”سرحد کے محافظ — خاموش فتح کے سپاہی“
—
ایک وقت تھا جب سرحد کے اس پار سے آنے والی گولی محض دھات کا ٹکڑا نہیں ہوتی تھی، وہ پاکستان کے عزم، حوصلے اور خودمختاری پر ایک وار ہوا کرتی تھی۔ آج جب ریاستِ پاکستان کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب سربراہ قاری امجد کو انجامِ کار پہنچایا ہے، تو یہ واقعہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک پیغام ہے— ایک خاموش مگر فیصلہ کن پیغام۔
یہ پیغام ان سب کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان اب تھک چکا ہے، اس کے جوان مایوس ہیں، یا قوم کے جذبے میں دراڑ آ گئی ہے۔ نہیں۔ پاکستان آج بھی وہی ہے جو کارگل کی برفوں میں سانس لیتا ہے، وزیرستان کے پہاڑوں میں اپنا پسینہ بہاتا ہے، اور کراچی کی گلیوں میں اپنے خون سے امن کے چراغ جلاتا ہے۔
حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت کی ہم آہنگی، اس واقعے میں سب سے نمایاں پہلو ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جس عزم کے ساتھ سرحدی محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ اس بات کا اعلان ہے کہ ملک کے سیاسی اور عسکری ادارے آج ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ کسی زمانے میں ایسے واقعات کے بعد سیاست اور اداروں کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، مگر آج بیانیہ ایک ہے: “پاکستان کی سلامتی مقدم ہے۔”
قاری امجد کی ہلاکت محض ایک عسکری کامیابی نہیں، بلکہ اس طویل جنگ میں ایک سنگِ میل ہے جو 20 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ یہ وہ دشمن تھا جو بارہا مذاکرات کے نام پر فریب دیتا رہا، کبھی پہاڑوں سے حملہ کرتا، کبھی شہروں کے بیچ خودکش دھماکوں کے ذریعے معصوم جانیں لیتا۔ مگر آج وہی دشمن، اپنے انجام تک پہنچا — اور یہ انجام اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ ریاست کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ، آخرکار ریاست کی مٹھی میں آ جاتا ہے۔
یہ کامیابی صرف بندوق سے حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے وہ خفیہ ایجنسیاں ہیں جن کے گمنام جوان دن رات معلومات اکٹھی کرتے ہیں، وہ ماں ہے جو دعا کے سہارے اپنے سپاہی بیٹے کو رخصت کرتی ہے، وہ عوام ہیں جو خوف کے باوجود امن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں بحیثیت قوم سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ان قربانیوں کی قدر کرتے ہیں؟ کیا ہم ان چہروں کو یاد رکھتے ہیں جو کسی خبر کی ہیڈ لائن بن کر خاموش ہو جاتے ہیں؟ شاید ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک سپاہی کی شہادت، صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتی — وہ پوری قوم کے سکون کی قیمت ہوتی ہے۔
حکومتِ وقت کے فیصلے — چاہے وہ داخلی سلامتی سے متعلق ہوں یا سرحدی پالیسیوں سے — آج درست سمت میں جا رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے تحمل، حکمت اور بین الاقوامی توازن کا مظاہرہ کیا۔ اور اسی توازن نے یہ موقع پیدا کیا کہ ایک جانب امن کی بات چلے، اور دوسری جانب دہشت گردی کے اصل ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔
پاکستان اب وہ ملک نہیں رہا جو ردِعمل دیتا ہے؛ اب یہ وہ ملک ہے جو پہل کرتا ہے۔ دشمن کے ٹھکانے تک پہنچ کر، خاموشی سے، نشانے پر گولی چلاتا ہے اور واپس لوٹ آتا ہے — بنا شور شرابے کے، بنا سیاست کے، صرف فرض کے نام پر۔
یہی نیا پاکستان ہے۔
یہی وہ پاکستان ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے۔
جہاں حکومت کا ہاتھ فوج کے شانے پر ہے، اور عوام کی دعا ہر وردی کے پیچھے کھڑی ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@









