مجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، لیکن کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کرجاتا ہے جس سے وہ قانون کی گرفت میں آجاتا ہے۔
تھانہ اتحاد ٹاؤن میں ایک ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس میں ایک بلیک فارچیونر گاڑی کے چھینے جانے کا ذکر ہوتا ہے۔
کہانی کچھ یوں ہوتی ہے کہ گاڑی کو ڈرائیور سمیت قائد آباد کے علاقے سے اغوا کیا جاتا ہے اور اتحاد ٹاؤن کی حدود میں ایک سنسان جگہ پر ڈرائیور کو ہاتھ پیر باندھ کر گاڑی سے اتار کر گاڑی کو لیجایا جاتا ہے۔
ایف آئی آر کے بعد تفتیش ہمارے پاس آتی ہے،
تفتیش شروع کی جاتی ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو بلایا جاتا ہے
چونکہ گاڑی میں ٹریکر لگا ہوتا ہے اور جو کہ ابھی بھی ایکٹو دکھائی دے رہا ہوتا ہے اسلئے ٹریکر کمپنی کے نمائندے کو بھی بلایا جاتا ہے تاکہ گاڑی کو ٹریس کیا جاسکے۔
خوش قسمتی سے لوکیشن ٹریس ہوجاتی ہے اور مطلوبہ جگہ پہنچا جاتا ہے لیکن ہمیں دور دور تک کوئی بلیک فارچیونر دکھائی نہیں دیتی حالانکہ ٹریکر کی لوکیشن مسلسل حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جیسے گاڑی مسلسل چل رہی ہو
صبح سے شام ہوجاتی ہے ٹریکر کی حرکت رک جاتی ہے اور ہم مطلوبہ لوکیشن پہ ہونے کے باوجود گاڑی تک نہیں پہنچ پاتے۔
تھک ہار کر واپس تھانے پہنچتے ہیں اور اگلے دن پھر سے ٹریکر کا پیچھا شروع ہوجاتا ہے لیکن اس بار کمپنی سے نمائندہ دوسرا آتا ہے،
ٹریکر کی لوکیشن ابھی بھی حرکت میں دکھائی دیتی ہے لہذا فی الفور لوکیشن پہ پہنچا جاتا ہے لیکن ابھی بھی وہی صورتحال کہ ٹریکر کی لوکیشن تو ٹھیک ہے لیکن گاڑی کا کوئی اتا پتہ نہیں ہوتا
ٹریکر کمپنی کا نیا بندہ تجربہ کار ہوتا ہے وہ فوراً بات کی تہہ تک پہنچتا ہے اور ہماری موبائل سے آگے ایک لوکل منی بس کو روکنے کا کہتا ہے۔
بس کو روکا جاتا ہے اور اسکی مکمل تلاشی لی جاتی ہے تو اس میں سے ٹریکر برآمد ہوجاتا ہے جو کہ بس کی ایک سیٹ کے نیچے خفیہ طریقے سے ایک چھوٹی بیٹری سے منسلک کرکے چھپایا گیا ہوتا ہے۔
بس کو پسنجرز سے خالی کرکے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو حراست میں لیا جاتا ہے لیکن پوچھ گچھ کے بعد چھوڑدیا جاتا ہے کیونکہ اُنہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا اور ٹریکر جس طریقے سے چھپایا گیا ہوتا ہے اس سے بھی یہی اندازہ ہورہا تھا کہ یہ بس والوں کا کام نہیں ہے۔
وہ بھی ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہیں اس چیز کا بخوبی علم تھا۔
یہ اصل ملزم کا ہی کام تھا جس نے کمال ہوشیاری سے فارچیونر سے ٹریکر نکال کر منی بس میں سب کی نظروں سے چھپا کر ٹریکر فٹ کردیا تھا۔
ٹریکر کی کہانی ختم ہونے کے بعد تفتیش کا رخ بدل دیا جاتا ہے اور فارچیونر کے ڈرائیور کو دوبارہ بلا کر اس سے سے ساری کہانی سنی جاتی ہے۔
ڈرائیو کے مطابق جب اسے اغواء کرکے گاڑی میں پیچھے بٹھایا گیا تو اسکے ہاتھ ،پیر باندھنے کیساتھ ساتھ آنکھوں پر پٹی بھی باندھی گئی، لیکن وہ پٹی ہلکے کپڑے کی تھی جس سے باہر کسی حد تک سب کچھ واضح نظر آ رہا تھا
اور اسکو گاڑی سے اتارنے سے پہلے وہ کسی گنجان علاقے میں گئے تھے جہاں ایک مکان کے کمرے میں بٹھایا گیا تھا اور آنکھوں سے پٹی بھی کھول دی گئی تھی۔
ڈرائیور کے مطابق اگر کسی طرح مجھے وہاں لیجایا جائے تو میں وہ جگہ پہچان لوں گا۔
کیونکہ دن کا ٹائم تھا وہ ، اور جگہ پہچاننے میں آسانی ہوگی مجھے۔
ڈرائیو نے جو نشانیاں اور نقشہ ہمیں سمجھایا اسکے مطابق یہ اتحاد ٹاؤن کا علاقہ قائم خانی تھا
ڈرائیور کو ساتھ بٹھایا اور اللہ کا نام لیکر قائم خانی نکل پڑے
ڈرائیور کے کہنے پر انچارج صاحب نے قائم خانی گراؤنڈ سے زرا آگے گاڑی روک دی جہاں بہت سارے بچے کھیل رہے تھے
(قائم خانی کا یہ علاقہ پختون اکثریت علاقہ ہے اور پختونوں کے بچے ماشاء اللہ سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اسلئے ایسے علاقوں میں بچوں کی خوب رونق لگی ہوتی ہے اور ڈرائیور کے مطابق اس دن بھی بہت سارے بچے کھیل رہے تھے بلکہ کچھ بچے تو گاڑی کے پیچھے بھاگ بھی رہے تھے،
عموماً ایسے پسماندہ علاقوں میں بڑی گاڑیاں بہت کم آتی ہے اسلئے بچوں کیلئے وہ کوئی انوکھی شئے ہوتی ہے)
انچارج صاحب نے کچھ بچوں سے مذکورہ گاڑی کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو ان میں سے کچھ بچوں نے نا صرف گاڑی کے یہاں آنے کی تائید کی بلکہ ہمیں سیدھا مطلوبہ گھر تک پہنچادیا
(یہ بات تو ماننے کی ہے کہ بچوں کی یاداشت بڑی تیز ہوتی ہے)
جس گھر پہ بچے ہمیں لیکر گئے اس گھر میں دو بھائی رہتے تھے جن میں سے ایک شادی شدہ جبکہ دوسرا کنوارہ تھا اور ایک بوڑھی ماں بھی ساتھ رہتی تھی ۔
یہ تین کمروں کا گھر تھا، اور ان میں سے ایک کمرہ وہی تھا جہاں فارچیونر کے ڈرائیور کو کچھ دیر کیلئے رکھا گیا تھا
لیکن مجرم سے ایک چوک ہوگئی تھی کہ اس نے ڈرائیور کی آنکھوں سے پٹی ہٹادی تھی جسکی وجہ سے وہ فوراً کمرہ پہچان گیا۔
گھر میں فی الوقت ایک مرد موجود تھا جو کچھ دن پہلے ہی دبئی وغیرہ سے پاکستان آیا تھا
اسکو حراست میں لیا گیا اور تھانے لاکر انٹروگیٹ کیا گیا۔
لیکن اس شخص کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور ڈرائیور بھی دونوں ملزمان کو چہرے سے پہچانتا تھا اسلئے اس نے بھی اس بات کی تائید کی کہ یہ شخص ان دونوں میں سے نہیں۔
اس شخص کے موبائل فون سے اسکے بھائی کی تصویر دکھانے کو کہا گیا تاکہ ڈرائیور کو دکھائی جائے اور نشاندہی کی جاسکے۔
بھائی کی تصویر دکھانے کیلئے اس نے واٹس ایپ آن کیا اور بھائی کی واٹس ایپ ڈی پی پہ لگی تصویر دکھانے لگا کہ اس سے پہلے ہی تین،چار چیٹ نیچے ایک چیٹ پہ لگی ڈی پی کو دیکھ کر ڈرائیور چیخ پڑا یہی ملزم ہے۔
جب تصویر کو زوم کیا گیا تو یہ انہیں ملزمان میں سے ایک تھا جو اس ڈکیتی میں ملوث تھے اور یہ اس شخص کا رشتے دار تھا جو ابھی زیر حراست تھا،
اس شخص کی نشاندہی پر ملزم کو اسکے گھر سے گرفتار کیا گیا اور اس ملزم کی مدد سے اسکے دوسرے ساتھی کو بھی گرفتار کیا گیا جبکہ گاڑی اجتماع گاہ والی سائیڈ سے ایک سنسان لیکن محفوظ جگہ سے برآمد کرلی گئی
ملزمان کے مطابق قائم خانی میں جس گھر میں تھوڑی دیر کیلئے گاڑی کھڑی کی گئی تھی وہاں گاڑی کا ٹریکر نکالا گیا اور مذکورہ گھر میں اس دن صرف ان دونوں بھائیوں کی بوڑھی ماں تھی جو کہ ملزم کو پہلے سے پتہ تھا اسلئے اس نے مذکورہ گھر کا انتخاب کیا اور ٹریکر نکالنے کے بعد منی بس میں لگانے کا آئیڈیا بھی اسی شخص کا تھا جبکہ یہ ملزم خود ایک سرکاری ادارے کا حاضر سروس ملازم ہے ۔۔۔!