*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: لارنس آف عریبیہ اور عمران خان۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دشمنانِ پاکستان کو گورا نہیں کہ پاکستان مضبوط ھو اور مضبوط ہاتھوں میں محفوظ رھے الحمدللہ ہماری افواج پاکستان دنیا کی سپر پاور اور سپر پروفیشنل افواج میں صفِ اوّل حیثیت رکھتی ھے اللہ تبارک تعالیٰ اور رسولِ خدا ﷺ کا پاک افواج پر سایہ رحمت اور توجہ رہتی ھے یہی سبب ھے کہ اللہ تبارک تعالیٰ اور رسولِ خدا کی توجہ رحمت کی بدولت دنیا کے کم وبیش چھپن اسلامی ممالک میں صرف پاکستان ہی ایٹمی قوت کا مالک ھے اور جدید خطوط پر اسلحہ سازی سے مزین بھی ھے، دوطرفہ دشمن مخالف ممالک کی کاروائیوں کے نیتجے میں آئے روز ہمارے بہادر نڈر جانفشاں ایمان افروز سپاہی اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے آرھے ہیں اب سب شہداء کو سلام اور انکی فیملی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہماری میڈیا انڈسٹری کا ملک ، ریاست اور افواج کے معاملہ میں کردار انتہائی مایوس کن افسوسناک اور تکلیف دہ رھا ھے ہونا تو یہ چاہئے ملک کی بقاء و سلامتی اور تحفظ میں اپنا مثبت موثر کردار ادا کرتے لیکن ایسا نہیں ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! عمران خان اور لارنس آف عریبیہ میں فرق کچھ نظر نہیں آتا۔ ویسے تو عمران خان اور لارنس آف عریبیہ میں بہت مماثلت ہے مثلا ۔۔۔۔ انگریزوں نے سنہ انیس سو پندرہ عیسوی اور سنہ انیس سو سولہ عیسوی میں ترکوں کے ہاتھ جنگ میں شکست کے بعد سازش کے ذریعے مسلمانوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مہم لارنس آف عریبیہ کو ملی ۔۔۔۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد اور جنگ میں خوارج کی شکست کے بعد پاکستان کو سازش کے ذریعے ختم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ مہم عمران خان کو ملی ۔۔۔۔ لارنس آف عریبیہ کا خاندان برطانیہ میں تھا۔ وہ برٹش آرمی میں کرنل تھا۔ وہیں کا پڑھا ہوا اور انہی کا وفادار تھا۔ برطانیہ ہی اسکی پشت پناہی کرتا رہا ۔۔۔۔۔ عمران خان کا خاندان برطانیہ میں مقیم ہے۔ وہیں کا پڑھا ہوا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف برطانیہ، امریکہ اسرائیل ہی عمران خان کے لیے متحرک ہیں ۔۔۔۔ لارنس آف عریبیہ نے عربوں کو آزادی کا نعرہ دیا تھا۔ انہیں ترک فوج کے خلاف ابھارا۔ اسی نعرے نے بعد میں خلاف توڑ دی۔ عربوں کو آمادہ کرنے کے لیے اس نے ان میں قوم پرستی کو ابھارا تھا ۔۔۔۔ عمران خان نے اپنے پیروکاروں کو حقیقی آزادی کا نعرہ دیا۔ انہیں پاک فوج کے خلاف ابھارا۔ اب وہ مسلسل پاکستان کے ٹوٹنے یا کم از کم دیوالیہ ہوجانے کی پیشن گوئیاں کر رہا ہے۔ ساتھ ساتھ پی ٹی ایم اور وائی وائی سی جیسی تنظمیوں اور انکے بیانیے کو سپورٹ کر کے لسانیت کو بڑھاوا دینے کی کوشش میں ہے ۔۔۔۔۔ ابتداء میں لارنس آف عریبیہ کی تحریک کو زیادہ پزیرائی نہیں ملی تو اس نے اچانک مذہب کا سہارا لے لیا اور بصرہ کی ایک مسجد میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد عرب تیزی سے اس کے گرد اکھٹے ہونا شروع ہوئے۔ اس کو مسیحا ماننے لگے حتی کہ اس کے پیچھے نمازیں بھی پڑھنی شروع کر دیں ۔۔۔۔۔ عمران خان کو ابتداء میں پزیرائی نہیں ملی جس کے بعد اس نے مذہب کا سہارا لے لیا۔ سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی میں اچانک اس نے ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کردیا اور اس کے ہاتھوں میں تسبیح نظر آنے لگی پھر پاکستان کی جذباتی عوام تیزی سے اس کی جانب راغب ہونا شروع ہوگئی۔ بہت سوں نے اس کو مسیحا تک ماننا شروع کردی ۔۔۔۔ عربوں کو مزید بےوقوف بنانے کے لئے لارنس آف عریبیہ نے عربوں جیسا لباس پہننا شروع کر دیا۔ عربوں نے کہا ترکوں کا تو لباس بھی تک ہم سے الگ ہے۔ لیکن یہ شخص ہم ہی میں سے ہے ۔۔۔۔۔ عمران خان نے اپنی شلوار قمیض اور پشاوری چپل کی اپنی طاقتور سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے خوب تشہیر کروائی۔ پی ٹی آئی کارکن کہنے لگے کہ باقی لیڈر تو کوٹ پینٹ پہنتے ہیں لیکن یہ ہم ہی میں سے ہے ۔۔۔ لارنس آف عریبیہ نے جاسوسی کا ادارہ قائم کیا تھا جس میں اس کے ساتھ کام کرنے والے عرب اپنی قوم میں ترکوں کے خلاف جھوٹ، نفرت اور غلط معلومات (ڈس انفارمیشن) پھیلاتے تھے ۔۔۔۔۔ عمران خان نے بہت بڑا سوشل میڈیا نیٹ ورک قائم کیا جو اپنی فوج کے خلاف عوام میں جھوٹ، نفرت اور غلط معلومات پھیلاتا ہے ۔۔۔ لارنس آف عریبیہ جاسوسی بھی کرتا رہا اور مسلمانوں کی حساس معلومات انگریزوں کو پہنچاتا رہا۔ جیسے بغداد سے برلن جانے والی انتہائی اہم ریلوے لائن کے بارے میں مکمل اور پل پل کی خبریں دیتا رہا بلکہ اس مقصد کے لئے اس نے وہاں آثار قدیمہ کی کھدائی کا بہانہ بھی کیا ۔۔۔۔ عمران خان نے پاکستان کی حساس ترین معلومات انگریزوں کو دیں۔ خاص طور پر سی پیک معاہدوں کی خفیہ تفصیلات امریکہ کو دیں۔ پاکستان کا سائفر کوڈ دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ اسٹیٹ بینک تک آئی ایم ایف کو رسائی دی ۔۔۔۔۔ لارنس آف عریبیہ نے عرب نوجوانوں کو ساتھ رکھنے کے لئے خوبصورت لڑکیوں کا سہار لیا۔ ان میں خاص طور پر اس کی ایک یہودی ساتھی لڑکی بہت مشہور ہوئی جس پر عرب بہت بھروسہ کرتے تھے اور جو بہت خوبصورت تھی ۔۔۔۔ عمران خان نے ڈی چوک اور زمان پارک کو لڑکیوں سے آباد رکھا۔ عجیب بات ہے کہ پی ٹی آئی کے نوجوانوں میں اس وقت سب سے معتبر خاتون عمران خان کی پہلی بیوی جمائما مانی جاتی ہے جو کہ اصلاً یہودی ہے ۔۔۔۔ یہ سب کر کے بلاآخر وہ طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جہاں تک وہ چاہتا تھا۔ اس کو مکہ کے گورنر یعنی ہاشمیوں تک رسائی مل گئی۔ ان کو اپنے زور بیان سے متاثر کر کے بلاآخر بغاؤت کروانے میں کامیاب ہوگیا ۔۔۔۔ عمران خان یہ سب کر کے فوج کی قیادت کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب رہا۔ جنرل ظہیر السلام عباسی اور جنرل باجوہ وغیرہ بھی اس کے دام میں آگئے گو کہ باوجوہ اس کے دام سے نکل آیا تھا لیکن تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ عمران خان بھی ناکام بغاؤت کروانے میں کامیاب رہا تھا۔
ان دونوں میں فرق کیا ہے؟؟ لارنس آف عریبیہ انتہائی ذہین اور بروقت درست فیصلے کرنے والا مستقل مزاج شخص تھا جبکہ عمران خان انتہائی احمق اور غلط ترین فیصلے کرنے والا نہایت نامعقول و متلون مزاج انسان ہے جو نہ اپنے کسی فیصلے پر قائم رہ پاتا ہے نہ اپنی کسی بات پر اور یہی وہ فرق ہے جس نے عمران خان کو ناکام کیا اور وہ شکنجے میں بھی آگیا۔ عمران خان کی اکلوتی خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو غلط بات یا جھوٹ پر بھی قائل کرسکتا ہے بلکل کسی شیطان کی طرح لیکن اس کی حماقتیں اور غلط فیصلے اس کو لے ڈوبے! یہ بھی اتفاق و عجب ہے کہ لارنس آف عریبیہ اور عمران خان کی شکلیں بھی آپس میں بہت ملتی ہیں۔۔۔!!