کل کی فضا ٫ آج کی فکر
دنیا کے نقشے پر کچھ شہر ایسے ہیں جو اپنی خوشبو سے پہچانے جاتے ہیں، اور کچھ اپنی دھول سے۔ لاہور ان دونوں کا مرکب ہے — عشق اور آلودگی کا، تاریخ اور دھوئیں کا۔ لیکن اب جب کہ اس شہر کی فضاؤں میں سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ آنے والے کل کی تصویر کیسی ہوگی۔ کیا ہمارے بچے وہی آسمان دیکھ پائیں گے جو ہم نے دیکھا تھا؟ یا پھر یہ نیلا آسمان سرمئی کہر میں ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا؟
یہ سوال کسی شاعر کا خیال نہیں، بلکہ سائنسدانوں اور ماحولیاتی ماہرین کا خوف ہے۔ لاہور کی فضا میں زہریلے ذرات کی مقدار خطرناک حدوں کو عبور کر چکی ہے۔ اس سطح پر اگر کوئی شہر مسلسل چند ہفتے رہا تو سانس کی بیماریاں، آنکھوں کے امراض، دل کے مسائل اور حتیٰ کہ ذہنی دباؤ بھی وبا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر خوش قسمتی یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے اب اس مسئلے کو وقتی خبر کے بجائے قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِ نگرانی “پاک فضا، محفوظ نسل” مہم محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک سائنسی لائحہ عمل ہے۔ حکومت نے اب پہلی بار آلودگی کے خلاف عملی اقدامات میں وہ جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی ہے جو پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔ صنعتوں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، اسکولوں میں ماحولیاتی آگاہی کو نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے، اور سب سے اہم بات — درخت لگانے کو صرف تصویری تقریب کے بجائے ایک شہری ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور سائنس ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ کیونکہ اب مسئلہ ووٹ کا نہیں، سانس کا ہے۔ حکومت کے ناقدین شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا کے بڑے شہر — بیجنگ، دہلی، میکسیکو سٹی — سب اس مرحلے سے گزر چکے ہیں، اور اب وہی پالیسیاں اپنا رہے ہیں جو پنجاب حکومت نے حالیہ مہینوں میں نافذ کی ہیں۔ لاہور میں بجلی سے چلنے والی بسوں کا اجرا، اینٹوں کے بھٹوں پر جدید فلٹرز کی تنصیب، اور زرعی فضلے کو جلانے پر سخت سزا کا قانون، یہ سب اس امر کی گواہی ہے کہ حکومت محض اعلانات نہیں کر رہی بلکہ ایک طویل المدت جنگ لڑ رہی ہے۔
یہ جنگ آسان نہیں۔ اس میں سیاسی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے، کاروباری حلقے ناراض ہوتے ہیں، مگر اگر یہ لڑائی اب نہ لڑی گئی تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں معاف نہ کریں۔ ایک وقت آئے گا جب آلودگی صرف بیماری نہیں، بلکہ سماجی بغاوت کا جواز بن جائے گی۔ جب بچے ماسک کے بغیر اسکول نہ جا سکیں گے، جب سورج کی روشنی محض موبائل وال پیپر پر دیکھی جائے گی۔
حکومت کا ساتھ دینا اس وقت کسی جماعت یا نظریے کی حمایت نہیں بلکہ زندگی کی بقا کی حمایت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہر شہری کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اگر حکومت نے پہلا قدم اٹھایا ہے تو ہمیں دوسرا قدم بڑھانا ہوگا۔ ہم گھروں میں، دفاتر میں، گاڑیوں میں، جہاں بھی ہیں، اپنے رویوں میں تبدیلی لائے بغیر ماحول نہیں بدل سکتا۔
مریم نواز نے حالیہ اجلاس میں ایک جملہ کہا تھا جو شاید آنے والے وقت کا حوالہ بن جائے:
“اگر ہم نے فضا سے دھواں کم نہ کیا، تو وقت ہماری سانسوں کی قیمت وصول کر لے گا۔”
یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ ایک سچائی ہے جسے آنے والے سالوں میں تاریخ دہراتی رہے گی۔ لاہور کے درخت آج خاموش کھڑے ہیں، مگر ان کی شاخوں پر وقت کی دستک سنائی دے رہی ہے۔ شاید ہمیں اب یہ مان لینا چاہیے کہ حکومت کے یہ اقدامات صرف موسم بہتر بنانے کے لیے نہیں، بلکہ مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ہیں۔
ہمیں اپنی تنقید کا رخ بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر فضا ایک ہی رہتی ہے۔ اگر ہم نے آج حکومت کا ساتھ نہ دیا، تو کل یہ زمین ہماری شناخت چھین لے گی۔ اور اُس وقت اخباروں میں کوئی خبر نہیں چھپے گی — صرف ایک جملہ:
“یہ شہر کبھی سانس لیتا تھا۔”