94

*قطعِ رحمی والا ہم میں سے نہیں* بدھ 29 اکتوبر 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*قطعِ رحمی والا ہم میں سے نہیں*

بدھ 29 اکتوبر 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اسلام ایک ایسا دین ہے جو محبت، ہمدردی اور رشتہ جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے۔
قرآن و حدیث میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ رشتہ داروں سے تعلق جوڑو اور ان کے حقوق ادا کرو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“قطعِ رحمی کرنے والا (یعنی رشتہ توڑنے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
(بخاری و مسلم)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو رشتہ کاٹتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں۔”(طبرانی)

قطعِ رحمی کا مطلب ہے رشتہ داروں سے ناتا توڑ لینا، ان سے بات چیت بند کر دینا، ان کی مدد نہ کرنا یا ان سے نفرت رکھنا۔
یہ عمل اللہ کو سخت ناپسند ہے، کیونکہ اس سے خاندانوں میں نفرت، دوری اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے رحمت بنیں، زحمت نہیں۔
لہٰذا، اگر کوئی رشتہ دار ناراض بھی ہو، تو ہمیں پہل کر کے صلح کرنی چاہیے،
کیونکہ جو رشتہ جوڑتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک محبوب بندہ ہے۔

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ رشتے جوڑنا ایمان کی علامت ہے، اور رشتے توڑنا شیطان کا کام ہے

الدعاء
یا اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے والا بنا۔ ہم میں اخوت اور صلہ رحمی کا جذبہ کار فرما کردے۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں