6

واقعۂ کربلا عراق کے شہر کربلا میں 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جسے عیسوی تاریخ کے حساب سے

واقعۂ کربلا عراق کے شہر کربلا میں 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جسے عیسوی تاریخ کے حساب سے عموماً 10 اکتوبر 680ء بتایا جاتا ہے۔ آج 2026ء کے حساب سے اس واقعے کو تقریباً 1346 عیسوی سال ہو چکے ہیں۔ اسلامی ہجری حساب سے 61 ہجری سے 1448 ہجری تک تقریباً 1387 ہجری سال بنتے ہیں۔
کربلا کا خلاصہ:
حضرت امام حسینؓ/علیہ السلام نے ظلم، ناانصافی اور باطل نظام کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ آپ اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا پہنچے۔ پانی بند کیا گیا، بچوں اور اہلِ خانہ نے سخت پیاس برداشت کی، مگر امام حسینؓ نے حق کا دامن نہ چھوڑا۔ 10 محرم کو آپ اور آپ کے جانثار ساتھیوں نے عظیم قربانی پیش کی۔
نمایاں قربانیاں:
حضرت امام حسینؓ، حضرت عباس علمدارؓ، حضرت علی اکبرؓ، ننھے حضرت علی اصغرؓ، حضرت قاسم بن حسنؓ، حضرت عون و محمدؓ، حضرت حبیب بن مظاہرؓ، حضرت مسلم بن عوسجہؓ، حضرت زہیر بن قینؓ، حضرت حر بن یزید ریاحیؓ اور دیگر وفادار ساتھیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ عام طور پر شہدائے کربلا کی تعداد 72 بیان کی جاتی ہے۔
اہلِ بیت کی آزمائش:
کربلا کے بعد حضرت زینبؓ، امام زین العابدینؓ اور اہلِ بیت کی خواتین و بچوں نے قید و سفر کی سختیاں برداشت کیں۔ حضرت زینبؓ نے صبر، حوصلے اور حق گوئی سے کربلا کا پیغام دنیا تک پہنچایا۔
کربلا کا پیغام:
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے لیے قربانی دینا، ظلم کے سامنے نہ جھکنا، دین پر ثابت قدم رہنا، صبر کرنا اور انسانیت کا احترام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک سبق ہے؛
کربلا قربانی، وفا، صبر اور حق کی پہچان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں