*جنتی زیادہ پہلے والوں میں سے اور تھوڑے آخر والوں میں سے ہوں گے*
جمعہ 7 نومبر 2025
انجینیئر نذیر ملک
ذیل میں اسی قرآنی تصور پر ایک جامع، مدلل اور خوبصورت آیات و احادیث کی روشنی کے ساتھ:
جنتی زیادہ پہلے والوں میں سے اور تھوڑے آخر والوں میں سے ہوں گے
انسان کی اصل منزل دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔ دنیا کی زندگی ایک آزمائش ہے جس میں کامیاب وہی ہوگا جو ایمان، عملِ صالح اور اطاعتِ الٰہی کی راہ اختیار کرے۔ قرآنِ مجید نے جنت اور جہنم کے تذکروں کے ساتھ جنتیوں کی صفات اور درجات کو بھی واضح فرمایا ہے۔ انہی مضامین میں ایک نہایت معنی خیز آیت ہے جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ”
(سورۃ الواقعہ: 10 تا 14)
ترجمہ:
“اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہیں، یہی لوگ (اللہ کے) مقرب ہیں، نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے۔ ان میں ایک بڑی جماعت پہلے لوگوں میں سے ہوگی، اور بعد والوں میں سے تھوڑے۔”
*آیت کی تشریح*
یہ آیات اس عظیم طبقے کا ذکر کرتی ہیں جو سابقون یعنی ایمان و نیکی میں سبقت کرنے والے ہیں۔
ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ:
یہ اللہ کے مقرب بندے ہوں گے۔ ان کا ٹھکانہ نعمتوں سے بھرپور جنتیں ہوں گی۔
مگر ان کی اکثریت پہلے زمانوں (امتوں یا ابتدائی مسلمانوں) میں سے ہوگی،
اور آخر زمانے والوں میں ان کی تعداد کم ہوگی۔
*”پہلے والوں” سے مراد کون؟
مفسرین کے مطابق “الأولین” سے مراد:
1- انبیائے سابقین کی امتوں کے نیک لوگ بھی ہیں۔
2- اور بالخصوص امتِ محمد ﷺ کے ابتدائی دور کے مخلص مسلمان، یعنی
صحابۂ کرام، تابعین، اور اوائل کے زاہد و عابد لوگ۔
کیونکہ وہ زمانہ:
ایمان میں خلوص سے بھرا ہوا تھا، نفاق و دنیا پرستی سے پاک تھا،
قربانی و جہاد کا زمانہ تھا،
اور لوگوں کے دل اللہ کے خوف اور آخرت کی فکر سے معمور تھے۔
*”آخر والوں” سے مراد کون؟*
“آخرین” سے مراد آخری زمانے کے مسلمان ہیں،
یعنی وہ جو نبی ﷺ کے بعد صدیوں میں آئیں گے جن میں ایمان و اعمال میں کمزوری، دنیا کی محبت اور دین میں نرمی غالب ہوگی۔
اس لیے فرمایا گیا کہ:
“پہلے والوں میں جنتی زیادہ ہوں گے، اور آخر والوں میں تھوڑے۔”
یعنی وقت کے ساتھ ایمان کی کیفیت، قربانی کا جذبہ اور اخلاص میں کمی آتی چلی جائے گی۔
*حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں*
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ”
(بخاری و مسلم)
ترجمہ:
“سب سے بہترین لوگ میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔”
یعنی صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے دور میں ایمان و اعمال کی اعلیٰ ترین سطح پائی جاتی تھی۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا کہ جنت میں اکثریت انہی پہلے والوں کی ہوگی۔
*اللہ کی رحمت کے دروازے آخر والوں پر بھی بند نہیں*
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخر زمانے کے لوگ جنت سے محروم رہیں گے۔
اللہ کی رحمت وسیع ہے
جو شخص خلوصِ دل سے ایمان لائے، توبہ کرے، نیک عمل کرے، وہ بھی اللہ کے فضل سے جنت کا حق دار ہو سکتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ” (بخاری)
ترجمہ:
“جس نے اخلاص کے ساتھ ‘لا الٰہ الا اللہ’ کہا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
*عبرت و پیغام*
1- وقت کے گزرنے کے ساتھ ایمان کی شدت کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے والوں کی سیرت، قربانی، اور اخلاص سے سبق لیں۔
2 دین میں آسانی اختیار کرنے کے بہانے کمزوری نہ دکھائیں۔
3- اپنی عبادت، تقویٰ، اور اخلاق میں پہلے دور کے ایمان والوں کی پیروی کریں۔
4- کیونکہ جنت کے اعلیٰ درجات انہی لوگوں کے لیے ہیں جو سبقت کرنے والے ہوں۔
*خلاصہ عنوان*
قرآن و حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنتیوں کی اکثریت پہلے دور کے مومنوں پر مشتمل ہوگی، کیونکہ ان کا ایمان خالص، اعمال پاکیزہ، اور قربانی عظیم تھی۔
البتہ آخر زمانے کے اہلِ ایمان اگر خلوص سے اللہ کی طرف رجوع کریں تو وہ بھی رحمتِ الٰہی کے سائے میں جنت کے حقدار بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان “سابقون” میں شامل فرمائے جنہیں
> “فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ”
یعنی “نعمتوں بھری جنتوں” میں داخل کیا جائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333