جیکب آباد :(نامه نگار) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی کا یومِ عاشور کے مرکزی اجتماع سے خطاب
جیکب آباد: مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ڈی سی چوک جیکب آباد میں منعقدہ یومِ عاشور کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے چودہ سو سال قبل رسول اللہ ﷺ کی نواسی حضرت سیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے دربار یزید میں یہ تاریخی اعلان فرمایا تھا کہ: “تو جو کچھ کر سکتا ہے کر لے، خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو ہرگز مٹا نہیں سکتا۔” یہی وجہ ہے کہ ذکر حسین علیہ السلام اور آلِ محمدؐ کا ذکر ہر دور میں زندہ و تابندہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذکرِ امام حسینؑ کو مٹانے کے لیے بنو امیہ اور بنو عباس نے ہر ممکن کوشش کی، مگر ان کی سلطنتیں مٹ گئیں جبکہ امام حسینؑ کا نام، فکر اور پیغام آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جب پوری دنیا یزید کی بیعت کر چکی تھی، اس وقت نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اعلان فرمایا کہ “مجھ جیسا، یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔” انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہی درس ہر دور میں ظلم و استکبار کے خلاف مزاحمت اور حق پر استقامت کا پیغام دیتا ہے۔ کربلا کا یہی درس رہبر مسلمین شہید سید علی خامنہ ای نے دنیا کو دکھایا۔ اور یزید وقت ٹرمپ امریکا اور اسرائیل کو نشان عبرت بنا دیا۔ ٹرمپ قاتل ہے مجرم ہے پاکستان کے جعلی وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو امن کا پیغمبر کہہ کر پوری قوم کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض حکمرانوں اور بعض مذہبی حلقوں نے ذکرِ حسینؑ اور شعائرِ حسینی کو روکنے کے لیے فتوے اور پابندیاں لگائیں، لیکن وہ اس الٰہی پیغام کو نہ روک سکے۔ آج دنیا کے کونے کونے میں امام حسین علیہ السلام کا ذکر، ان کی فکر اور ان کا پیغام پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ زندہ ہے اور انسانیت کو ظلم کے خلاف قیام اور حق و عدالت کی راہ پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے۔
اس موقع پر مجلسِ عزاء سے انجمن سپاہِ علی اکبر کے رہنما راجہ سید ریاض علی شاہ، ایڈووکیٹ عبدالحئی سومرو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور واقعۂ کربلا کے پیغام، شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں اور اتحادِ امت پر روشنی ڈالی۔