14

دل۔کی بات۔خ ح شہزاد مشن حسینی کی تکمیل کے لیے ضروری ھے

دل۔کی بات۔خ ح شہزاد
مشن حسینی کی تکمیل کے لیے ضروری ھے کہ کربلا کو منانے کے ساتھ فکر حسینی۔پیغام حیسنی۔مقصد شہادت امام حسین علیہ اسلام کے لیے بھی کام کیا جائے۔کیونکہ کربلا کا واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ مکمل اسلام ھے۔نمرود۔فرعون۔ابو جہل۔اور یزید تک اور آج کے ھر دور کے یزید کے سامنے کلمہ حق کہنا اور پھر حق بات پر ڈٹ جانا اور ہر قربانی دینا ھی مشن حسینی کی تکمیل ھے۔ایسا نہیں کہ یزید لعنتی مرگیا قصہ تمام ھوا نہیں بلکہ یزید ایک فکر کا نام ھے اور امام حسین علیہ اسلام بھی ایک فکر ھے۔اب جو کوئی جس فکر پر کام کرے گا اس کا حشر اسکے ساتھ ھوگا۔آج ھم دیکھتے ھیں کہ عالم اسلام کو ظلم وستم کی چکی میں پیسا جارھا ھے۔غزہ سے کشمیر۔لبنان شام۔لیبیا۔وغیرہ میں ظلم وستم پر آپ اگر کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تو آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کس سوچ وفکر کے مالک ھیں۔فکر امام حسین علیہ اسلام کا تقاضا ھے کہ ھم ہر ظلم کے خلاف آواز حق بلند کریں۔حق کا ساتھ دیں۔مسلمانوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں۔اگر ھم اس فکر سے عاری ھیں اس احساس سے غافل ھیں تو پھر حسینی کہلانے کا کیا فاہدہ۔اب کچھ لوگ صرف محبت نام کی محبت کو بھی نجات کا ذریعہ بتاکر مسلمانوں کو غافل ںے عمل اور اسلام کے اعمال سے دور کررھے ھیں۔آپ بتاھیں کہ ایک مسلمان لوٹ مار۔کرپشن۔جھوٹ۔زنا۔شراب۔وغیرہ کا عادی ھو اور پھر خود کو عاشق رسول اور عاشق حسین سمجھے تو اسکی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ھے۔بطور مسلمان ھر برائی سے بچنے کی کوشش کرنے اور نیک اعمال کرنے کی کوشش کرنا لازم ھے۔صرف مسلمان کہلانا کافی نہیں ۔آج ھم صرف مسلمان ھیں اور کام کؤئی بھی مسلمانوں والا نہیں ھے۔اس لیے تو پاکستان کی اسمبلی میں ایک ہندو کھڑا ھوکر کہتا ہے کہ میں کیسے مسلمان ھوجاؤ جب کہ تم خود سود کو جائز قرار دے کر اپنے اللہ اور رسول ﷺسے جنگ میں مصروف ھو۔ہی حال ھمارا تمام معاملات میں ھے۔اس لیے ھمارے زوال کا سبب بھی بے عملی ھے۔روزمرہ معاملات میں ھم پرلے درجے کے بے ایمان ھیں۔اور عبادات میں بھی ریا کاری اور دکھاوا ھے۔جہاد سے منہ موڑ کر ھم سو سال سے ذلیل ھورھے ھیں۔کفار کی دوستیاں ھمارے لیے اھم ھیں۔اور مسلمانوں کے لیے نفرت ھے۔تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری ھے۔علمائے کرام ۔نعت خوان۔ذاکر۔سب پیٹ کا دوزخ بھرنے میں مصروف ھیں۔جب عمل کی بات کی جائے تو صرف محبت ھی انکے نزدیک کافی ھے۔ھم قرب قیامت کے آس پاس ھیں۔تو یہ فتنوں کا دور ھے۔ظالم کو کوئی پوچھنے والا نہیں اور مظلوم کی کوئی داد رسی کرنے والا نہیں۔ظلم جبر سے آج بھی حکومتیں حاصل کے جارھی ھیں۔آج بھی حق کا علم بلند کرنے والے کو راتوں رات غائب کردیا جاتا ھے۔تقریبا تمام آئمہ کرام کو وقت کے حکمرانوں نے ظلم وستم کا نشانہ بنایا اور آج آپ دیکھ لیں کہ ظالم حکمرانوں کو کوئی جانتا تک نہیں۔اور آئمہ کرام کا کام اور نام آج بھی زندہ ھے۔اسی طرح آج اس گے گزرے دور میں جو کوئی مشن حسینی کا علم اٹھاتا ھے۔تو اس کے ساتھ کیا جاتا ھے یہ آپ ابھی آپ کے سامنے مریدکے میں ھوا ھے۔کیا کسی حسینی نے اواز حق بلند کیا؟؟؟؟؟یہ اسی بے عملی کی وجہ ھے کہ صرف محبت کافی ھے لیکن اسلام عمل کا نام ھے۔کیونکہ حضرت امام حسین علیہ اسلام نے اپنی اور اپنے اہل وعیال کو قربان کرکے ثابت کیا کہ اسلام صرف محبت کا نام نہیں بلکہ عمل اور قربانی کا نام ھے۔مشن حسینی کی تکمیل کے لیے ضروری ھے کہ ھم صرف پانی اور لنگر تقسیم نہ کریں بلکہ امام حسین علیہ اسلآم کے اصل مشن ھر دور کے یزید کے خلاف علم بلند کریں۔حق بات پر ڈٹ جاھیں۔مظلوموں کا ساتھ دیں۔غزہ کے مظلوموں کے حوالے سے خاموش رھنے والا آگر آج سبیل اور لنگر تقسیم کرکے خود کو حسینی سمجھتا ھے تو یہ اسکی خود ساختہ محبت ھے۔جس کا مشن حسینی سے کوئی تعلق نہیں ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں