ادیب، ادبی تقریبات، اور ادبی نوازشات
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
صبح سے شام، شام سے رات اور پھر رات سے اگلی صبح، یہی کاروان زیست کی پرواز ہے. ہم سب اسی پرواز کے ساتھ ساتھ محو پرواز ہیں، قلم،حرف اور انسانی تعلق کی تاریخ شاید اتنی ہی پرانی ہے جتنی نسل انسانی کے آغاز کی تاریخ ،یعنی جب حضرت آدم زمین پہ اتارے گیے تقریباً چھ، سات ہزار سال قبل، اور اللہ! نے جب مٹی کے پتلے میں اپنی روح پھونکی اور اسے علم دیا اور فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا کہا تو وہ علم ہی کی طاقت تھی، جس نے آدم کو فرشتوں پہ برتری عطا کی تھی، اسی علم. اور شعور کی دولت کے ساتھ انسان نے دنیا کے تخت پہ حکمرانی کی، انسان نے پہلے تصاویر پھر حروف سے کھیلنا شروع کیا، تمام اہل شعورقلم کی طاقت کو زاد راہ بنا کے سفر طے کرتے گیے، قلم کی طاقت ہمیشہ ہی انسان کی طاقت رہی، تاریخ کے صفحات قلم کی طاقت کے گواہ ہیں، ہاں یہ اور بات کہ تاریخ دانوں کو خرید کر گمراہ کیا گیا، حقائق کو چھپایا گیا، سچ کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا اور ایسا ہر دور میں ہوا، آج کل کے دور میں بھی وہی ملاوٹ زور و شور سے جاری ہے جو اہل دنیا کا طرہ امتیاز رہی ہے، ادبی تقریبات بھی بہت ہیں، ادبی تنظیموں کی بھی بھر مار ہے، ایوارڈز دینے والے بھی بے شمار اور ایوارڈز لینے والے بھی بے حساب، مگر یہ مت پوچھیے کہ ادبی دھاندلیاں کس قسم کی ہیں؟ اور کیا کیا گل کھلا رہی ہیں، گروپ بندیوں اور اقربا پروریوں نے چند مداری نما ہستیوں کو ہر تقریب میں شرکت پہ آمادہ خیال کر رکھا ہے، وہ ادیب ہیں یا نہیں اس سوال کو چھوڑ دیجیے، سوال تو یہ بھی ہے کہ آیا وہ قلم سے ادب تخلیق کرنے کے اہل ہیں بھی یا اجرت دے کر لکھوا نے والے ناہجاز ہراول کے سپاہی ہیں، کءی کءی کتابوں کے مصنف جو یہ. بھی نہیں جانتے کہ ان کی شایع شدہ کتب کے نام کیا ہیں؟ جھوٹ چلتا بہت ہے کاروبار حیات میں مگر جھوٹ کاسکہ اتنا زیادہ اور اتنے مہنگے داموں بکتا ہے یہ ہم نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھا، ایوارڈز اور مشاعرے ان کے نام جن کی ادبی شہنشاہوں سے خفیہ یا کھلم کھلا آشنائیاں ہیں، اور ان ادبی شہنشاہوں کو حرام حلال کی قطعاً کچھ تمیز نہیں تو جو لوگ الٹے سیدھے حربے استعمال کر کے، جھوٹ سچ بول کے شاہی ایوانوں تک رسائی پا لیتے ہیں، مشاعرے اور ایوارڈز ان کے نام ہو جاتے ہیں اور جو سچ میں اپنے خون پسینے سے ادب کی خدمت میں دن رات لگے رہتے ہیں ان کا نہ تو کوئی پرسان حال ہوتا ہے اور نہ ہی کوی حال.لیکن سو باتوں کی ایک ہی بات تمام سچے ادیبوں کو صلے اور انعام کی طلب سے بے نیاز ہو کر لکھنا چاہیے کہ لوگوں کی عدالت آپ کے ساتھ دھوکہ کر سکتی ہے، اللہ کی عدالت میں انصاف ہی کا بول بالا ہو گا. تو ان تمام معتبر لکھنے والوں کو ہمت نہیں ہاری چاہیے اور موجودہ ادب، ادبی تقریبات اور ادبی نوازشات سے بے پروا ہو کے دل جمعی سے اپنا کام کرنا چاہیئے، جناب کہاں کا ادب؟
کاہے کے ادیب
کون سی ادبی تقریبات؟
اور
کاہے کی ادبی نوازشات؟
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam. Naureen 1@gmail.com
جیکب آباد :(نامه نگار) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی کا یومِ عاشور کے مرکزی اجتماع سے خطاب
بیگناہ کرنے پر ڈی پی او قصور اور سپیکر پنجاب اسمبلی آمنے سامنے
خوشاب (راجہ نورالٰہی عاطف سے) پی ایم ایل این یوتھ ونگ ضلع خوشاب کے صدر ملک سعد بشیراعوان
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) صوبائی وزیرصحت خواجہ عمران نذیر، معاون خصوصی شعیب مرزا ،آر پی او محمدشہزاد آصف خان، کمشنرحافظ
راجہ حاجی غلام شبیر — خدمت، اخلاص اور انسان دوستی کی روشن مثال