9

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) سکرنڈ میں “سندھی و اردو مشاعرہ”اور سید انوار حسین انجم نقوی پبلک ریلیشن سیکریٹری

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)
سکرنڈ میں “سندھی و اردو مشاعرہ”اور سید انوار حسین انجم نقوی پبلک ریلیشن سیکریٹری NBPآفیسرز فیڈریشن آف پاکستان کی 60 سالہ عمر پوری کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے موقع پر اعزاز میں تقریب۔شعراء نے اشعار کے ذریعے سندھ دھرتی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔پرائم میڈیا ہاؤس کے زیرِ اہتمام سندھی اور اردو زبان کے شعراء کا ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور معزز شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی محمد شبیر راجپوت اور اعظم راول نے کی۔مشاعرے میں شعراء نے اپنی شاعری کے ذریعے سندھ دھرتی، سندھو دریا اور سندھ کی ثقافت و تہذیب کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔معروف شاعر اور تاریخ نویس مانک ملاح نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سیاست جاگیرداروں کی لونڈی بن چکی ہے جبکہ ادب غریب کا بیٹا بن گیا ہے، جس کے باعث دونوں کا ملاپ مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت بھی مراعات کی محتاج بنتی جا رہی ہے، تاہم ایسے مشکل دور میں بھی کئی قلمکار اپنے قلم کی حرمت برقرار رکھتے ہوئے سندھ کے دکھوں اور مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔شاعر جہانگیر داہری نے کہا کہ سندھ محبت، رواداری اور بھائی چارے کی دھرتی ہے، یہاں نفرتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ بابو حسین ہمدم نے اپنے اشعار کے ذریعے سامعین سے خوب داد وصول کی۔نامور شاعر کنور راشد مکرم نے سندھو دریا پر کینالوں کی تعمیر میں سہولت کاری کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھو دریا اور سندھ ہماری زندگی اور بقا کی علامت ہیں، اس لیے ان کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
صحافی غلام قادر چانڈیو نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سندھ پر اپنا خاص کرم فرمائے، نفرتوں کا خاتمہ ہو اور عوام دشمن حکمرانوں سے نجات ملے۔
پرائم میڈیا ہاؤس کے سربراہ شبیر احمد راجپوت نے کہا کہ سندھ کے شاعروں نے ہر مشکل وقت میں سندھ کا ساتھ دیا ہے اور اپنی تخلیقات کے ذریعے عوام کی آواز بلند کی ہے۔
شاعر پریتم قاضی نے کہا کہ سندھ آج بھی کرب و آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے جبکہ راؤ شوکت مصطفیٰ نے کہا کہ جہاں یزید ہوگا وہاں حسینؓ بھی ہوں گے۔ شاعر نور کیریو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم رہیں یا نہ رہیں، سندھ ہمیشہ زندہ رہے گی۔
مشاعرے میں سانول کیریو، اعظم راول، شیراز احمد شام سرہاڑوی، فیاض احمد، شوکت مصطفیٰ، بوش سرہاڑوی، ایاز احمد ساحل اور دیگر شعراء نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور سندھ دھرتی کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر شاعر سید انوار حسین انجم نقوی نے بھی اپنی دلفریب شاعری سے محفل کو چار چاند لگا دیئے،جبکہ تمام مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک کے تحائف پیش کیے گئے۔تقریب خوشگوار، ادبی اور ثقافتی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور حاضرین نے اس نوعیت کی مزید ادبی سرگرمیوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔جبکہ مشاعرے میں سامعین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی جن میں، پریس کلب کے صدر غلام حیدر سولنگی،سابق صدر رضا محمد سیال، ذیشان ایوب خانزادہ، ڈاکٹر عامرخانزادہ،رانا اصغر ،رانا مصطفی ،صغیر احمد راجپوت، خلیل احمد راجپوت، عارف آرائیں،عابد بھٹی،رانا یاسر، رانا ناصر اور دیگر شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں