119

ٹرمپ، ٹوکیو اور طاقت کا نیا کھیل”

ٹرمپ، ٹوکیو اور طاقت کا نیا کھیل”

دنیا کی سیاست کبھی خاموش نہیں رہتی۔ کبھی ایوانوں کے قالینوں پر چلتے قدموں کی چاپ، کبھی آسمان پر ابھرتی ایک روشنی۔ جاپان کے آسمان پر نمودار ہونے والی وہ پراسرار شے، جس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ ٹوکیو کو ایک نئی بحث میں ڈال دیا، دراصل محض ایک ویڈیو کلپ نہیں — یہ آنے والے وقتوں کی ایک علامت ہے۔

جب طاقتور قومیں آسمانوں تک رسائی کے خواب دیکھ رہی ہوں، تو کمزور ملک زمین پر اپنے قدم جمانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے جہاز کے سائے میں چمکتی وہ روشنی شاید کسی سیٹلائٹ، ڈرون یا روشنی کا فریب ہو، مگر اصل فریب تو عالمی سیاست کے کھیل میں چھپا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ خبریں محض دلچسپی کا سامان نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہیں کہ طاقت کے اس عالمی شطرنج پر ہماری بساط کہاں رکھی گئی ہے۔ ہم جن سیاستدانوں کے وعدوں اور خوابوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ خود انہی طاقتوں کے اشاروں پر رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا دورۂ جاپان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب دنیا کے حکمران فضا میں اڑتے ہیں، ہمارے لیڈر اب بھی بجلی کے بل، قرضوں کے وعدوں، اور عوامی نعروں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل وہ روشنی دراصل ایک سوال ہے — کیا یہ واقعی کسی دوسری دنیا کی نشانی تھی؟ یا پھر انسانوں کی اُس دنیا کی، جہاں طاقتور ملک کمزور قوموں کے دماغوں میں خوف کے بادل بٹھا کر اپنی برتری قائم رکھتے ہیں؟

پاکستان کی سیاست میں بھی آج ایسے “نامعلوم اجسام” روزانہ اڑتے ہیں — کبھی کسی وزارت کے اوپر، کبھی کسی عدالت کے اندر۔ کوئی کہتا ہے یہ “نظام کا کھیل” ہے، کوئی کہتا ہے “طاقت کے مراکز کی چال”۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے آسمان پر جو روشنیاں دکھائی دیتی ہیں، وہ اکثر زمین پر بیٹھے کسی کے ری remote control سے چلتی ہیں۔

جب ٹرمپ جاپان کے ایئرپورٹ پر اتر رہے تھے، دنیا کی نظریں آسمان پر تھیں — لیکن اصل کھیل زمین پر ہو رہا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ملک میں عوام کی نظریں سڑکوں پر ہوتی ہیں، اور فیصلے کہیں بند کمروں میں۔

طاقت کے اس دور میں سیاست ایک نیا مذہب بن چکی ہے — اور میڈیا اس کا منبر۔ جاپان کے آسمان پر ابھرتی ایک روشنی، پاکستان کے اخبارات کی سرخی بن جاتی ہے، مگر کراچی کے آسمان پر روز مرنے والے خواب کسی کالم کی سطر نہیں بنتے۔

یہی دنیا کا تضاد ہے — جہاں کچھ لوگ آسمانوں پر اجنبی روشنیوں کا تجزیہ کرتے ہیں، اور کچھ زمین پر بجلی کے تاروں سے لٹکتی امیدوں کا۔
شاید وہ روشنی کوئی پیغام تھی، یا شاید محض ایک جھلک۔ مگر اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کی دنیا میں کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — بس منظر بدلتا رہتا ہے۔

@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں