*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : مُلحِدْجاوید اختر جیسے بہت ہیں یہاں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
اللہ تبارك تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور آخری رسول ﷺ کو جب بنانے کا ارادہ کیا تو آپ کے صدقے اور وسیلہ سے ارض و سماں کائنات کا ہر زرہ بنایا اور بیشمار مخلوقات بھی تخلیق کیں انہیں مخلوق میں رب العزت نے حضرت انسان کو بھی بنایا۔ اللہ جانتا تھا کہ میری مخلوق میں ایک بد ترین ملعون ہوگا اور میں اسے اختیار و اجازت اور طاقت بخشوں کا کہ وہ میرے بندوں کو بہکا کر گمراہ کرکے اور بھٹکا کے اپنی جانب کرکے اور میرے وجود و تخلیق سے منکر بنادے۔ جب سے حضرت انسان پیدا ہوئے تو اس ملعون ابلیس و شیطان نے حضرت انسان کو رب سے دور کرنے کا عمل جاری رکھا ھوا ھے جو تاقیامت جاری رہیگا۔ پاک و ہند میں بھی ایسے بیشمار اللہ کے بندے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی امت اور خاص کر مسلمان خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود شدید گمراہی کا شکار اور بھٹکے ہوئے ہیں جو نفس پرستی اور دنیا کی چاہت میں اوندھے گرے ہوئے ہیں جنہیں نہ بعد موت اپنے حساب کی پرواہ اور نہ ہی قیامت روز محشر احتساب کا احساس۔ ہندوستان کی ایک مشہور و معروف فلمی و ادبی شخصیت مُلحِدْجاوید اختر ہیں۔ انک خاندانی پس منظر کچھ اس طرح سے ھے۔ ان کے پردادا، فضل حق خیر آبادی، سنہ 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہد، شیخ الاسلام، قرآن کے عالم، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا. ان کے دادا، مضطر خیر آبادی، بڑے شاعر اور عالم، دینی روایت کے وارث. ان کے والد، جانثار اختر، عظیم شاعر، مگر سوشلسٹ فکر میں ڈوب گئے، یعنی مذہب میں کمزور ہوتے گیے اور پھر جاوید اختر ایک مشہور شاعر، مگر مُلحِد، جو خدا کے وجود ہی کا انکار کرتا ہے. دیکھا؟؟؟ چَند نَسلوں کے اندر ایک خاندان کہاں سے کہاں جا پہنچا. دین سے وَفاداری کرنے والے عُلماء کا خاندان، ایک اِلحاد پر فَخر کرنے والے شَخص پر خَتم ہوا. سوچئے اگر ہم اپنی نَسل کو دین سے جوڑنے کے بجائے اسکْرِین، مَغربی فَلسفہ اور نَفْس کی غُلامی کے حوالے کردیں گے تو ہماری آئندہ نسلوں کا اَنجام کیا ہوگا؟؟؟ آج اگر ہمارے گھر میں اِیمان کی شَمَع ہے بھی؛ تو کَل ہَمارے بیٹے نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک جاوید اختر سے بھی آگے بڑھ کر شایَدْ کُھلَّم کُھلّا دین کا مَذاق اُڑائیں گے اور پھر ہماری اَولاد کی اَولاد نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک خُدا کو ماننے کا نام بھی جُرم سَمجھے گی…! یاد رکھئے گھر مدرسہ اور تعلیمی درسگاہ کی دینی و اخلاقی تربیت ہی زندگی کو سنوارتی نکھارتی اور سدھارتی ھے۔ سب سے بہترین تربیت کی کتاب قرآن الحکیم و الفرقان المجید ھے اور تشریح و مفہوم کیلئے کتب احادیث مبارکہ ہیں۔ آج ہر گھر ہر عمر کے افراد کے ہاتھوں موبائل لیپ ٹاپ وغیرہ موجود ھے اس الیکٹرونک ڈیواس سے ہر طرح کی معلومات پر رسائی نہایت آسان اور کم وقت میں ہوجاتی ھے۔ انہی الیکٹرونک ڈیسواس سے مسلمان گھرانے تلاوت سنتے ہیں، علماء و مشائخ پیر عظام مذہبی اسکالرز سے قرآنی و سنت اور احادیث کے بیانات سنتے سمجھتے اور غور کرتے ہیں جو گھرانے عشق رسول ﷺ و عشق اہل بیت و عشق اصحاب کرام و عشق صوفیائے و اولیائے کرام سے منسلک رہتے ہیں وہ اپنے نفس اور شیطان و ابلیس کے حملوں سے محفوظ خود کو بنا لیتے ہیں۔ یاد رکھیں اللہ نے خود واضع اعلان کردیا ھے کہ میں نے اپنے نیک پرہیزگار متقی اور احسان کرنے والے لوگوں کی امداد میں مصروف رہنے والوں کیلئے جنت کا عندیہ دیا ھے جہاں صرف اور صرف خواہشات کی تکمیل ہی ہونگی انہیں جنتیوں کو یہ بھی واضع کردیا کہ دنیا قید خانہ ھے مسافر خانہ ھے یہاں ضروریات زندگی کیلئے صرف تگ و دو کرو کسی خواہش اور نفس کے اطمینان میں ہرگز ہرگز نہ پڑو وگرنہ بہک جاؤگے بھٹک جاؤگے گمراہ ہوجاؤ گے پھر تمہارا ابدی ٹھکانہ جنت نہیں دوزخ ہوگی۔ دوزخ دہکتا کھولتا آگ کا دریا جس میں صرف اور صرف اذیت تکالیف درد ہی ھے۔ اللہ مجھے میری تاقیامت آنے والی نسلوں، میرے بہن بھائی اور انکی تاقیامت آنے والی نسلوں اور امت مسلمہ کو صراط المستقیم پر قائم رکھ اور گمراہ ہونے سے بچا۔ میرے والدین اور بہن بھائی جو دنیا سے جاچکے ہیں اور امت مسلمہ کے تمام کے تمام مرحومین کی مغفرت فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین