پاک افغان کشیدگی اور واخان کی اسٹریٹجک اہمیت
تحریر: سلمان احمد قریشی
شمالی پاکستان کی برف پوش چوٹیاں، جہاں پامیر، ہندوکش اور قراقرم کے سلسلے ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں وہاں ایک تنگ سی وادی واخان کوریڈورہے۔یہ وہ علاقہ ہے جو افغانستان کو تاجکستان اور چین کے درمیان ایک باریک سی لکیر کی صورت میں جوڑتا ہے۔واخان جغرافیے کا محض ایک حصہ نہیں بلکہ تاریخ کا وہ باب ہے جو گریٹ گیم کے عہد سے تعلق رکھتا ہے وہ زمانہ جب برطانیہ اور روس وسط ایشیا میں اپنی سلطنتوں کے دائرہ اثر کے تعین میں مصروف تھے۔ اسی کھیل کے نتیجے میں واخان ایک ”بفر زون” کے طور پر افغانستان کے حوالے کر دیا گیا تاکہ روسی وسط ایشیا اور برطانوی ہندوستان کے درمیان کوئی براہِ راست سرحد نہ رہے۔1895ء کا اینگلورشین معاہدہ تاریخ کی وہ لکیر ہے جس نے خطے کے نقشے بدل ڈالے۔
اس معاہدے کے مطابق واخان کو بدخشان کے ذریعے افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔ اس وقت گلگت اور ہنزہ برطانوی اثر میں آ چکے تھے جبکہ شمال میں روس تاجکستان تک پہنچ چکا تھا۔ برطانیہ نہیں چاہتا تھا کہ روسی افواج برطانوی ہندوستان کے اتنے قریب ہوں، اس لیے واخان کو ایک ”غیر فوجی بفر“ کے طور پر تشکیل دیا گیا۔یوں افغانستان ایک طرح سے دونوں طاقتوں کے درمیان حفاظتی دیوار بن گیا اور پاکستان کے شمالی حصے سے واخان کی وہ باریک لکیر ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئی۔یہی واخان جو صدیوں سے بدھ مت کے مبلغین، وسط ایشیائی تاجروں اور یاک قافلوں کا گزرگاہ رہا، اب سامراجی طاقتوں کی کھینچی ہوئی ایک مصنوعی سرحد میں قید ہو گیا۔ ہنزہ کے میر جنہیں واخان کے کچھ علاقوں تک اثر و رسوخ حاصل تھا ان کی رسائی بھی ختم ہو گئی۔تاریخ نے یہ سرحد اس طرح کھینچی کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی واخان افغانستان کے نقشے میں رہا۔ لیکن کبھی کبھی یہ سوچنا دلچسپ لگتا ہے کہ اگر واخان پاکستان کا حصہ ہوتا توآج جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کی سیاست کس رخ پر کھڑی ہوتی؟
1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو واخان ایک بار پھر عالمی سیاست کی نظر میں آیا۔روس کے لیے یہ پٹی ایک قدرتی محفوظ راستہ تھی جو چین کے سنکیانگ اور پاکستان کے شمالی علاقوں کے قریب واقع تھی۔ اگر روس اس علاقے کو مکمل طور پر کنٹرول کرتا تو وہ وسط ایشیا سے براہِ راست جنوبی ایشیا کے دروازے پر پہنچ جاتا۔مگر سوویت یونین کے انہدام اور 1989ء میں اس کے انخلا نے واخان کو ایک بار پھر دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ آج بھی یہ علاقہ افغانستان کے بدخشان صوبے کا حصہ ضرور ہے مگر دنیا کے نقشے پر ایک غیر متحرک، خاموش خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان اصل تنازعہ ہمیشہ ڈیورنڈ لائن کے گرد گھومتا رہا ہے۔ 1893ء میں سر مورٹیمر ڈیورنڈ نے افغانستان اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ایک لکیر کھینچی، جسے بعد ازاں پاکستان نے اپنی مغربی سرحد کے طور پر تسلیم کیا۔لیکن افغانستان نے کبھی اس سرحد کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ افغان مؤقف یہ ہے کہ یہ لکیر برطانوی جبر کے تحت کھینچی گئی اور پشتون قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔
یہی پس منظر اس خیال کو جنم دیتا ہے کہ اگر افغانستان ڈیورنڈ لائن کو غیر قانونی قرار دیتا ہے تو پاکستان واخان کے 1895ء کے معاہدے کو بھی چیلنج کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھی برطانوی طاقتوں کی کھینچی ہوئی لکیروں میں سے ایک تھا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون ایسے تاریخی معاہدوں کو ”ریاستی جانشینی” (State Succession) کے اصول کے تحت تسلیم کرتا ہے۔لہٰذا، پاکستان کے لیے واخان پر دعویٰ کرنا قانونی لحاظ سے کمزور موقف ہوگا، اگرچہ تاریخی جواز موجود ضرور ہے۔
اب سوال یہ کہ کیا پاکستان واخان پر قبضہ کر سکتا ہے۔۔؟یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تجزیے کا متقاضی ہے۔پاکستان کے لیے واخان کی اہمیت دو سطحوں پر ہے اولاً جغرافیائی کیونکہ واخان پاکستان کو تاجکستان اور چین دونوں سے جوڑتا ہے۔ اگر یہ خطہ پاکستان کے پاس ہوتا تو وہ وسط ایشیا تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتا۔دوم، معاشی و سفارتی اہمیت،واخان ایک قدرتی راہداری ہے۔ اگر سی پیک (CPEC) کو واخان کے راستے تاجکستان تک بڑھا دیا جائے تو پاکستان وسط ایشیائی گیس و توانائی کے منصوبوں (TAPI، CASA-1000) کے لیے مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔تاہم عملی طور پر پاکستان واخان پر قبضہ یا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ افغان سرحدی نقشے میں شامل ہے۔ پاکستان کا افغان سرزمین پر کوئی بھی اقدام بین الاقوامی جارحیت تصور ہوگا۔دوسرا یہ کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ایٹمی طاقتوں کے ہمسائے (چین و روس) کے درمیان واقع ہیں، جو کسی بھی سرحدی مہم جوئی کو قبول نہیں کریں گے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔سرحدی جھڑپیں، ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں اور افغان حکومت کا ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا یہ سب پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔ایسے میں واخان کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ علاقہ پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان چاروں ممالک کے ملاپ کی جگہ ہے۔چین کی کوشش ہے کہ واخان کے راستے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک ذیلی راستہ بنائے، تاکہ وہ افغانستان کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکے۔اگر پاکستان، چین، اور افغانستان کے درمیان سیاسی اعتماد قائم ہو جائے تو واخان مستقبل میں خطے کے امن و ترقی کا پل بن سکتا ہے، نہ کہ سرحدی تنازع کا میدان رہے۔
اگر واخان پاکستان کے پاس ہوتا تو آج پاکستان نہ صرف وسط ایشیا تک براہِ راست تجارتی گزرگاہ رکھتا، بلکہ وہ روس اور چین دونوں کے ساتھ جغرافیائی طور پر جڑ چکا ہوتا۔لیکن تاریخ میں ”اگر“ کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ 1895ء کے نقشے نے جو لکیر کھینچی وہ آج بھی قائم ہے۔تاہم ایک بات طے ہے واخان جغرافیے کا وہ خاموش گوشہ ہے جو اس خطے کے بدلتے توازن کا اشارہ بن سکتا ہے۔جہاں کبھی برطانوی جاسوس اور روسی افسران خفیہ نقشے بناتے تھے وہاں آج چین، پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ راہداریاں وجود میں آ سکتی ہیں۔سوال یہ نہیں کہ واخان کس کا حصہ ہے، سوال یہ ہے کہ اس وادی کو تقسیم کی علامت سے ترقی کی علامت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
واخان پر پاکستان کا قانونی دعویٰ مشکل ضرور ہے مگر اس کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت ناقابلِ تردید ہے۔یہ وادی ماضی میں طاقتوں کے تصادم کا میدان تھی مگر مستقبل میں یہ امن و تعاون کی شاہراہ بن سکتی ہے بشرطِ یہ کہ خطے کے ممالک اپنی پالیسیوں میں تاریخ کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
واخان اپنی 350 کلومیٹر لمبی اور چند میل چوڑی پٹی کے ساتھ پاکستان کو تاجکستان اور چین دونوں سے جوڑ سکتا تھا۔ یوں پاکستان کو خنجراب کے علاوہ ایک دوسرا درہ تجارتی رابطے کے لیے میسر آتا، جو چین کی سرحد تک جاتا۔ آج جب سی پیک کے منصوبے کو وسعت دینے کی بات کی جاتی ہے تو واخان جیسی گزرگاہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔لیکن واخان صرف ایک جغرافیائی راہداری نہیں بلکہ تاریخ کے آئینے میں ایک ”گم شدہ رشتہ“ بھی ہے۔ ہنزہ کے میر کبھی واخان تک اپنے اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتے تھے، تاجر قافلے اس راستے سے بدخشان اور یارکند تک جاتے، اور بدھ مت کے مبلغین انہی وادیوں سے گزرتے ہوئے کشمیر پہنچتے تھے۔ پھر سامراجی نقشہ سازوں نے چند لکیریں کھینچ کر صدیوں پرانے راستے منقطع کر دیے۔آج پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے درمیان یہ پتلی سی وادی امن و سکوت میں لپٹی ہوئی ہے۔ وہاں کوئی بڑی شاہراہ نہیں نہ کسی فوجی چوکی کی چمک ہے۔ لیکن عالمی سیاست میں یہ ”غیر فعال سرحد“ ایک دن پھر متحرک ہو سکتی ہے اگر وسط ایشیا کی توانائی پالیسیوں میں پاکستان کو گزرگاہ بننے کا موقع دیا گیا۔
واخان کے پاکستانی ہونے یا نہ ہونے کا سوال شاید اب صرف تاریخ کے صفحات تک محدود ہے مگر جغرافیہ کبھی تاریخ سے لاتعلق نہیں ہوتا۔ دنیا کے نقشے بدل جاتے ہیں مگر وادیوں کی سمتیں یاد رکھتی ہیں کہ ان کے راستے کبھی کہاں سے کہاں جاتے تھے۔