منتہا کی چیخیں اور ہمارا مردہ ضمیر
بعض خبریں صرف خبریں نہیں ہوتیں، وہ قوم کے ضمیر پر لگے ہوئے ایسے زخم بن جاتی ہیں جو برسوں تک نہیں بھرتے ، بعض واقعات صرف چند سطروں میں بیان نہیں کئے جا سکتے ، کیونکہ ان کے پیچھے ایک ماں کی سسکیاں ایک باپ کے ٹوٹے ہوئے خواب ، ایک خاندان کی بربادی اور پورے معاشرے کی بے حسی چھپی ہوتی ہے سرگودھا کی سات سالہ معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ بھی انہی سانحات میں سے ایک ہے جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ایک ننھی کلی،ایک معصوم فرشتہ،ایک ایسی بچی جس کی آنکھوں میں خواب تھے،جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، جس کی زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی، اسے چند سفاک ذہنیت رکھنے والے افراد نے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی ، جب بھی منتہا کی خبر پڑھتا ہوں یا اس سے متعلق کوئی منظر میری نظروں کے سامنے آتا ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور روح تک زخمی محسوس ہوتی ہے،انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے
آنکھوں کے سامنے ایک ننھی سی بچی کا معصوم چہرہ آ جاتا ہے جو شاید اپنے گھر سے یہ سوچ کر نکلی ہوگی کہ دنیا محبت اور حفاظت کا نام ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ انسانوں کے روپ میں چھپے چند درندے اس کی زندگی کے چراغ کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیں گے ، منتہا صرف ایک بچی نہیں تھی، وہ ایک خاندان کی امید تھی، اپنے والدین کی آنکھوں کا نور تھی، اپنے گھر کا قہقہہ تھی، اپنی ماں کی دعاؤں کا حاصل تھی، لیکن چند بے رحم اور سنگ دل لوگوں نے اس معصوم کلی کو مسل ڈال ، یہ سوچ کر روح کانپ جاتی ہے کہ ایک سات سالہ بچی کس قدر خوف اور اذیت سے گزری ہوگی ،اس کی چیخیں، اس کے آنسو اور اس کی بے بسی شاید آسمان تک پہنچی ہوں گی، مگر زمین پر موجود ظالموں کے دل نہ پگھلے،کہ آخر ایک سات سال کی بچی کسی کا کیا بگاڑ سکتی تھی؟ وہ تو ایک معصوم فرشتہ تھی، ایک ایسا پھول جسے ابھی مکمل طور پر کھلنا بھی نصیب نہ ہوا تھا، بیٹیاں کسی ایک گھر کی نہیں وہ پورے معاشرے کی عزت ہوتی ہیں، ان کی مسکراہٹ میں مستقبل کی روشنی چھپی ہوتی ہے اور ان کے وجود میں رب کریم کی رحمت جھلکتی ہے ،جب کسی ایک بیٹی پر ظلم ہوتا ہے تو درحقیقت پورا معاشرہ زخمی ہوتا ہے، جب ایک معصوم بچی کی چیخیں فضا میں بلند ہوتی ہیں تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، منتہا کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پوری قوم کا المیہ ہے،یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ہر ماں، ہر باپ، ہر بھائی اور ہر بہن کو خوف اور غم میں مبتلا کر دیا ہے،والدین اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور یہ سوچ کر کانپ اٹھتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ یہ ظلم ان کے گھر کے کسی پھول کے ساتھ ہوتا تو ان پر کیا گزرتی، اس واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری یقیناً قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہم کامیابی ہے،سرگودھا پولیس نے مقدمے میں پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت دیگر افراد کو حراست میں لیا اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا ،یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ جدید تفتیشی نظام اور موثر تحقیقات کے ذریعے مجرموں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی، پنجاب حکومت کی جانب سے جرائم کی تحقیقات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات بھی اس سلسلے میں اہمیت رکھتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف گرفتاری کافی ہے؟ ہرگز نہیں ، ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو صرف موت کی سزا کافی نہیں بلکہ ایسی سخت اور عبرتناک سزا ملنی چاہیے جو معاشرے کے دوسرے جرائم پیشہ عناصر کے لیے واضح پیغام بن جائے ، سزا کا مقصد صرف ایک مجرم کو جیل بھیجنا نہیں بلکہ آئندہ کسی معصوم بچی کے خلاف جرم کا ارادہ رکھنے والے شخص کے دل میں خوف پیدا کرنا بھی ہے، یہ وقت سیاسی بحثوں، ذاتی مفادات اور وقتی جذبات کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا ہے، ہمیں بطور قوم اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا، ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت، ان کی تربیت، ان کی نگرانی اور ان کے حقوق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا،اسکولوں، محلوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر بچوں کے تحفظ کے مؤثر انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک مہذب معاشرے کی اجتماعی خواہش بھی ہونا چاہیے ، جب تک ہم ظلم کے خلاف ایک آواز نہیں ہوں گے، جب تک ہم معصوموں کے حق میں کھڑے نہیں ہوں گے، تب تک ایسے سانحات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں گے ، صرف حکومت یا پولیس پر انحصار کرنا کافی نہیں ہے ،ہمیں بحیثیتِ معاشرہ اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔
1. مجرموں کا بائیکاٹ: ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کے حق میں اگر کوئی برادری یا بااثر شخصیت سامنے آئے، تو اس کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے
2.- بچوں کی تربیت اور آگاہی: ہمیں اپنے بچوں کو ‘گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ’ کے بارے میں سکھانا ہوگا اور انہیں ماحول کے خطرات سے آگاہ کرنا ہوگا۔
3. محلوں کی سطح پر نگرانی: اپنے اردگرد مشکوک افراد پر نظر رکھنا اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر فوری آواز اٹھانا ہم سب کا فرض ہے،والدین، اساتذہ، علماء،سماجی کارکنوں اور پورے معاشرے کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی،ہمیں اپنے بچوں کو تحفظ کے اصول سکھانے ہوں گے،ان کی نگرانی کرنی ہوگی اور ایسے ماحول کو فروغ دینا ہوگا جہاں بچے خود کو محفوظ محسوس کریں،اگر معاشرہ اجتماعی طور پر جاگ جائے تو بہت سے جرائم وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکے جا سکتے ہیں، منتہا آج ہمارے درمیان موجود نہیں،لیکن اس کی یاد، اس کی معصومیت اور اس کے ساتھ ہونے والا ظلم ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا، اس ننھی فرشتہ کی مظلومانہ موت ہم سب سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی ایک محفوظ معاشرہ بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں؟ کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دے سکیں گے جہاں بچے خوف کے بغیر کھیل سکیں، مسکرا سکیں اور اپنے خواب پورے کر سکیں ؟ منتہا کی قبر پر شاید آج بھی خاموشی چھائی ہوگی، مگر اس خاموشی میں ایک فریاد پوشیدہ ہے ، یہ فریاد انصاف کی ہے، یہ فریاد انسانیت کے بیدار ہونے کی ہے، یہ فریاد اس بات کی ہے کہ کسی اور ماں کی گود یوں ویران نہ ہو، کسی اور باپ کے خواب یوں نہ ٹوٹیں اور کسی اور معصوم بچی کی زندگی درندوں کی ہوس کا شکار نہ بنے ، آئیے عہد کریں کہ ہم منتہا کو صرف چند دن یاد کر کے نہیں بھول جائیں گے بلکہ اس کے نام کو انصاف، شعور اور تحفظِ اطفال کی جدوجہد کی علامت بنائیں گے ، کیونکہ قومیں اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے معصوموں کے خون کا حساب مانگتی ہیں اور ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ منتہا کو اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے اور ہمارے معاشرے کو ایسا شعور عطا کرے کہ آئندہ کسی معصوم کلی کو یوں بے دردی سے نہ مسلا جا سکے۔ آمین۔
ننھی منتہا تو اس بے حس دنیا سے رخصت ہو گئی، وہ اب جنت کے باغوں میں ایک چہچہاتی چڑیا بن چکی ہوگی جہاں نہ کوئی درد ہے اور نہ ہی کوئی درندہ ، لیکن وہ اپنے پیچھے ہمیں ایک امتحان میں چھوڑ گئی ہے ، اگر آج ہم نے اس معصوم کی آواز بن کر ایسے مجرموں کے لیے عبرتناک سزاؤں کا مطالبہ نہ کیا، اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل کسی اور کی بیٹی اس درندگی کا نشانہ بن سکتی ہے۔ منتہا بیٹی! ہم شرمندہ ہیں کہ ہم تمہیں بچا نہ سکے، لیکن ہم تمہارے سب قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچانے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے ،
میری زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ میں کالم لکھ رہا ہوں اور آنکھوں میں آنسو ہوں ،