فکر اقبال اور نوجوان نسل
تحریر۔ ڈاکٹر نگہت خورشید
نوجوان کسی ملک کا وہ سرمایہ ہیں جن پر ریاست کی ترقی اور قوموں کی تعمیر اور تحریک کا دارومدار ہوتا ہے کسی معاشرے میں اگرچہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ جن میں بزرگ عورتیں بچے بوڑھے جوان سبھی شامل ہیں جو مل کر کسی قوم کو مجموعی شکل دیتے ہیں اگرچہ ہر ایک کی کار کردار اس میں اپنی جگہ مسلم ہے لیکن ان میں نوجوانوں کو خاص طور پر اس لیے اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان میں جوانی کی امنگ اگے بڑھنے کا جذبہ مقاصد کے تعین کی صلاحیت اور پھر ان مقاصد کے حصول کے لیے پیہم کوشش اور اس کے لیے وافر وقت بھی ہوتا ہے جوانی میں شروع کی ہوئی تعلیم کا پھل انسان عمر کے کافی سال بعد کھاتا ہے اسی طرح جوانی میں شروع کیا گیا ہوا کوئی کاروبار زندگی محنت اور لگن کے ساتھ تجربہ حاصل کرتا ہے اور پھر جب یہ محنت تناور درخت بنتی ہے تو نہ صرف یہ درخت پھل دیتا ہے بلکہ اس کی چھاؤں بھی دوسروں کو مہیا ہوتی ہے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو انقلابات میں نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور تاریخ کے نقشے پلٹ دیے ہیں ابھی زیادہ دور کی بات نہیں خود مشرقی پاکستان کے نوجوانوں کو انہی کے تعلیمی اداروں میں مکتی باہنی اور دوسری تنظیموں نے اپنے حقوق کا احساس دلا کر جدوجہد شروع کی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا اور نوجوانوں کی اس بھرپور تحریک نے برصغیر کا نقشہ بدل دیا برصغیر پاک و ہند میں بھگت سنگھ ۔ غازی علم دین شہید۔ رائے احمد خان کھرل۔ مراد فتیانہ ۔ دلا بھٹی اور اگر انقلاب فرانس کا جائزہ لیں تو اس میں جوزف ایگری کول جوزف بارا۔۔ نپولین بونا پارٹ فرانسس میری وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ملت اور قومی تشخص کے لیے جدوجہد کی اور ظالموں کے سامنے سر نہ جھکا کر مثالیں قائم کیں اج بھی اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو کسی تحریک کی کامیابی کا سہرا نوجوانوں کے سر ہی ہوتا ہے اج بھی نوجوانوں جوش دلا کر متحرک کیا جاتا ہے خود پاکستان میں ایوب خان ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر بھٹو نواز شریف اور اج کے دور میں بھی سیاسی اجتماعات میں نوجوان نسل زیادہ متحرک نظر اتی ہے کیونکہ یہ لوگ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہی کے جوش و جذبے سے معاشرے اور قوموں کی تقدیر بدلتی ہے یہ ریڑ کی ہڈی جتنی مضبوط ہوگی قوم اتنی ہی مضبوط ہوگی اسی لیے علامہ اقبال جیسے مفکر فلسفی اور مدبر نے اپنے کلام میں سب سے زیادہ مخاطب نوجوانوں کو کیا ہے اور ان کی زندگی کی اہمیت اور زندگی کے مقاصد کا تعین کیا ہے اور انہیں سنجیدہ فکر سے روشناس کرایا ہے اور وہ نوجوانوں کو ان کی نوجوانی سے ہی تربیت نہیں کرتے بلکہ وہ بچپن سے ہی اپنے نوجوان کی انگلی پکڑتے ہیں جب وہ کہتے ہیں
لب پہ اتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
یعنی وہ بچپن سے ہی اپنے نوجوان کو اس طرح کا بنانا چاہتے ہیں جو دوسروں کے کام انے والا ہو جس کی روشنی سے یہ جہان منور ہو اور دوسرے لوگ جلا حاصل کریں
جس طرح انسان کے پانچ حواس خمسہ کی اہمیت جسم کے تمام حصوں میں سب سے زیادہ ہے اسی طرح جوانوں اور خصوصا مسلم جوانوں کے پانچ ایسے مقاصد واضح کیے ہیں کوشش اور حصول ضروری ہے پہلے نمبر پر ایک مسلم نوجوان تاریخ کے حوالے سے پہچانے کہ وہ کس نسل اور کس قوم کا نمائندہ ہے وہ کوئی معمولی اور عام چیز نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی عام قوم سے تعلق رکھتا ہے ایسے موقع پر اقبال کہتے ہی کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
یعنی اگر اسے دنیا میں کامیاب ہونا ہے تو اسے اپنے اسلاف کے کارناموں کا وسیع مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ اسے احساس ہو کہ اس نے اپنے اباؤ اجداد کی طرح خود کو دنیا میں منوانا ہے کیونکہ وہ کوئی عام قوم نہیں ہےاس کے اسلاف اور وہ خود وہ ایسی قوم ہیں جس کی بنیاد اسلام پر ہے اور جنہیں نبی اخر الزماں کی رحمتوں کا سایہ حاصل ہے اقبال اپنے نوجوان کا سب سے پہلا تعلق اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں یعنی اس کے اندر عشق اللہ اور عشق رسول پیدا ہو جائے تو پھر وہ کائنات کی تمام کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے وہ لکھتے ہیں
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
0اور پھر جب یہ قوم اسلام کا جھنڈا لے کر اگے بڑھتی ہے تو پھر دریاؤں پہاڑوں کو فتح کر لیتی ہے پھر شہروں جنگلوں بیابانوں پر حکمرانی کرتی ہے
علم و حکمت کے ایسے موتی بکھیرتی ہے جس سے پوری دنیا منور ہوتی ہے اور عملی طور پر بھی دیکھا جائے تو اج کی سائنس مسلم سائنس دانوں کی ابتدائی تحقیق اور نظریات کی مرہون منت ہے جابر بن حیان ابن سینا ۔۔الرازی۔ موسی خوارزمی اور دیگر مسلمان سائنسدانوں کی کتابوں کے تراجم یورپ میں کیے گئے اور اج مغرب کی سائنسی ترقی انہی معلومات کی مرہون منت ہے لیکن اج کےمسلم نوجوان
نے سائنس کی اس ابتدائی معلومات سے کیا فائدہ حاصل کیا ہے اقبال اس بات پر غمزدہ ہیں اور کہتے ہیں
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے ابا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ
ظ8وہ اج کے نوجوانوں کو احساس دلاتے ہیں کہ اپ ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے نہ صرف علم و ادب کے فن اور حرفت میں کمال حاصل کیا بلکہ انہوں نے دنیا میں فتوحات کر کے کل عالم میں امن انسانی کا پیغام پہنچایا وہ انہی اسلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں
یہ غازی یہ تیرے پر اصرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا ودریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
اج کے نوجوان کو ان کے اسلاف کی نسبت سے اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے ہی انہوں نے نوجوانوں کی مغرب کی اندھا دھند تقلید پر کلام کیا ہے
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
یہ انسانی فطرت کا اصول ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ کسی بھی خاندان میں بڑا ہونے کے بعد دیکھتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوا ہے اور اس کے ابا و اجداد کیا ہیں اگر اس کے اباؤ اجداد اعلی النسل اور اعلی لوگ ہیں تو وہ ان پر فخر کرتا ہے اور اگر وہ کمتر ہیں تو احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے علامہ اقبال اسی فطرت کے تحت نوجوان نسل کو اس احساس کمتری سے نکال کر ان کے اسلاف کے حوالےسے مکمل اعتماد دینا چاہتے ہیں اسی لیے وہ مسلم قوم اور ان کے ابا و اجداد کی بات کرتے ہیں تاکہ اسے اپنی شناخت اور اپنے خاندان پر فخر ہو یوں علامہ اقبال ایک نفسیات دان بھی معلوم ہوتے ہیں جو انسان کی فطرت کے ساتھ چل کر اس کی تربیت کرنا چاہتے ہیں یہ درست ہے کہ ان کا خواب تھا کہ بر صغیر میں مسلمانوں کی ایک اپنی ریاست قائم ہو جو انہوں نے 1930 کے خطبہ الہ اباد میں دیا لیکن وہ نوجوان مسلمانوں کو برصغیر تک کی محدود نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ کل عالم کے مسلمانوں کو ایک قوم کی صورت میں دیکھتے ہیں اور تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد اور یگانگی کا یہ جذبہ ہی انہیں دیگر مذاہب اور اقوام کے مقابلے میں ممتاز کر سکتا ہے گویا علامہ اقبال نے اپنے زمانے میں ہی تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خواب بھی دے دیا اسی لیے انہوں نے کہا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
گویا اقبال نے اسی زمانے میں یہ بھانپ لیا تھا کہ مسلم قوم جب تک ایک نہ ہوگی وہ اپنی پرانی کامرانیاں و کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتے ایک بڑے فلسفی اور مفکر کے طور پر انہوں نے اسی زمانے میں ہی مسلم بلاک کی بات ان اشعار میں کر دی
اپنی اہمیت و شناخت اور وطن کی اہمیت شناخت اور احساس کے بعد تیسری بات اپنی پہچان کی ہے یعنی اپنی شخصیت کی پہچان کی کہ تمہارے اندر کیا خوبیاں ہیں اور تم اپنے اندر اس جوہر کی تلاش کرو جو تمہیں متحرک کرے اور دنیا ٔمیں تم سے ایسے کام لے جس سے تمہیں کامرانیاں نصیب ہوں یہاں پر وہ کہتے ہیں
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یعنی اگر تو اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرتا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تو دنیا عالم کا لیڈر نہ بن سکے گویا وہ اپنے نوجوانوں میں لیڈرانہ خوبیاں پیدا کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ نوجوانوں کو اپنے اندر خودی کی پہچان اور اپنی شناخت کو بلند کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اس کو اس سطح تک لے جانے کی بات کرتے ہیں کہ پھر خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے کیونکہ ایک اقبال جانتے ہیں کہ نوجوان کا گرم لہو انہیں بیدار اور متحرک رکھتا ہے اور ان کے اندر کام کرنے کانیا جذبہ نیا حوصلہ اور نئی امنگ پیدا ہوتی ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر اتی ہے ان کو اپنی منزل اسمانوں میں
اقبال کے نزدیک نوجوان حرکت عمل اور پیہم جدوجہد کا استعارہ ہے اور یہی نوجوان ہیں جو اگے بڑھ کر اپنی محنت اور جہد مسلسل سے نہ صرف خود کو کامیابیوں سے ہمکنار کرتے ہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی معاشرے اور ریاست کو ترقی دیتے ہیں اسی لیے وہ کہتے ہیں
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
وہ مسلم نوجوانوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں لیکن افسوس کہ اج کا نوجوان ہیرون چرس گانجا شیشہ اور موبائل کی کھٹ پٹ میں اس قدر کھو گیا ہے کہ اسے اپنے سامنے درپیش چیلنجز کا احساس ہی نہیں اقبال نے شاید اس وقت نوجوانوں کی اس حالت کو بھانپ لیا تھا اور اسی لیے انہوں نے اپنے سارے کلام میں نوجوانوں کو بار بار مخاطب کیا اور انہیں اپنے اندر یقین اعتماد اور خودی کی قوت پیدا کرنے اور خود کو پہچاننے کی ترغیب دی انہیں نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرنے کی امنگ دی کیونکہ اقبال کے سامنے مسلمانوں کا شاندار ماضی اور پھر ان کا زوال بھی تھا جس طرح سپین میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمے ہںوا اور پھر بالاخر سلطنت عثمانیہ بھی طاقت و تراج کر دی گئی تو اقبال مسلمانوں کی اسی زبوں حالی کی بنا پر مسلم نوجوانوں کو متحرک عمل پیہم جدوجہد کرنے اور حرکت و عمل کرنے والا مرد مومن بنانا چاہتے ہیں سستی اور کاہلی کا لبادہ اتار کر اپنے اوپر یقین کرنا اور اپنی منزل کا تعین کرنا ہی مسلم نوجوان کی کامیابی ہے اسی لیے وہ نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اگر مسلمان نوجوان خود کو غیر ضروری فروہی کاموں میں الجھا لیں گے تو پھر وہ قوم کی ترقی میں کیا کردار ادا کر سکیں گے وہ دل گرفتگی کے ساتھ نوجوانوں کے لیے دعا کرتے ہیں
جوانوں کو میری اہ سحر دے پھر ان بچوں کو شاہی بالوں پر دے
خدایا میری ارزو یہی ہے میرا نور بصیرت عام کر دے
کائنات میں بہت سے دوسرے جانور چرند پرند ہیں جن میں شیر جنگل کا بادشاہ ہے لیکن علامہ اقبال نے نوجوان کو شاہین کا نصب العین حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ شاہین کی پرواز زمین سے اسمان تک ہے اس کی نگاہ پستی سے بلندی اور بلندی سے زمین پر بھی اتی ہے اور وہ چیزوں کو تیز نظری سے دیکھتا ہے اپنا شکار خود کرتا ہے اور کوئی گھر نہیں بناتا پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا وہ اپنے نوجوانوں میں یہی خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو شاہین کے اوصاف ہیں وہ اسے کسی ایک دنیا تک محدود نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے زمین سے اسمان تک کائنات کی وسعتوں کے سارے رنگ اور سارے راز جانے کے لیے سرگرداں کرنا چاہتے ہیں وہ لکھتے ہیں
تو شاھیں ہے پرواز ہے کام تیرا تیرے سامنے اسماں اور بھی ہیں
وہ نوجوانوں کو تساہل پسندی سے ہٹا کر مقاصد کے تعین اور منزل کے حصول کے لیے جہد مسلسل میں مشغول دیکھنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ ان کے اندر عقابی روح پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر اتی ہے ان کو اپنی منزل اسمانوں میں
زندگی کی یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ انسان سچائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ جب بھی کسی راستے پر چل کر اپنی منزل کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں اتی ہیں اج کے دور میں جس طرح سے رشوت اقربا پروری سفارش بد انتظامی نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے ایسے میں محنتی اور دیانت دار نوجوان مایوس ہو کر بیرون ملک جانے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اس برین رین سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کمزور پڑنے لگی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو مایوسی کے اس اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لایا جائے ان کے لیے حکومتی سطح پر ایسے پراجیکٹس تیار کیے جائیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر پاکستان کے معاشرے اور اس کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے انہی رکاوٹوں کو سر کرنے کے لیے علامہ اقبال نے نوجوان کی ہمت
ِبند ھاتے ہوئے کہا تھ
ا تندی باد مخالف سے نہ گھبرا کے اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ا یسا محسوس ہوتا ہے کہ علامہ اقبال نے اس زمانے میں ہی اج کے دور تک کی حیات و ممات کی ساری مشکلات کو بھانپ لیا تھا ان کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کی شاعری نہ صرف اس زمانے کی بلکہ کئی صدیوں تک کے حالات و واقعات میں انسان کی رہنمائی کرتی رہے گی ضرورت اس بات کی ہے کہ علامہ اقبال کے کلام کو ہمارا نوجوان قران کی طرح اپنی روح اور اپنی عقل میں سمو لے اور دل پر اتار لے اور علامہ اقبال کے افکار کو عملی طور میں اوڑھنا بچھونا بنا لے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ سر اٹھا کر اپنی منزل حاصل کر لے گا اج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی پاکستان کے نوجوانوں نے اعلی مثالیں قائم کی ہیں علم اور ادب کے میدان میں بھی دوسری اقوام پر بھاری ہیں لیکن افسوس کہ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر کے ان کی صلاحیتوں کو گرہن لگایا جا رہا ہے بلاشبہ ہمارے نوجوانوں میں ایسی صلاحیتیں ہیں وہ ایسا چمکتا ہوا ستارہ ہیں کہ یہ جن کی کہکشاں بنائی جائے تو اس سے پوری دنیا منور ہو سکتی ہے ہمارے ہی نوجوان ہیں جو یورپ کے اداروں میں جا کر اعلی امتحانات پاس کرتے ہیں اور پھر وہاں کے نظام میں بھی اپنی برتری منواتے ہیں اج پاکستان کو ضرورت ہے اپنے نوجوان کی بھرپور کارکردگی کی تاکہ وہ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں بہترین کردار ادا کر سکیں اج ہمارے نوجوان پانی سے کار کو چلانے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں چھوٹی چھوٹی انجینئرنگ کی چیزوں سے بڑے بڑے کمالات حاصل کر رہے ہیں ایسے نوجوانوں کو اعلی انڈسٹری کے اژدھے اپنی انڈسٹری کے زوال ہونے کے خدشے کے تحت نگل رہے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا ایسے انجینرنگ کے ماہر نوجوانوں کو سامنے لا کر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ پورے معاشرے کا فائدہ ہو سکے چند سکوں کی
خاطر مافیا ان کی صلاحیتوں کو پس پشت ڈال کر اپنا منافع کماتے ہیں ضرورت اس بات کی ہےکہ یہ نوجوان لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی این جی اوز بنا کر پرائیویٹ سطح پر اپنے کام کو شروع کریں اور اقبال کی فکر اور روح کو اپنے اندر سمو کر نہ صرف اس ملک میں اپنا نام روشن کریں بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی نوجوان نسل کی اس روشنی کو پھیلائیں