9

قانون کی بالادستی تحریر:اللہ نوازخان

قانون کی بالادستی
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راز قانون کی بالا دستی میں چھپا ہوتا ہے۔کوئی بھی فرد ہو یا ادارہ،حکمران ہو یا عام آدمی،قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہوتا۔جن معاشروں میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔قانون کی بالادستی بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر معاشرے میں نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اورنہ بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں،کوئی کسی سے بہتر نہیں ہوتا۔جرم اگر عام آدمی سے ہو یا کسی طاقتورسے،اس کو سزا دی جائے۔اگر کمزور کو سزا دی جائے اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے تو اس کو ناانصافی کہا جاتا ہے۔عدل و انصاف جہاں ناپید ہو جائے وہاں تباہی لازمی آتی ہے۔جہاں قانون کے حکمران ہی ہوتی ہے وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔جہاں قانون نافذ ہو وہاں عدالتیں آزاد ہوتی ہیں اور میرٹ کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔وہاں بنیادی حقوق کے تحفظ کابھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔قانون کو بلا تفریق نافذ کیا جائے تو جرائم کم ہو جاتے ہیں۔جرم کرنے والے کو اگر سزا ملے توکوئی بھی جرم کرنے سے قبل ہزار بار سوچے گا۔تمام انسان برابر ہیں،کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔محسن انسانیت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےآخری خطبہ حجتہ الوداع میں ارشاد فرمادیاکہ تمام انسان برابر ہیں۔کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔قانون کی حکمرانی ختم ہو جائے تو قتل وغارت،جھوٹ،حق تلفی،زمینوں پر قبضےاور دیگر کئی جرائم عام ہو جاتے ہیں۔طاقتور اپنی من مانی شروع کر دیتا ہے اور کمزور کو جینے کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔قانون لحاظ سے ہر انسان اپنی مرضی کا نام،کاروبار یا مذہب اپنا سکتا ہے۔جن معاشروں میں قانون موجود نہ ہو تو وہاں جرم بھی شرمندگی کی بجائے فخر کا سبب بن جاتا ہے۔جن معاشروں میں قانون پوری قوت سے نافذ ہوتا ہے وہاں جرم کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔
قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔حق تلفی عام ہونے سے معاشرے کی سلامتی اختتام پذیر ہونے لگتی ہے۔مثالیں موجود ہیں جہاں قانون نافذ نہیں تھا وہ قومیں تباہ ہو گئیں۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے”جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو”(النساء.58) اللہ تعالی نے بھی حکم دیا ہے کہ عدل و انصاف کیا جائے اور عدل و انصاف تب کیاجا سکتا ہے جب قانون نافذ ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ارشادفرمایا”تم سے پہلےقومیں اس وجہ سے تباہ ہو گئیں کہ اگر کوئی بڑا جرم کرتا تو چھوڑ دیا جاتا،معمولی آدمی جرم کرتا تو اس کو سزا دی جاتی”(بخاری) اب بھی اگر کوئی جرم کرے چاہے وہ کتنا بڑاآدمی کیوں نہ ہو،اس کو سزا دی جائے تووہ معاشرہ مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں قانون کا نفاذ ہوتا ہے۔مذہب،جنس، زبان،رنگ،نسل کی وجہ سے جرم کرنے والا بچ نہیں پاتا۔حکمران بھی جواب دہ ہوتے ہیں،اگر حکمران یاکوئی بڑا فرد جرم کر لے تو اس کو سزا دی جاتی ہے۔سزا معاف کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔جواب دہی کا تصور پیدا ہوتا ہے اور حقدار کو حق ملتا ہے۔
قانون کی پاسداری سے مساوات یعنی برابری کا تصور پیدا ہوتا ہے۔جہاں قانون مکمل طور پر نافذ نہ ہو وہاں آزادی محفوظ نہیں ہوتی۔آزادی کے لیے ضروری ہے کہ قانون مکمل طور پر لاگو ہو۔دانشوروں نے بھی قانون کی بالادستی پر زور دیا ہے۔جان لاک کہتا ہے”جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی،وہاں آزادی بھی محفوظ نہیں رہتی”جان لاک کے مطابق آزادی کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی ہو۔نیلسن منڈیلہ کے مطابق” قانون کی حکمرانی جمہوریت کی بنیاد ہے”مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے مطابق”نا انصافی دراصل انصاف کے قانون کی خلاف ہے جو کسی بھی جگہ موجود ہو”سسرو کہتا ہے،”ہم سب قانون کے غلام ہیں تاکہ ہم آزاد رہ سکیں”البرٹ آئین سٹائن کے مطابق”قانون کی بنیاد انسان کی فطری اخلاقیات پر نہ ہو تو یہ محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے”قانون اگر نافذ ہو تو ایک کمزور آدمی بھی اتنا مطمئن ہوتا ہے جتنا طاقتور اور بااختیار فرد ہوتا ہے۔عدالتیں دباؤ یا لالچ کے بغیر فیصلے دینا شروع کر دیتی ہیں۔قانون یہ نہیں ہےکہ کاغذات میں لکھا ہوا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ قانون موجود ہے،بلکہ قانون پر عمل ضروری ہے۔مثال کے طور پرایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے۔قاتل کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے،اگر سزا نہیں مل رہی تو قانون موجود تو ہے لیکن وہ عملی طور پر نافذ نہیں۔بعض اوقات قانون کی کمزور شقوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔جن معاشروں میں قانون کی حکمرانی ہو تو وہاں مجرم کا قریبی افراد بھی ساتھ نہیں دیتے۔جن معاشروں میں قانون کی حکمرانی نہ ہو تو بڑے سے بڑے مجرم کا بھی ساتھ دینا فرض سمجھا جاتا ہے۔ایک شخص کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو،اس کا ساتھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ سزاؤں سے بچ سکے۔مقدمات سے بری کرنے کے لیے تعلقات استعمال کیے جاتے ہیں اور سرمایہ بھی خرچ کیا جاتا ہے۔قانون نافذ کرنے کے لیے پوری قوم کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے۔جن ممالک میں قانون کی بالادستی کی پرواہ نہیں کی جاتی وہاں بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔نفرتیں اور دشمنیاں بے انتہا بڑھ جاتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔انسانی بنیادی حقوق متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔قانون کی بالادستی کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔قانون کو پامال کرنا انسانیت کوپامال کرنے کے مترادف ہے۔قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہیے،چاہے کتنا ہی بڑا نقصان نہ ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں