*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: پٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
پٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں، عوام کو پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف نہ ملنے کی اصل وجہ سامنے آ گئی۔ عوام کو بڑا ریلیف دینے کے لیے پٹرول کی قیمت میں چالیس سے پچاس روپے تک کی بڑی کمی کی سمری تیار کر کے وزیراعظم کو ارسال کی گئی تھی۔ آئل کمپنیوں کا انکار: آئل کمپنیوں نے اس بھاری کمی کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے حکومت کی سمری کو مسترد کر دیا۔ قیمتوں میں زبردستی کمی کی صورت میں آئل کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر میں تیل کی سپلائی معطل کرنے کا خدشہ تھا، جس سے شدید بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ ملک کو پٹرولیم بلاکیج اور سپلائی کی بندش سے بچانے کے لیے ہی پٹرول کی پرانی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں، کیا ریاست پاکستان اس قدر کمزور لاغر اور مفلوج ہوگئی ھے کہ کوئی بھی مافیاء ریاست کی رٹ کو اپنے پاؤں تلے کچل دے ؟؟، کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں جہاں اشرفیہ عیش و تعیوش کی زندگی بسر کرے اور عوام جینے کیلئے بنیادی ضرورتوں کو بھی ترس جائے ؟؟، کیا پاکستان میں نظام اور قانون جدہ جدہ ہیں کہ کمزور و غریب کیلئے الگ اور امیر کبیر اشرفیہ کیلئے الگ ؟؟، کیا ریاست اور ملک پاکستان مافیاء غدار اور ایجنٹوں کے شکنجے میں مقید ہوچکی ہیں ؟؟، آزاد خودمختیار پاکستان کیونکر ہوسکتا ھے جبکہ اشرفیہ کی عیاشیوں کے سبب مقروض در مقروض بھی ؟؟، پاکستان میں جبتک پیٹرول 100 تا 120 روپے لیٹر نہیں کیا جاتا اس وقت تک نہ ترقی کا پہیہ چلے گا اور نہ ہی اشیاء خوردنوش اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں عام شہری کی قوتِ خرید میں ممکن ہوسکے گی۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ جس میں کورکمانڈرز اور خاص طور پر فیلڈ مارشل بھی شامل ہیں انہیں اس بابت ضرور بلضرور سوچنا سمجھنا اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ پیش کرنا چاہئے وگرنہ تاریخ رقم لکھے گی کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کورکمانڈرز اور خاص طور پر فیلڈ مارشل بھی اس وقت کے اشرفیہ و مافیاء اور ملک و قوم کے دشمنوں کیلئے سایہ دار درخت ثابت رھے اور جھلستے تڑپتے عوام کو جلتے دیکھتے رہے۔ آج عوام کو جو اپنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ کورکمانڈرز اور خاص طور پر فیلڈ مارشل پر مان ھے فخر ھے ناز ھے محبت ھے پیار ھے اتحاد ھے یقین ھے مجھے ڈر ھے کہ کہیں ان کرپٹ لالچی بدکردار منحوس پارلیمنیٹیرین کے ظالمانہ رویئے ناانصافی پر مبنی فیصلوں کے سبب مزید عوام کو تباہ و برباد نہ کردیں کیونکہ جب بھی انکا احتساب ہوگا تو ان سب سے زیادہ لوٹیرا کسی کو نہ پائیں گے حقیقت تو یہ ھے کہ جمہوریت کے تمام کے تمام ٹھکیدارا سیاستدان سابقہ و موجودہ حزب الجماعت و حزب الاختلاف ہر ایک ملک دشمن کے مترادف ھے کیونکہ صرف اپنی ذات تک سوچتے سمجھتے ہیں عمران خان نواز شریف و شہباز شریف آصف علی زرداری سمیٹ تمام کے تمام اول نمبر کے جھوٹے منافق دھوکہ باز عیار و مکار فاسق و فاجر منحوس و نحوست زدہ غلاظت و خباثت سے بھرے ان بے دینوں بےایمانوں خیانت داروں اور دجال کے کارفرماؤں سے یہ وطن عزیز تباہ تو ہوسکتا ھے شاد و آباد کبھی بھی نہیں ہوسکتا یاد رھے کہ ان سیاستدانوں کو حکمرانوں کو وزراء مشیران کو آپ اسٹبلشمنٹ ہی نافذ کرتے ہیں کیونکہ انتخابات کا مزین شفاف جدید ترین کمپیوٹرائز نظام نہیں ھے اگر اسٹبلشمبٹ مداخلت نہ کرے تو ایسے ایسے بھیانک خطرناک پارلیمینٹیرین ایوان میں پہنچ جائیں گے کیونکہ ان میں کئی بڑی تعداد میں غداران وطن موساد ، را ، سی آئی اے ، ایم سیکس سمیت دیگر خفیہ ایجنسیوں کے کارندے آ بیٹھ سکتے ہیں یہ حقیقت ھے کہ پاکستانی ایجنسی اپنی ماہرانہ قابلانہ اور ذہانت کے سبب ابتک دنیا کی بڑی سے بڑی ایجنسی کو شکست فاش کرچکی ھے لیکن اندرون ملک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ھے یقیناً دیگر ریاستی اداروں کی نااہلی ناکامی بدعنوانی اور کرپشن کے باعث عوام ان بدترین حالات سے دوچار ھے اسکا سدھار ناگزیر ھوچکا ھے جو پاکستانی اسٹبلشمنٹ کورکمانڈرز اور خاص طور پر فیلڈ مارشل کو اپنی بہترین حکمت عملی سے پائے تکمیل تک پہچانا ہوگا کیونکہ یہ بدمعاشیہ مافیاء و اشرفیہ آپ کے جوتوں کی مار کی عادی ہیں اب ایسا جوتا رسید کرنے کی ضرورت ھے جو ان سیاستدانوں نے پاکستانی عوام کو منقسم رکھنے کیلئے تعصب عصبیت لسانیت اور مسلکیت کا زہر قائم رکھا ھے سب سے پہلے اس زہر کا ہی خاتمہ کرنا ھوگا پھر اتحاد و اتفاق کے سبب میرٹ قابلیت اہلیت ذہانت کو ملک گیر یکساں رکھنا ھوگا کہیں بھی شفارش تعلقات اختیارات کا غلط استعمال اور کوٹہ کی لعنت سے ہمیشہ کیلئے آزاد رکھنے کی اشد ضرورت ھے۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ کیا پاکستانی اسٹبلشمنٹ کورکمانڈرز اور خاص طور پر فیلڈ مارشل پاکستان اور عوام کو ان مافیاؤں کے ظلم سے بچا پائیں گے کہ نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ؟؟ ۔۔۔۔!!