509

آوارہ گرد روحیں اور رادھا کرشنا مندر

آوارہ گرد روحیں اور رادھا کرشنا مندر

اِس دنیا میں ہر کسی کی اپنی دنیا ہوتی ہے مگرآوارہ گرد ایک ایسی مخلوق ہےجن کی دنیا سب سے الگ ہوتی ہے۔اِن کا اپنا قبیلہ ہوتا ہے،بے چین روح ہوتی ہے۔جو نگری نگری،قریہ قریہ گھوم پھرکرچین پاتی ہے۔ یہ ایک جگہ رُک نہیں سکتی ہے،گر وہ تھک ہار کے بیٹھ جائے تو دل اداس ہو جاتے ہیں،چہرے سے مسکراہٹ روٹھ جاتی ہے، بے چینی کاٹنے کو داوڑتی ہے۔ تاریخ عالم کے علماء کا کہنا ہے کہ جیسا بندہ ہوتا ہے ویسا دوست بھی ڈھونڈ ہی لیتا ہے ۔ میرے اندر بے چین روح تو ہے ہی،میرا دوست مہرمومن مجھ سے بھی بے چین روح لے کر دنیا میں آیا ہے ۔ میں نے جب بھی جہاں بھی آوارگی کا بولا ہے وہ بغیر کچھ بولے چل پڑتا ہے۔ ہم سورج اُگنے سے پہلے ہیڈ مرالہ پہنچ چکے تھے۔ ہم نے ناشتہ کیا،ایک ڈھابے سے چائے پی، باتیں کیں اور ہیڈ مرالہ سے دوسری طرف سرخ پورگاوۤں جاتی سڑک پر ہولئے۔جو دریائے مناورہ توی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ ہم ضلع سیالکوٹ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ یہ ضلع گجرات تھا۔ ہم نے طے کیا تھا۔ ہم وہاں جائیں گے جہاں سے یہ دریا ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ہم دریا کے ساتھ ساتھ لمبا سفرطے کر آئے تھے۔ میرا دوست مہر مومن موٹرسائیکل چلا رہا تھا۔ ہم گاوۤں کے گاوۤں پیچھے چھوڑ آئے تھے،آبادی ختم ہو گئی تھی۔ یہاں سے سڑک پوری طرح سلامت نہیں تھی۔اِس کے دونوں اطراف جنگل، بیلا ، لہلہاتی فصلیں، درخت، دریا کا بیڑ،خاموشی،چارسوخاموشی کی آواز،سرسبز فصلیں،دور، دور کوئی زی روح نظر نہیں آ رہی تھی جس سے پوچھ سکتے کہ یہ کون سا علاقہ ہے۔ ہم نے سفر جاری رکھا تو ایک بورڈ نظرآیا۔ جس پر لکھا تھا خوش آمدید ٹو آزاد کشمیر بھمبر۔ ہم کشمیر پہنچ چکے تھے۔یہ مقام پنجاب کا کشمیر تک آخری مقام تھا۔ یہاں سے ضلع بھمبرآزاد کشمیرشروع ہورہا تھا۔ ہمارے سامنے اونچی نیچی سرسبز پہاڑیاں تھیں۔ ایک گھنے جنگل میں فوجی پوسٹ پرناکہ تھا۔ ہمیں بیریئر پر فوجی نے روک کر پوچھا کہ کدھرجارہے ہو،ہم نے بتایا کہ یہ دریا جس مقام سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ہم وہ مقام دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ بولا کہ وہ یہاں سے دور ہے،راستہ کچا اورخراب ہے۔ مزید بتاتا چلوں کہ سارا علاقہ جنگلی ہے۔ وہ پنوں عاقل کا رہنے والا تھا۔ ایک رجسٹر میں ہمارے کوائف درج کرنے کے بعد ہمیں ہاتھ کے اشارے سے جانے دیا۔ یہاں سے سڑک سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ٹوٹی ہوئی تھی لیکن موٹر سائیکل آسانی سے چل رہی تھی۔جس جگہ ہمیں فوجی نے روکا تھا وہ مقام دو ملکوں،پاکستان اورآزاد کشمیر، دوصوبے پنجاب اور کشمیر، تین اضلاع گجرات، سیالکوٹ،بھمبر کا جنکشن پوائنٹ تھا۔ ہم نے سمت کا تعین کیا تو گجرات ہمارے پیچھے،دائیں جانب دریا اورسیالکوٹ،ہمارے سامنے ضلع بھمبرکی تحصیل برنالہ اور تھانہ سگری کی حدود شروع ہو رہی تھی۔ ہم لمبا سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔ یہاں دور،دور کوئی بندہ بشر نظر نہیں آ رہا تھا لیکن جنگل میں دور دور کہیں کہیں فوجی پوسٹیں اور ٹاور نظر آرہےتھے۔ جس سے پتا چلتا کہ ہم سرحد کے ساتھ ساتھ سفرکر رہے ہیں۔ایک جگہ سرسبز دھان کے کھیتوں میں چھوٹا سا پرائمری سکول تھا۔جوچاردیواری کے بغیرتھا۔ سکول میں دو ٹیچر بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ بچوں کی تعداد کم تھی۔ایک کمرے کے ماتھے پر گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول مناورہ لکھا ہوا تھا جبکہ گاوۤں سکول سے فاصلے پر تھا۔ ہم نے ٹیچر سے راستہ پوچھا،اس نے سڑک،جنگل اور پہاڑیوں کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا کہ وہاں فوجی نہیں جانے دیں گے۔ میرے دوست نے موٹرسائیکل سٹارٹ کیا ہم چل پڑے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک، کچا راستہ موٹر سائیکل کا لمبا سفر تھا۔ جس کی وجہ سے تھکن کا احساس ہورہا تھا۔ تاحدِ نگاہ کوئی بندہ بشر نہیں تھا تو چائے کہاں سے مل سکتی تھی۔ یہاں سے دور تک نظر دوڑائیں تو کھیتوں میں فوجی کام کرتے نظرآ رہے تھے۔ یہاں کثیر تعداد میں پیپل کے بوڑھے پیڑ تھے۔ ہمیں درختوں کے عین درمیان چھوٹا سا مندر نظر آیا ۔ ہمارے قدم خود بخود رک گئے۔ ایک بوڑھا آدمی مال مویشی چرا رہا تھا۔ وہ دیکھ کر ہمارے پاس آگیا۔ یہ مندر ویران تھا۔ اِس مندرکی عمارت کی گواہی کافی تھی کہ یہ ہند کی تقسیم سے کئی سال پہلے کا تھا۔اس پر رنگ روغن پرانا نہیں بلکہ پانچ سے دس سال پہلے کا تھا ۔ مندر کی پیشانی پر ہندی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ ہمیں چرواہے بابا نے بتایا کہ یہ رادھا کرشنا کا مندرہے۔ یہ جنگل میں ہندووں کی آخری نشانی ہے۔ ہم نے پوچھا آپ کو کیسے پتا کہ یہ رادھا کرشنا کا مندر ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ میرے بزرگوں نے بتایا تھا جب ہند ایک ملک تھا تب ہندووں کوعبادت کرتے دیکھا تھا۔ وہ بھجن الاپتے تھے ،ہرے رام ہرے کرشنا، شیو شام،رادھا کا رام، ہم نسلوں سے سنتے آئے ہیں کہ یہ رادھا کرشنا کا مندر ہے۔ ہندومت کے پیرو کار کو ہندو کہا جاتا ہے۔ ہندووۤں کی مذہبی کتاب،،بھگوت گیتا،،ہےجبکہ ہندو مت کی مذہبی زبان سنسکرت ہے جس کے معنی ،،مہذب اور مقدس،، کے ہیں ۔ ہندو مت میں رام اُوتار سے بڑے اوتار کا نام کرشن ہے۔ جن کے نام کی نسبت سے یہ رادھا کرشنا کا مندر تھا ۔ جو ہمارے سامنے تھا۔ ہم میں سے اکثر نے دیکھا ہوگا کہ انڈیا کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ ویران جنگل یا دور دراز ویران و سنسان پہاڑوں میں مندر ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی مندر تھا جو سرحد کے اس طرف تھا۔ جو اگرچہ ویران تاہم ابھی تک دست برد زمانہ سے کسی حد تک بچا ہوا تھا۔ جو ویران جنگل میں منگل لگ رہا تھا۔ ہم نے بابا سے راستہ پوچھا تو ہم جنگل سے دریا کی طرف نکل گئے جو مقبوضہ کشمیر سےآ رہا تھا۔ جو اس مقام سے پاکستانی کشمیر میں داخل ہو رہا تھا۔ جو آگے جا کر ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں مل جاتا ہے۔ یہاں اِس دریا کو دریائے مناورہ بولتے ہیں۔ جواُس گاوۤں کے نام کی نسبت سے تھا پرجس کو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ یہاں دل کو موہ لینے والا انتہائی خوبصورت نظارہ تھا۔ جس کا صرف ایک آوارہ گرد ہی نظارہ کر سکتا تھا۔ چار سو بڑے بڑے درخت، ہرا بھرا جنگل، سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلہ شروع ہو رہا تھا۔ لیکن حیرانی یہ تھی کہ دور دورتک آبادی نہیں تھی۔ یہ چھمب جوڑیاں سیکٹر کہلاتا ہے ۔ یہاں 1965ء میں گھمسان کی جنگ ہوئی تھی ۔ ہم نے جی بھر کر قدرت کے اِس نظارے کا نطارہ کیا۔ ہم نے سفر جاری رکھا ہم چھمب جوڑیاں فوجی پوسٹ پر پہنچ گئے۔ جس کے سامنے سڑک بند تھی،جبکہ ایک سڑک بائیں طرف گھوم رہی تھی جس کے کنارے بورڈ پر قصبہ موئل، برنالہ اوربھمبرلکھا ہوا تھا اور تیر کے نشان سے سمت کا اشارہ، ہندسوں میں کلو میٹر لکھے ہوئے تھے۔ وہاں سے ہم موئل پہنچے تو چھوٹے سے ٹرک ہوٹل پر رک گئے۔ ہم نے ہوٹل مالک جس کا نام بٹ تھا کو چائے کا آرڈر دیا تو وہ پوچھنے لگا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں۔ ہمیں اس کی بات پر دکھ تو ہوا ہی حیرانی زیادہ ہوئی،میں نے کہا ہم سو کلومیٹرسفر کرکے سیالکوٹ سے آپ کے قصبہ تک آئے ہیں۔آپ ایسے سلوک کر رہے ہیں جیسے ہم پاکستان سے لمبا سفر کرکے کینیڈا پہنچ گئے ہیں۔ اس کو اس بات پر ذرا بھر شرمندگی نہیں ہوئی بلکہ بولا کہ ہم یہاں اِس طرح ہی پوچھتے ہیں جو لوگ گجرات، سیالکوٹ، پنجاب سے آتے ہیں۔ ایک بار جب میں نے یہ بات باغ،چکار،ہٹیاں بالا،گڑھی دوپٹہ،مظفرآباد اپنے دوستوں کو بتائی تو وہ بتاتے ہیں کہ ہم میر پور،بھمبر کو پنجاب کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کی باتوں کا برا نہ منائیں، جبکہ وہ ہمارا دوسرے دوستوں سے تعارف کروا رہے تھے کہ یہ پنجاب پاکستان سے آئے ہیں۔یہ سن کر مجھ کو زرا برابر حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ میں حیران اور پریشان ہو آیا تھا ۔ یہ باتیں سن کر وہ شعر یاد آ گیا جو چند دن پہلے ایک کتاب میں پڑھا تھا وہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
میں نے رکھی ہے محبت کی روایت زندہ
اَب یہ محبت کی روایت ہے مجھے زندہ رکھے
آج کا سفرمکمل ہوگیا تھا۔ ہم واپسی کے سفرپرگجرات ٹاندا کےعلاقہ میں سرحدی قصبہ بڑیلہ شریف پہنچے۔ وہاں دو بڑے،بڑے دربارہیں۔ ایک دربار میں ایک نہایت لمبی قبر تھی۔ جو کم وبیش ساٹھ گز سے لمبی ہوگی۔اِن درباروں پر لکھی تحریر سے لگتا تھا کہ یہ دربار حضرت آدم کے زمانہ کے ہیں۔ ہمیں شام ہوچکی تھی۔ ہم درباروں پرحاضری دے کر باہر نکلے تو وہاں ایک ڈھابہ نما ہوٹل سے جلیبیاں کھائیں اور کڑک چائے پی۔ جس نے دل و دماغ میں بجلی سے دوڑا دی تھی۔ سفر وسیلہ ظفر ہے،سفرانسان کوعلم دیتا ہے،روشنی ملتی ہے، نئے راستہ نکلتا ہے، نئے لوگ ملتے ہیں،نئے سبق ملتے ہیں، سیکھنے کو ملتا ہے،اِس سے پہلے کہ اندھیرے کی چادرچار سو لپیٹ میں لے لے۔ مہرمومن نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور واپسی کے لیئے ہیڈ مرالہ کی طرف جانے والی سنسان سڑک پر چل پڑے۔ سڑک سنسان تھی،دن نے شام جبکہ شام کے ہرکارے نے رات کو جگا دیا تھا۔ہم رات سیاہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچنا چاہتے تھے۔سارا دن کی آوارہ گردی کے بعد رات گھر کی دنیا میں بسر ہو تو اچھا ہے۔ ایک سفر پر یہ بھی ایک آوارہ گرد نے بولا تھا ۔

شاہد محمود سیالکوٹ
01/11/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں