں
ہر کوئی سوچ رہا تھا موجودہ کمانڈر انچیف جو وقت کا حاکم بھی تھا، خوب عیاشی کر رہا ہو گا مگر اس حاکم وقت اور کمانڈر انچیف نے یہ تاریخی الفاظ کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیں اور ہر گزرے اور آنے والے حاکم وقت کیلئے نصیحت ہیں
انہوں نے کہا تھا
میں گھی، دودھ اور گوشت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں چکھوں گا جب تک کہ عام مسلمان پہلی بارش سے فیض یاب نہ ہوں اور معمولات زندگی ٹھیک نا ہو جائیں
وہ بہت نڈر،بےباک جرآت مند ہونے کیساتھ بہت زیادہ سخی اور ذہین بھی تھا
لوگوں کی زندگیوں کی خاطر قحط سے نمٹنے کیلئے اس نے اپنی سلطنت کے تمام گورنروں کو حکم بھیجا کہ وہ متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء اور اموال کے ساتھ ہر ممکن مدد کریں
اس کے حکم کی تعمیل ہوئی اور ہر گورنر نے اپنی استطاعت کے مطابق مال بھیجا تو کمانڈر انچیف نے وہ مال لوگوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جس سے فکر و فاقہ کم ہوا اور آخرکار قحط بھی دور ہو گیا
دوران قحط اس نے ایک بات کہی تھی جو قیامت تک آنے والی ہر آفت و مصیبت میں رول ماڈل رہے گی
انہوں نے کہا تھا کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور نہ فرماتا تو میں مسلمانوں کے گھروں میں سے کسی گھر کو نہ چھوڑتا جن کو اللہ تعالیٰ نے (مالی) وسعت دی ہے مگر یہ کہ ان کے ساتھ ان کے شمار کے مطابق فقراء میں سے بھی داخل کر دیتا
اس طرح سے اس کھانے سے دو آدمی ہلاک نہ ہوتے جو کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہوتا ہے
یعنی انہوں نے کفایت شعاری کی ایک اعلیٰ ترین مثال قائم کی اور تاریخ نے دیکھا کہ قحط میں ہر امیر نے ہر غریب کو کھانا کھلایا
پھر جب قحط ختم ہوا اور پہلی برسات ہوئی تو لوگ بارش سے فیضاب ہونا شروع ہوئے
نیز بازار میں غلہ آنا شروع ہوا تو ان کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ ان کے لئے 40 درہم میں خریدا
بقول غلام آپ نے جو عہد کیا تھا قحط کے آغاز میں، وہ پورا ہوا تھا لہذہ اب نا کا حق بنتا تھا اچھا کھانا پینا
اس غلام نے ان کو بتایا کہ ان کا عہد پورا ہو گیا ہے اسی لئے وہ آپ کے لئے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے تو اس پر انہوں نے غلام کو کہا کہ
تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں
مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہوگا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے؟
پھر انہوں نے باوجود خوشحالی کے وہ اشیاء صدقہ کروا دیں اور خود سادہ خوراک سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرتے رہے
میں جن کی بات کر رہا ہوں وہ خلیفتہ المسلیمین جناب حصرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں
وہ عمر جو کہ 13 ہجری کو 25 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت اور کمانڈر انچیف بنے اور محض 24 ہجری کو اپنی شہادت کے وقت لگ بھگ 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت تھے اور ان کی عمر 63 سال تھی
مگر ان کی سادگی کا یہ عالم تھا 16 ہجری کو بیت المقدس کی فتح پر عیسائیوں نے بیت المقدس کی چابیاں حوالے کرنے کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ مسلمانوں کو خلیفتہ المسلیمین خود تشریف لائے تو جناب عمر رضی اللہ تعالی نے اپنے غلام کیساتھ انتہائی عام سواری پر سفر کیا اور کبھی خود سواری پر سوار ہوتے تو کبھی اپنے غلام کو سواری کرواتے اور خود پیدل چلتے
اور جب انہوں نے بیت المقدس کی چابیاں عیسائی پادری سوفرونیوس سے حاصل کیں تو ان کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے ہوئے تھے
آپ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر حکومت کی لیکن آپ کا عدل و انصاف اتنا بے باک تھا کہ ایک عام دیہاتی بھی آپ کو سرعام ٹوک سکتا تھا اور آپ اپنے فیصلوں میں کسی امیر، غریب، رشتے دار یا گورنر کی رعایت نہیں کرتے تھے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موافقت میں قرآن نازل ہوا بہت سی آیات ان کی موافقت میں جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے
اسی لئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ لَوْکَانَ نَبِیٌ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ ہوتے
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دوران خواب جنت میں سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا محل دیکھا تھا نیر
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے غیور ہونے کا تذکرہ فرمایا
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آداب کا بہت خیال رکھتے تھے جب قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بلند آواز میں گفتگو کرنے سے روکا گیا تو اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی اتنی آہستگی سے گفتگو کرتے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دینا پڑتا تھا کہ ذرا اونچی آواز میں بولو تاکہ بات سمجھ آجائے
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خواب میں دودھ پیا جس کی سیرابی آپ نے اپنے ناخنوں تک محسوس کی پھر وہ دودھ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی کو تھما دیا جس کی صحابہ کرام نے تعبیر پوچھی تو نبی رحمت ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے مراد علم ہے اور وقت نے ثابت کیا وہ بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور انہوں نے دین کو عام کرنے کیلئے جہاں پولیس،فوج،ڈاکخانہ آبپاشی،ٹیکس کا نظام متعارف کروایا،وہاں انہوں نے سب سے زیادہ نظام مدارس کیلئے متعارف کروایا تھا
آج کا ہر انسان عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہے کیونکہ تاریخ میں اس سے قبل نا تو کوئی محکمانہ نظام موجود تھا نا ہی اس قدر عادلانہ نظام تھا
26 ذی الحجہ 23 ہجری کو نماز فجر کی امامت کرواتے ہوئے ملعون و مردود ابولولو فیروز نامی مجوسی نے خنجر کے وار سے آپ کو شدید زخمی کیا اور تین دن تک زخمی رہتے ہوئے یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپ نے جام شہادت نوش کیا