“تعلیم کا نیا عہد — پنجاب کی نجکاری پالیسی کا روشن رخ”
پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک خاموش مگر تاریخی انقلاب جنم لے رہا ہے۔ پنجاب حکومت کا فیصلہ کہ سرکاری کالجوں کو مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کیا جائے، بہتوں کے لیے چونکانے والا ہو سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک دور اندیش، عملی اور ترقی پسندانہ قدم ہے — ایسا قدم جو آنے والی نسلوں کے تعلیمی مستقبل کو روشن سمت دے سکتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے بیوروکریسی، سیاسی اثرات اور انتظامی سستی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی، مگر اساتذہ، سہولیات، اور معیارِ تعلیم میں تنزلی کا سلسلہ جاری رہا۔ کالجوں کے کمرے خستہ حال، لیب خالی، اور لائبریریاں بند دروازوں کی طرح ویران ہو چکی تھیں۔ ایسے میں اگر حکومت نے نجی شراکت داری کے ذریعے ان اداروں میں زندگی کی نئی سانس ڈالنے کا عزم کیا ہے تو یہ فیصلہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
تنقید کرنے والے اسے “نجکاری” کہہ کر خوف پھیلا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل “اصلاحِ تعلیم” کی سمت میں ایک جراتمند قدم ہے۔ دنیا بھر میں Public-Private Partnership (PPP) ماڈل نے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں حیرت انگیز نتائج دیے ہیں۔ برطانیہ، ملائشیا، ترکی، اور بنگلہ دیش تک نے اس طرزِ اصلاحات سے اپنے اداروں کو مضبوط کیا۔ تو پھر پاکستان کیوں نہیں؟
پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے۔ کالجوں کو بہتر سہولیات، جدید نصاب، مستعد انتظامیہ اور مؤثر احتساب فراہم کرنا ہی اصل مقصد ہے۔ حکومت اب “نگران” کے بجائے “راہنما” کا کردار ادا کرے گی — پالیسی بنائے گی، معیار طے کرے گی، مگر ادارے چلانے کی ذمہ داری پروفیشنل انتظامیہ کے سپرد کرے گی۔
یہ درست ہے کہ کچھ لوگ خوف زدہ ہیں کہ نجکاری سے فیسیں بڑھ جائیں گی، یا غریب طلبہ متاثر ہوں گے۔ مگر حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ تعلیمی رسائی ہر شہری کا حق رہے گا، اور میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر اسکالرشپ، سبسڈی اور فری ایجوکیشن پروگرام جاری رہیں گے۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ جہاں پہلے کالجوں میں ایک بلب بدلنے کے لیے بھی ہفتے لگ جاتے تھے، اب ایک ای میل سے کام ہو جائے گا۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ نے درست کہا:
> “تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر معیار برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری۔”
یہ جملہ دراصل اس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو ریاست کو “نوکری دینے والی فیکٹری” سے “قابلیت پیدا کرنے والے ادارے” میں بدلنا چاہتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری نہیں، صلاحیت ہے۔ اگر پرانا نظام اس صلاحیت کو کچل رہا ہے تو اس کا دفاع نہیں، اصلاح ضروری ہے۔ اور اگر حکومت نے اصلاح کے لیے قدم بڑھایا ہے، تو یہ عوام کی حمایت کا مستحق ہے۔
آج کے بدلتے ہوئے زمانے میں وہ قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جنہوں نے اپنے اداروں میں کارکردگی کو ترجیح دی، محض تنخواہوں اور حاضریوں کو نہیں۔ پنجاب کا یہ فیصلہ اسی سوچ کا مظہر ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کے بوجھ سے نکل کر مستقبل کے راستے پر چلیں — کیونکہ قومیں تب بنتی ہیں جب وہ تبدیلی سے ڈرتی نہیں، بلکہ اسے گلے لگاتی ہیں۔
یہ نجکاری نہیں — یہ احیائے تعلیم ہے۔
یہ پسپائی نہیں — یہ پیش رفت ہے۔
اور یہ تجربہ نہیں — یہ تحریک ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@