89

“سمندر کے پار نئی دستک — کراچی سے ڈھاکا تک امید کی ایک راہداری”

“سمندر کے پار نئی دستک — کراچی سے ڈھاکا تک امید کی ایک راہداری”

دنیا بدل رہی ہے، اور بدلتے ہوئے اس منظرنامے میں قومیں جب اپنی معیشت کو وسعت دینے کے لیے نئے دروازے کھولتی ہیں تو وہ صرف تجارت نہیں بلکہ تعلقات کے نئے معنی تراشتی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو کراچی کی بندرگاہ استعمال کرنے کی پیشکش محض ایک سفارتی یا تجارتی خبر نہیں، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کے نقشے پر ایک روشن لکیر ہے، جو ماضی کے زخموں سے نکل کر مفاہمت، اعتماد اور مشترکہ ترقی کی راہ دکھا رہی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تجارتی گزرگاہوں کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے اپنی سرحدی بندشوں اور تجارتی راہداریوں کے محدود رویے کے برعکس پاکستان نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ امن کے امکانات کو بھی تقویت دیتا ہے۔ کراچی، جو کبھی صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ برصغیر کے تجارتی خوابوں کا مرکز رہا، اب دوبارہ اپنے اسی تاریخی کردار کی طرف لوٹ رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی جیوٹ مصنوعات، جو عالمی سطح پر مانگ رکھتی ہیں، اب کراچی کے ذریعے نئی منڈیوں تک پہنچ سکیں گی — اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست کے بجائے ترقی کا بیانیہ مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان کے اس قدم کی گونج عالمی منڈیوں تک سنائی دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا کے ممالک اکثر کشیدگی اور تعصب کی نذر ہو جاتے ہیں، یہ اقدام ایک پرامن اقتصادی سفارتکاری کی مثال ہے۔ حکومتِ پاکستان نے یہ دکھا دیا ہے کہ قوموں کے درمیان ماضی کے اختلافات پر نہیں، بلکہ مستقبل کے امکانات پر بات ہونی چاہیے۔ بنگلہ دیش کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے صنعتی اور تجارتی امکانات کو وسعت دے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ راستہ بیرونی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی ساکھ کے استحکام کی صورت میں نفع مند ثابت ہوگا۔

کراچی، جسے اکثر شور، دھول، اور ہجوم کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، دراصل اس خطے کی سب سے بڑی امیدوں کا مرکز ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں سے تجارت کے جہاز نکلتے ہیں، تعلقات کے پل بنتے ہیں، اور عالمی اعتماد کا سفر شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کا یہ قدم اسی اعتماد کی بحالی کا اعلان ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک بندرگاہ کے استعمال کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو ماضی کی تلخیوں کو مٹا کر اقتصادی تعاون کے راستے پر یقین رکھتی ہے۔

بعض حلقے اس اقدام کو سیاسی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی زبان سیاست سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ جب سرحدوں کے پار روزگار کے مواقع، تجارت کے امکانات اور ترقی کے خواب بانٹے جائیں تو دشمنیاں بھی نرم پڑنے لگتی ہیں۔ پاکستان نے یہ قدم اٹھا کر خطے کو پیغام دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو تاریخ بھی بدل سکتی ہے۔

حکومتِ پاکستان کی اس حکمتِ عملی کو نہ صرف معاشی ماہرین بلکہ امن پسند عوام نے بھی سراہا ہے۔ کیونکہ یہ وہ فیصلہ ہے جو روزمرہ سیاست کے شور سے بلند ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جس میں آنے والی نسلوں کے لیے ترقی، استحکام اور مفاہمت کا وعدہ چھپا ہے۔ شاید یہی وہ وقت ہے جب ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی نئی صبح کراچی کے ساحل سے طلوع ہو رہی ہے، اور اس کی کرنیں ڈھاکا تک پہنچ رہی ہیں۔

یہی پاکستان کی اصل تصویر ہے — دروازے بند کرنے والا نہیں، بلکہ راہیں کھولنے والا ملک۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں