6

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *سندھ بلخصوص کراچی کا سیاسی نامہ بازبان ڈاکٹر سلیم حیدر* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*سندھ بلخصوص کراچی کا سیاسی نامہ بازبان ڈاکٹر سلیم حیدر*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

چند سال قبل مہاجر اتحاد تحریک (ایم آئی ٹی) کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر سے پرنٹ میڈیا کیلئے انٹرویو کا وقت طلب کیا تو انھوں نے دو روز بعد کا وقت دیا میں اپنے وقت پر پہنچ گیا ان سے بنفس نفیس ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، نہایت شفیق شگفتہ نفیس مہذب بااخلاق تہذیب یافتہ باوقار سنجیدہ مفکر محقق اور حالات و واقعات پر بھرپور گرفت میں پایا، سیاست سے سماجی علوم اور دین سے رغبت و محبت کا جذبہ بھی دیکھا تقریباً دو ڈھائی گھنٹے انٹرویو کا سیشن جاری رھا۔ میں نے اپنے متعلق تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرے والد محترم کا تعلق بدایوں اور میری والدہ محترمہ کا تعلق مظفرنگر سیسوان (محلہ سادات) سے تھا یعنی میرے والدین اترپردیش یو پی کے رہنے والے تھے جبکہ والد محترم نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے قبل از پاکستان گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی ہوئی تھی دوران طالبعلمی میں والد محترم تحریک پاکستان میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رھے یہ جان کر ڈاکٹر سلیم حیدر بہت خوش ہوئے۔ آج میں اپنا کالم ڈاکٹر سلیم حیدر کی ایک تحقیقی مشاہداتی رپورٹ پر تحریر کررھا ھوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ
ستاسی میں پہلا بلدیاتی انتخاب جیتا گیا فاروق ستار میئر رازق خان شہید ڈپٹی میئر بنے جب ٹھا غفورا کا نعرہ لگایا ستار افغانی کو چلتا کیا اثھاسی میں انتخاب ہؤا جشن بالخیر منایا گیا نوے میں لاہور جلسے اور مزار قائد سی او پی جلسے کئے اور انتخاب بھی جیتا نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا اٹھائیس مئی بانوے بلیو فوکس کا آغاز ہؤا جہاں حالات نے کروٹ بدلی نواز شریف جنرل آصف نواز جنجوعہ جنرل نصیر اختر چوہدری شجاعت سب حصے دار تھے آپریشن میں اسٹیبلشمنٹ کی منشاء تھی اگلی حکومتوں میں پیپلز پارٹی جیتی کمان نصیر اللہ بابر کے ہاتھ میں آئی ایف آئی ڈی بنائی گئی ہزاروں مہاجر نوجوانوں کو شہید کیا گیا مرتضی بھٹو قتل ہؤا فاروق لغاری نے حکومت برطرفی کردی پھر نواز شریف آیا غوث علی شاہ وزیراعلی رانا مقبول آئی جی آیا آپ حکومت میں کیوں شامل ہوئے جب انہوں نے بانوے آپریشن کیا تھا حکیم سعید کے قتل کا الزام متحدہ پر لگا حکومت سے باہر آگئے معین الدین حیدر کو گورنر راج لگانے کی دعوت دی گئی پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے جب نسلی تعصب برتا تو ہر حکومت میں حصہ کیوں رہے جبکہ آپ کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی تھی پھر نائن الیون نے سیاسی منظر نامہ تبدیل کیا اسٹیبلشمنٹ کو متحدہ کی ضرورت پڑی جنرل مشرف صاحب کے ریفرنڈم میں بھرپور حمایت نے متحدہ کے دن بدل دیئے دوہزار دو سے آٹھ تک چھ سال جماعت کو ایسی طاقت ملی جس کی نظیر نہیں ملتی ارباب غلام رحیم ڈمی وزیراعلی رہے شہر حیدرآباد اور کراچی کا نظام جماعت اسلامی کے بعد آپ کے ہاتھ میں آیا آنکھ کے اشارے پر شہر بند ہوتا تھا طاقت اقتدار پیسہ گھر کی باندی تھی بے نظیر