44

”سرمایہ کا رخ“ دنیا کے مالیاتی افق پر ہر سرمایہ ایک سمت تلاش کرتا ہے — کہیں منڈی کی وسعت، کہیں پالیسی کی

”سرمایہ کا رخ“

دنیا کے مالیاتی افق پر ہر سرمایہ ایک سمت تلاش کرتا ہے — کہیں منڈی کی وسعت، کہیں پالیسی کی استحکام، کہیں انسانی محنت کی فراوانی۔ مگر جب دبئی کی بندرگاہوں سے چل کر ۵ ارب ڈالر کا سرمایہ بھارت کی سرزمین کی طرف بڑھتا ہے، تو سوال محض معیشت کا نہیں رہتا، یہ سوال بدلتے ہوئے عالمی طاقتوں اور خطے کی پالیسیوں کا بن جاتا ہے۔

DP World کا اعلان کہ وہ بھارت میں مزید پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، بظاہر ایک تجارتی خبر ہے، لیکن اس کے سائے بہت گہرے ہیں — خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں۔
یہ سرمایہ محض سڑکیں، بندرگاہیں اور لاجسٹک مراکز تعمیر نہیں کرے گا، بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں “معاشی اثر و رسوخ” کی نئی لکیریں کھینچنے جا رہا ہے۔

پاکستان، جس نے کبھی خلیج کے سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھولنے میں پیش قدمی کی تھی، آج شاید اس دوڑ میں پیچھے نظر آتا ہے۔ وجوہات کئی ہیں — سیاسی غیر یقینی، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، اور سب سے بڑھ کر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا متزلزل ہونا۔ مگر سوال یہ ہے: کیا اب بھی دیر ہو چکی ہے؟ ہرگز نہیں۔

اگر ہم خلیجی سرمایہ کاری کے مزاج کو سمجھیں، تو یہ صرف معیشت نہیں، “اعتماد کی معیشت” ہے۔
دبئی، قطر، اور سعودی عرب جیسے ممالک کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے دو باتوں پر نظر ڈالتے ہیں:

1. کیا ملک میں پالیسی مستقل ہے؟

2. کیا حکومت سرمایہ کار کو خود اپنا سمجھتی ہے؟

بھارت نے ان دونوں سوالوں کے جواب عملی اقدامات سے دیے ہیں۔ “میڈ ان انڈیا” کا نعرہ صرف ایک اشتہار نہیں، بلکہ ریاستی پالیسی ہے۔
انہوں نے اپنے پورٹس، ریلوے، ای-کامرس، اور لاجسٹک سسٹمز کو اس طرح مربوط کیا کہ بیرونی سرمایہ خود بخود کھنچنے لگا۔
پاکستان اگر اپنی گوادر بندرگاہ، سی پیک روٹ، اور لاجسٹک کوریڈورز کو اسی شفافیت اور تسلسل سے آگے بڑھائے، تو خلیجی سرمایہ کا رخ دوبارہ کراچی، گوادر، اور لاہور کی سمت ہو سکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے۔ معیشت صرف قرض لینے سے نہیں، اعتماد پیدا کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان کے پاس گوادر کی شکل میں وہ سنہری موقع ہے جو بھارت کے پاس نہیں۔
گوادر وہ دروازہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو وسطی ایشیا اور چین تک لے جاتا ہے۔
اگر حکومت آج سے ہی گوادر کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے مخصوص پالیسی فریم ورک تیار کرے — شفاف ٹیکس مراعات، آسان کسٹم سسٹم، اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے قانونی تحفظ — تو آنے والے دس برسوں میں جنوبی ایشیا کا اقتصادی نقشہ مختلف ہوگا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں ڈیجیٹل صلاحیت، انجینئرنگ اور تجارت کی وہ قوت موجود ہے جو خلیجی سرمایہ کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہے۔ ہمیں صرف اس توانائی کو سمت دینی ہے۔
حکومت اگر اپنی ترجیحات کو صنعتی بنیادوں پر منتقل کرے، تو “ڈی پی ورلڈ” جیسی کمپنیوں کے دروازے دوبارہ پاکستان کی طرف کھل سکتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی، روایت اور وژن کو ایک ساتھ ملا کر پیش کرے۔
دبئی نے سرمایہ کو سمت دی، بھارت نے زمین دی — اب پاکستان کو قابلیت اور شفافیت دینی ہے۔

جن قوموں نے بندرگاہوں سے دنیا بدلی، ان کے پاس دولت سے زیادہ ویژن تھا۔
پاکستان کے پاس دولت شاید کم ہو، مگر وژن پیدا کرنے کی گنجائش ابھی باقی ہے۔
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ فیصلہ کرنے والے خواب دیکھنے سے نہ ڈریں۔

@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں