4

ہوں تو نایاب پر رات کی تاریکی میں ہاتھ کو ہاتھ سجھای نہ دیتا تھا

ہوں تو نایاب پر
رات کی تاریکی میں ہاتھ کو ہاتھ سجھای نہ دیتا تھا، چاند، تاروں کی آغوش میں پوری تابانی سے جگمگا رہا تھا، ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکوں سے لہلہاتے مست پتے اور ٹہنیاں رب کی ثنای میں مصروف تھے، لندن کے ایک لش پش فلیٹ میں کرسٹی، خوبصورت ڈریس میں ملبوس کبھی سگریٹ کے کش لگاتی تو کبھی مے کے جام لنڈھاتی، مگر اس کی بے چینی کو ایک پل بھی قرار نہ تھا، آیینے کے سامنے کھڑی نیم برہنہ لباس میں ملبوس کرسٹی کے چہرے پہ وسوسے، خوف، محرومیوں کے جال نے ایک خوفناک شکل اختیار کر رکھی تھی، آسودہ حال، اچھی جاب، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی خود مختار کرسٹی، جس کی کءی کءی مردوں سے دوستی تھی, اس نے زندگی میں جو چاہا، حاصل کر لیا تھا، اسی کبھی بھی کسی خواب کو گٹھری بنا کے اپنے سر پہ اٹھانا نہ پڑا تھا، کرسٹی کے دل نے جب بھی خواہش کا خواب دیکھا، اس کی تکمیل فوراً ہوی، ایک عرصے تک وہ اس سراب کی اسیر رہی کہ روپیہ پیسہ، مال دولت ہی ساری دنیا کے مسائل کا حل ہیں لیکن اب جب کرسسٹی اپنی عمر کی پینتیس بہاریں دیکھ چکی تھی، جب اپنی حسین صورت پہ پرندوں کے پنجوں کی مانند پھیلی ہوی چیونٹیوں کی قطار کی قطار کی مانند جگہ جگہ پہ نمودار ہوتی ہوی جھریوں اس کی راتوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی تھیں، کودیکھا تو اسے لگا بے مقصد ہی شاہراہ زیست پہ اتراتی رہی، وہ چہرہ جسے چمکانے کے لیے وہ اتاولی ہوا کرتی تھی، اب اسے اس بات کی قطعاً پروا نہ تھی کہ وہی حسین چہرہ جھریوں کی دیمک سے اٹا جا رہا تھا، ایک عدد شیر خوار بچہ جو بھوک کی شدت سے بلک بلک کر ادھ موا ہوا جاتا تھا، اس بیچارے کی بد نصیبی کہ وہ ایک ماڈرن اکیلی مغربی ماں کا بچہ تھا، جسے نہ اپنے باپ کا پتا تھا اور نہ ہی آغوش پدر میسر تھی اور ماں کی ذہنی حالت انتہائی مشکوک تھی، واہ رے مغرب تو اور تیری آزادی نے عورت کو کتنا لاچار، بے بس اور محروم کر چھوڑا ہے، نہ گھر نہ شوہر، نہ چادر نہ چار دیواری، سرکس کے سدھاے ہوے جانور کی مانند طنابیں کسے، بغیر داییں باییں دیکھے اسٹیٹس اور حیثیت و رتبے کی اندھی دوڑ میں بغیر کسی صلے کے بھاگتی ہی جا رہی ہیں اور عین اسی وقت جب کرسٹی اپنی بے سمت اور بے ثمر زندگی پہ نوحہ کناں تھی، لاہور کے ایک پوش علاقے کے بہت بڑے گھر کے بیڈ روم میں پیروں کے بل ننگے پاوں بیٹھی ہوی, پیشانی تک سیاہ چادر میں لپٹی ہوی باحجاب، با کردار، اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحب حیثیت عظمیٰ ناصر کا بس نہ چلتا تھا کہ زور زور سے روے، سینے پہ دوہتڑ مارے، سر عام لٹ جانے کی دوہاییاں دے، بین کرے، نوحے پڑھے، اس کی بے کسی اور بے بسی بھی خون کے آنسو رلاتی تھی، وہ والدین کی اکلوتی نازو نعم میں پلی ہوی بیٹی جس کی شادی اس کے والدین نے بڑے چاو سے ایک انتہائی سلجھے ہوئے اور امیر شخص سے ایک سال قبل کی تھی دو ماہ قبل ایک بیٹے کو جنم. دے کر عظمیٰ ناصر کو ایسا لگتا تھا کہ بس اب زندگی مکمل ہے، مگر ایک صبح جب عظمیٰ کام سے گھر لوٹی تو نہ شوہر تھا نہ بچہ، معاملہ کچھ یوں تھا کہ عظمیٰ کا شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا پانچ سال تک جب بچہ نہ ہوا تو اس نے پلاننگ سے عظمی سے شادی کی اور دھوکہ دہی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوے بمع بچے کے نو دو گیارہ ہو گیا تھا اور ایک مشرقی لڑکی کو بھرے پرے گھر میں پاکیزہ رشتوں کے جھانسے میں یوں لوٹا گیا کہ وہ ذہنی مریضہ ہی بن گءی، تو بھلے مشرق ہے یا مغرب، عورت امیر ہے یا غریب اسے ہر کسی نے اپنے اپنے مقاصد اور عزایم کے لیے استعمال کیا اور جی بھر کے کیا، کبھی حق حقوق کی لڑائی، کبھی وراثت کے پھڈے، اور وہاں جہاں عورت کو حقوق مل گیے ادھر اس سے گھر ہی چھن گیا، درو دیوار سے بنی ہوی پناہ گاہ نہیں پیاو محبت کی راجدھانی جہاں بیوی گھر کی. مہارانی ہوتی ہے جہاں اسے نکاح کر کے شان و شوکت سے لایا جاتا ہے اور آخری سانسوں تک عزت کی راجدھانی کا بے تاج بادشاہ بنا دیا جاتا ہے، بنت حوا کے نصیب میں ٹھوکریں ہی ٹھوکریں لکھ دی گییں بھلے وہ گوہر نایاب ہوی یا داستان سکھ چین. عین اسی وقت جب لندن میں کرسٹی اور لاہور میں عظمیٰ شدت گریہ سے اپنا سر پٹخ رہیں تھیں آسمان سے ایک نیلی روشنی کے ہالے نے دونوں خواتین کو اپنی پناہ میں لے لیا، مشرق اور مغرب دونوں خطوں کی خواتین کے دل صبر سے لبریز ہو گیے، انھوں نے اپنے جسم اور روح پہ ہونے والی تمام زیادتیوں کو یوم حشر تک ٹال دیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں