تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے
ہادیہ کو آرٹ سے عشق کی حد تک لگاو تھا اس کے اگر بس میں ہوتا تو وہ صرف ہمہ وقت آرٹ ہی پڑھتی رہتی مگر کہتے ہیں ناں کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا. تو اسی طرح ہادیہ کو بھی باقی زمانے کی چال کے ساتھ ساتھ چلتے چلتے اردو، انگریزی، حساب کتاب کے پھندوں میں گرہیں لگانا بھی ضروری ہو گیا تھا. شہر کا سب سے بڑا سکول بڑی بڑی فیسیں بچوں سے وصول کے اساتذہ کو چھوٹی چھوٹی تنخواہوں میں قابو کرنے والے کی شان بھی عجب ہی تھی سلیبس آکسفورڈ کا اور لوہار ترکھان دیسی تو رولہ تو مچنا ہی تھا ناں کہ
A bad workman quarells with his toys
نہ پڑھانے والوں کو پتا تھا کہ کیا پڑھانا ہے اور نہ ہی. پڑھنے والوں کو عجیب سی کھچڑی پکی ہوی تھی. کبھی لگتا تھا کہ اونچی دوکان کے پھیکے پکوان ہیں اور کبھی لگتا تھا کہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا. ہادیہ نے پورے دو سال تک آرٹ کا کام پوری محنت اور دلجمعی سے کیا آرٹ کا سامان لینے کے لیے پاکٹ منی قربان کی جمع پونجی کی قربانی دی راتوں کی نیندیں برباد کیں اپنی غصیلی استانی کی ڈانٹ ڈپٹ خندہ پیشانی سے سہی. مگر تیسرے سال کے آغاز میں ہی پورٹ فولیو کے پراجیکٹ نے ہادیہ کے دماغ کی دہی بنا دی. اسے کچھ سجھای نہ دیا اسے کچھ دکھای نہ دیا اس کی فیملی نے بھی اپنے طور پہ ہادیہ کے پراجیکٹ کو شروع کروانے کے لیے اپنے طور پہ ہاتھ پاوں مارے مگر الٹی ہو گییں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا پورٹ فولیو کے بھوت نے ہادیہ سے آرٹ کے سبجیکٹ کو withdraw کروا کے ہی دم لیا. اور جب ہادیہ کی والدہ نے پرنسپل سے کہا کہ آپ کے اساتذہ up to mark نہیں ہیں تو میڈم نے حسب معمول اپنے پیروں پہ مٹی پڑنے ہی نہ دی اور بولیں آپ کی بیٹی نے آپ کو ون ساییڈڈ سٹوری سنا دی ہے در حقیقت آپ کی بیٹی پڑھای میں دلچسبی ہی نہیں لیتی. دیکھ لیجیے اس کے گریڈز تمام مضامین میں ہی کم ہیں. اب مسز لیاقت یعنی ہادیہ کی ماں کا دل تو چاہا کہناس پرنسپل نامی آسیب کو چند فقروں میں ہی سکول اور سکول کے مالکان کی کارکردگی بتا کے
لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری وائسرائے تھا
مجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، لیکن کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کرجاتا ہے جس سے وہ قانون کی گرفت میں آجاتا ہے۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
* دروازۂ جہنم —* ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے
*ڈاکٹر قالیباف :* فلسطین کے بغیر امن و استحکام نہیں ہوسکتا۔