قتل ہوئی کراچی میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی جو عزت پامال ہوئیں جو لوٹا ماری ہوئی کہاں تھے وہ ایک لاکھ جنگجو الطاف بھائی نے فوج کے حوالے کرنے کو بولا تھا پھر سب سے پہلے زرداری کو صدر بنانے کا نعرہ الطاف بھائی نے لگایا کیوں لگایا جب پیپلز پارٹی کی دو حکومتیں ماورائے عدالت ہزاروں مہاجروں کی قتل میں ملوث تھیں تو کیوں تیسری بار یوسف رضا گیلانی کے نائن زیرو آنے پر ووٹ اسے ووٹ دیکر پیپلز پارٹی کی حکومت بنائی جبکہ آپ کے ووٹ کے بغیر وہ حکومت نہیں بناسکتے تھے پھر پیپلز امن کمیٹی نے اسی پیپلز پارٹی کی چھتر چھایا میں ہزاروں مہاجر نوجوان مارے پھر دوہزار تیرہ کے الیکشن اختیار سب کے لئے اور موٹر سائیکل بم دھماکے طالبانئزیشن کے خلاف مظبوط بیانیہ کس کے کہنے پر دیا پھر تیرہ کے الیکشن کے بعد والے آپریشن نے ایسی لنکا ڈھائی جو دوبارہ کھڑے نا کرسکے ان سب سوالوں کے جواب بھی بنتے ہیں منزل کیا تھی مقصد کیا تھا منشور کیا تھا تحریک تھی یا شہری وڈیروں کا ٹولہ تھا کیا آخر چالیس سالہ اقتدار میں حاصل کیا ہوا سوائے لاشوں کے؟ ۔۔۔ معزز قارئین!! شہر کراچی اور سندھ بھر کے مہاجروں اور انکی نسلوں کیلئے جس قدر ظلم و بربریت ھے وہ حقوق انسانی کے زمرے میں آتی ھے حکومت سندھ ہو یا حکومت پاکستان کس طرح کروڑوں کی تعداد میں مہاجروں کیساتھ انسانی حقوق کی پامالی ناانصافی کھلے عام دندناتے کرتے رہیں گے یہ خود کو مسلمان کہلوانے اور کہنے والے کس طرح قرآن کا انکار کرسکیں گے ان میں جہاں سیاستدان ہیں وہیں اسٹبلشمنٹ بھی ہر طاقتور بااختیار پر لازم و ملزوم ھے کہ وہ قرآن سے انکار ہرگز نہ کرے اللہ اور اس کے حبیب پر ایمان لازم رکھے کیونکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے احکامات کی روگردانی اور انکار ایک جانب کافر بناتا ھے دوسری جانب ریاست پاکستان سے غداری اب آپ سب مطالعہ کرلیں سوچ لیں سمجھ لیں دیکھ لیں غور کرلیں کہ اس جمہوری حکومت اور جمہوری نظام نے سوائے پاکستان کو برباد کرنے انتشار پھیلانے اور عوام کو جہنمی بنانے کے علاوہ کچھ نہ دیا ھے یہاں کافروں مشرکوں زندیقوں غیر مذہبوں اور قادیانیوں کو حد سے زیادہ نہ صرف حقوق بلکہ قابض ہونے کا بھی اختیار دیا ھے۔ ایوانوں کو شرابیوں زانیوں موالیوں لٹیروں غاضبوں راشوں اور سود خوروں سے بھر دیا ھے کیونکہ اس ملک میں ستر سالوں سے انتخابات کے نام پس پردہ منتخب کئے جاتے رہے ہیں۔ حکومت ظلم کیساتھ نہیں چل سکتی لاکھ دکھاوے کی جھوٹ بولے لیکن رب کی پکڑ بہت سخت ھے۔ اللہ ان اسٹبلشمنٹ کو عقل و شعور اور ایمان کی دولت عطا فرمائے کہ بس بہت ہوگئی رعایت سہولت تعاون کہ اب کوٹہ سسٹم جڑ سے ختم ہونا چاہئے یہ دیہی شہری کا دھوکہ ختم ہونا چاہئے آدھے سے زیادہ دیہی لوگ کراچی سمیت دیگر صوبوں کے دارالخلافہ شہر میں بس چکے ہیں یہ بہت بڑا عوام سے دھوکہ ہورھا ھے ناانصافی و ظلم کیساتھ پاکستان کبھی بھی ترقی و خوشحالی کی جانب نہیں بڑھ سکتا یہ ایم کیو ایم مہاجروں کی قصوروار اور مجرم ھے کیونکہ اسکا یہی نعرہ تھا کوٹہ سسٹم ختم کرو یہ ناانصافی اور ظلم پر ھے، مہاجروں نے ان سب سے قطعی تعلق ختم کردیا ھے۔ پاکستان کے مقتدر اور بااختیاروں کو اس وطن عزیز اور ہر قوم ہر نسل ہر زبان ہر مسلک ہر مذہب سب کیساتھ عدل و انصاف کیساتھ نظام مروج کرنا چاہئے کیونکہ روز محشر آپ ہی سب سے زیادہ جوابدہ ہونگے۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں