104

“خاموشی کے پسِ پردہ — تحریکِ انصاف کی نئی چال یا نئی ابتدا؟”

“خاموشی کے پسِ پردہ — تحریکِ انصاف کی نئی چال یا نئی ابتدا؟”

سیاست کبھی رکی نہیں کرتی۔ وہ کبھی عدالت کے کمرے میں سانس لیتی ہے، کبھی جیل کی سلاخوں میں، کبھی کسی ہسپتال کے بیڈ کے قریب، اور کبھی ایک ووٹ کی گنتی میں چھپی رہتی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حالیہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا ہے کہ سیاسی زندگی محض جلسوں اور نعروں سے نہیں، بلکہ تسلسلِ مزاحمت سے بنتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کی لاہور کے ہسپتال میں ہونے والی ملاقات بظاہر تو ایک رسمی خیرسگالی دکھائی دی، مگر درحقیقت یہ ملاقات اس خاموش رابطہ کاری کا حصہ ہے جو PTI کے منتشر دھاروں کو دوبارہ ایک دھار میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ رہنما جو کچھ عرصہ پہلے “مصلحت” کے نام پر کنارہ کش ہو گئے تھے، اب دھیرے دھیرے واپسی کے موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ قریشی صاحب کی سیاست ہمیشہ سے “ادب اور ادارہ جاتی مزاج” کی سیاست رہی ہے — وہ آواز بلند بھی کرتے ہیں تو لہجہ نرم رکھتے ہیں۔ یہی ان کا سیاسی کمال ہے کہ بحران کے درمیان بھی وہ “درمیانی راستہ” نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب، خیبر پختونخوا سے خُرم ذیشان کی سینیٹ کامیابی ایک علامت ہے — علامت اس بات کی کہ PTI ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ زمین میں جڑیں جما رہی ہے۔ دباؤ، گرفتاریوں، مقدمات، اور میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود اگر کوئی جماعت ایک اہم نشست جیت سکتی ہے، تو یہ ثابت کرتا ہے کہ بیانیہ ابھی زندہ ہے۔

یہ جیت محض ایک سینیٹ سیٹ نہیں، بلکہ “سیاسی اعتماد کی واپسی” کا اشارہ ہے۔ وہ اعتماد جو کبھی بنی گالہ کے لان میں نعرہ بن کر گونجتا تھا، اب خاموشی کے ساتھ دوبارہ لوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ شاید وقت نے PTI کو سمجھا دیا ہے کہ سیاست صرف کرسی کا کھیل نہیں، بلکہ برداشت، حکمت اور مستقل مزاجی کا نام ہے۔

حکومت اور مخالفین دونوں کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ کیا کسی جماعت کو دبانے سے اُس کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں — یا وہ مٹی کے نیچے جا کر مزید مضبوط ہو جاتی ہیں؟
تاریخ کہتی ہے، آوازیں دبانے سے ختم نہیں ہوتیں، وہ لہجے بدل لیتی ہیں۔

آج PTI کی قیادت جیلوں، عدالتوں اور بیانات میں بٹی ہوئی ضرور ہے، مگر اس کا ووٹر اب بھی “خاموش مگر پُرعزم” ہے۔ وہ شور نہیں مچاتا، مگر ووٹ ڈالتا ہے۔ وہ بینرز نہیں اٹھاتا، مگر دل میں امید رکھتا ہے۔ اور سیاست میں سب سے خطرناک حریف وہ ہوتا ہے جو بولے کم اور سوچے زیادہ۔

خواتین کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والی ایک مبصر کے طور پر میں یہ کہوں گی کہ PTI کی یہ نئی لہر بیانیے سے زیادہ حکمتِ عملی کی لہر ہے۔ عمران خان کی غیرموجودگی میں جماعت اب “جذباتی سیاست” سے “ادارہ جاتی سیاست” کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ تبدیلی برقرار رہی، تو آنے والے مہینوں میں سیاست کے افق پر ایک نیا توازن ابھر سکتا ہے۔

شاید یہی وقت ہے جب PTI کو اپنے اندر سے یہ آواز دینی ہوگی کہ “ہم یہاں ختم ہونے نہیں، نیا آغاز کرنے آئے ہیں۔”
سیاست کے اس نئے دور میں اب نعرے نہیں، عمل بولے گا۔ اور شاید یہی خاموشی — وہ سب سے اونچی آواز ہے، جو آنے والے وقت میں سب کو سنائی دے گی۔

@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں