11

مسائل حل نہ کرنا اصل مسئلہ ہے۔ تحریر: اللہ نواز خان

مسائل حل نہ کرنا اصل مسئلہ ہے۔
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
غربت،تعلیمی بحران،میرٹ کی پامالی،ناانصافی یا دیگر مسائل پاکستان میں موجود ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہ مسائل موجود ہیں بلکہ اصل مسئلہ ان کو حل نہ کرنا ہے۔ہر ایک دوسروں کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔یہ درست ہے کہ حکومت ذمہ دار ہے کہ مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔لیکن حکومت کو بھی مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔قوم میں ایک یہ فکر پائی جاتی ہے کہ حکومت ہی تمام مسائل حل کرے یا یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ سب قسمت ہے۔اس طرح کی سوچ مایوسی پیدا کرتی ہے،مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ہمیں خود بھی کوشش کرنا ہوگی کہ مسائل کو حل کریں۔کوئی دوسرا ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا،ہمارے مسائل ہم نے ہی حل کرنے ہیں۔اگر ہم نے غربت کو ختم کرنا ہے تو فوری طور پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔لازمی نہیں کہ پاکستان کی عوام ہمیشہ غریب رہے۔یہ بھی لازمی نہیں کہ ہمیشہ نا انصافی موجود رہے۔کوئی بھی مسئلہ ہو،حل کیا جا سکتا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا درست نہیں بلکہ کام کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔شکوہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں کام نہیں ملتا،یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں۔کام کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ فوری طور پر کام کے عوض ہمیں بڑی رقم حاصل ہو جائے۔اگر کم رقم مل رہی ہو تو کام کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔کوئی بھی مشکل کام ہو،کرنے سے انکار نہیں کیا جائے۔محنت کی عادت اپنا کر ہی بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔کچھ نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کو فوری طور پر رقم مل جائے،تاکہ وہ بہت بڑا کاروبار کر سکیں۔کاروبار چھوٹے پیمانے پر بھی کیا جا سکتا ہے۔بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھیک تو مانگ لی جاتی ہے لیکن کام نہیں کیا جاتا۔
حکومت بھی ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر قوم کا خون نچوڑ رہی ہے۔صرف بجلی کی قیمتوں کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنے زیادہ ٹیکس کیوں لگائے جا رہے ہیں؟یوں لگتا ہے کہ حکومت نے سارا پاکستان جس رقم پر چلانا ہے وہ بجلی کے بلوں سے وصول کی جائے۔تعلیم کا حال بھی بہت برا ہے۔تعلیمی بجٹ انتہائی کم ہے،حالانکہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کو قرضوں پر چلایا جا رہا ہے اور قرض کے حصول کو حکمران بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔حکمرانوں کی مراعات میں اضافہ عوام کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔اگرمراعات میں کمی کر دی جائے تو وہ رقم بہتر کاموں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔حکومت صحت اور تعلیم کو پہلی ترجیح دینے پر تیار ہی نہیں۔تعلیم کے بجٹ کے ساتھ صحت کا بجٹ بھی بہتر نہیں۔دنیا بھر میں تعلیم کے ساتھ صحت کو بھی توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان میں ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ تعلیم یا صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔حکومت کی پالیسیاں بھی غربت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔بہتر قسم کی پالیسیاں بنا کر ملک میں غربت کی شرح کم کی جا سکتی ہے۔اس قسم کی سکیمیں لانچ کر دی جاتی ہیں،جو غربت میں کمی نہیں کر سکتیں۔سب سے بڑی مثال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دی جا سکتی ہے۔اربوں روپے دیے جا رہے ہیں،اگر اسی رقم سے نئی فیکٹریاں بنا دی جائیں یا کوئی دیگر منصوبہ شروع کر دیا جائے تو ملک میں غربت ختم نہ سہی، کم تو کی جا سکتی ہے۔حکمران یہ جواز دے سکتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا رہی ہے،یہ جواز سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح غربت ختم نہیں ہو سکتی۔بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم کی بندش کی وجہ سے احتجاج بھی ہو سکتا ہے لیکن پہلے احتجاجوں نے حکومت کو کیا نقصان پہنچایاہے؟دیگر سکیمیں بھی لانچ کی گئی ہیں،لیکن وہ بھی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔
اگر مسائل حل کرنے ہیں تو حکومت اور عوام دونوں کو مل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔عوام کی بڑھتی مایوسی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔نوجوانوں کو اگرملازمت نہیں ملتی یا روزگار کا کوئی ذریعہ موجود نہیں،تو ان کو ہنر سیکھنے چاہیے۔مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہنر سیکھ کر فائدہ مند شہری بنا جا سکتا ہے۔پاکستان کا ہر شہری عملی قدم اٹھائے اور یہ تہیہ کر لےکہ ہم نے ملک کو عظیم تر بنانا ہے تو ہمیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔قوم میں تعصب کو ختم کرنا ہوگا۔سندھی،پنجابی،بلوچی یاپٹھان کی بجائے پاکستانی بنناہوگا۔لسانی تعصب،علاقائی تعصب،سیاسی تعصب کے علاوہ تمام تعصبات کو ختم کرنا ہوگا۔حکمران اگر ناانصافی کر رہے ہیں،تو بحیثیت قوم ہماری کمزوری ہے۔انصاف کے لیے اتحاد ضروری ہے اور بغیر اتحاد کیے انصاف کا ملنا انتہائی دشوار ہے۔تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت نہ ملنے کے شکوے کر کے مایوس ہو رہے ہوتے ہیں،حالانکہ ان کا شکوہ درست نہیں کہا جا سکتا۔نوجوانوں کو دوران تعلیم ہنر سکھایا جائے تو وہ کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔فارغ وقت میں بالغ افراد کوئی بھی کام کریں تو انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان میں تعلیم کی بہت زیادہ کمی ہے۔کرورڑوں افراد ناخواندہ ہیں۔بالغ افراد تعلیم کی طرف توجہ دے کر ملک کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں،حکومتی سطح پر بھی تعلیمی بالغاں کے سنٹر بنائے جائیں۔۔حکمرانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے بہتری کی طرف قدم نہ بڑھائے تو مستقبل ان کے لیے بھی خاصہ خوفناک ہوگا۔اس کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسائل کو حل نہ کرنا مسئلہ ہے۔غربت،ناانصافی یا دیگر مسائل موجود ہیں اور یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دیگر ممالک کا بھی مسئلہ ہے۔بہت سے ممالک کے حکمرانوں اور عوام نے مشترکہ کوششوں سے مسائل حل کر لیے ہیں۔جن ممالک میں مسائل کو حل کرنےکے لیے کوششیں نہیں کی گئیں،وہ ذلت کا شکار ہیں۔اب بھی بہت کچھ باقی ہے،فوری طور پر کوشش شروع کر کے سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں