111

بچپن کی آنکھ سے دیکھو

بچپن کی آنکھ سے دیکھو

جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے ۔ ہمارے کلاس ٹیچر ماسٹر یعقوب صاحب بتاتے کہ سیالکوٹ کی پانچ تحصیلیں ہیں۔ وہ ڈسکہ سے شروع کرتے پھر سیالکوٹ، پسرور، نارووال،آخر میں شکرگڑھ بولتے تھے۔ اُس کے بعد کہ ظفروال ایک خوبصورت قصبہ ہے ۔ جو بارڈر پر نالہ ڈیک کے قریب واقع ہے، بدوملہی ایک خوبصورت ریلوے اسٹیشن ہے ۔ جو راوی کے پاس اجنالہ،امرتسر کے سامنے پڑتا ہے، ہم چھوٹے گاوۤں کے رہنے والے تھے اس وقت شہر نہیں دیکھا تھا۔ ہمارا قریبی قصبہ ستراہ ہی ہمارے لئے شہر ہوتا تھا۔ جب پرائمری کے بعد گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول رتہ جھٹول میں داخل ہوئے تو یہ سکول گاوۤں سے دور تھا۔ جو کھیتوں کے درمیان بغیر چاردیواری کے خوبصورت سکول تھا۔ جو پانچ سے چھ ایکڑ پر مشتمل تھا۔ جس میں کمرے تھوڑے، صحن میں شیشم کے بڑے بڑے درخت تھے۔ سکول میں لائبریری تھی نہ لیبارٹری،نہ کرسیاں تھیں نہ بنچ، نہ بجلی تھی نہ موٹر، نہ کوئی پنکھا تھا نہ کوئی بلب، نہ واٹر کولرتھا، نہ کوئی کنٹین، نہ کوئی واش روم، ایک نلکا لگا ہوا تھا۔ جس کی ہاتھ والی ہتھی چلا کر سارا سکول پانی پیتا۔ ہم گھر سے کھاد والا خالی توڑا بیگ، کتابوں کے ساتھ بستے میں رکھ لیتے، جو سکول جا کر بچھا کر کلاس میں بیٹھ جاتے تھے۔ اِس سکول میں زیادہ تر ٹیچر صاحبان شکرگڑھ کے تھے۔ وہ قصبہ رتہ جھٹول میں ملکر ایک مکان میں رہتے کیونکہ شکرگڑھ بہت دور تھا۔ جب نارووال ضلع بن گیا تو سارے شکرگڑھ واپس چلے گئے۔ وہ بڑی محنت سے پڑھاتے تھے۔ ہمارے انگلش کے اُستاد ماسٹر مقبول شاہ صاحب تھے۔ جو سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد ہمیں دو گھنٹے روزانہ مزید پڑھاتے۔ جو بغیر کسی ٹیوشن فیس اور معاوضہ کے ہوتا تھا ۔ ان کا بیٹا نہیں تھا ۔ وہ سب بچوں کو اپنی اولاد سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے۔ آج کے جدید دور میں جدید سہولیات ہیں،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا،موبائل فون،کمپیوٹر، کیبل نیٹ ورکنگ، ٹیلی فون، فیکس، ٹی وی، ریڈیو، سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات پل بھر میں مل سکتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں یہ کہاں تھا۔ یہ سب کچھ ہمارے ٹیچر ہی ہوا کرتے تھے۔ جو آج بہت یاد آتے ہیں۔ اُن میں زیادہ تو اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں جو رہ گئے ہیں وہ بھی جانے کی تیاری میں بیٹھے ہیں ۔ وہ کیسے کیسے عظیم انمول لوگ تھے۔اب جن کے سننے کو کان،دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں، نجانے کس دیس چلے گئے وہ لوگ ، جو راحتِ جان تھے۔ وہ سکول کے دوست وہ ہمجولی بھی نظر نہیں آتے کون کس جہاں بس گیا ۔ جن کے ساتھ بچپن گزرا تھا، شرارتیں چلتی تھیں، کھیل تماشے ہوتے تھے ۔ جن کے دم سے زندگی کی رونقیں تھیں۔ جن کے روشن چہرے بھی یادوں کے کینوس سے مٹتے جارہے ہیں۔ اب کچھ دھندلے دھندلے خاکے دماغ کی کسی نہا خانے میں جم کے رہ گئے ہیں۔ میرے یارو دل کے آسمان پر کہیں سے چمکو،کہیں سے آواز دو، یارو کہیں سے لوٹ آوۤ بس اک بار، کہ پھر سے جی اُٹھیں ہم، جانے کس دیس تم چلے گے ہو،تم لوٹ کے پھر نہ آ سکو گے بتا کے تو جانا تھا۔ تم دور جا کے بس گئے،میں پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا پھرا۔ جب یاروں کی یادوں کے دیپ جلتے ہیں تو ایک اک چہرہ نظروں کے سامنے مسکراتا چلا جاتا ہے۔ تم یار زندگی تھے اور زندگی تم لوگوں سے تھی۔ تم کیا گئے کہ چہروں سے مسکراہٹیں بھی روٹھ گئیں۔ جناب محترم اقبال صاحب اُردو کے اُستاد تھے۔ وہ ماہر اقبالیات تھے۔ جن کی بڑی کوشش رہی کہ ہم بھی اقبال شناس ہو جائیں۔ ہم وہ تو نہ بن سکے مگر اردو ادب سے جو شناسائی ہے وہ اُن کی محبت کا نتیجہ ہے۔ ہماری دعا کہ اللہ پاک غریق رحمت کرے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ سُرخ و سفید رنگت والے نوجوان اُستاد اشرف صاحب ریاضی پڑھاتے وہ بڑی محنت کرواتےتھے۔ ہم نالائق تھے سو نالائق ہی رہے۔ میں برسوں بعد ایک سرحدی تھانہ میں تعینات تھا۔میری ملاقات ہوئی تھی۔ تب وہ شکرگڑھ کے تاریخی قصبے بڑا بھائی مسرور کے ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ بوڑھے ہوگئے تھے۔ جو بعد میں ریٹائر ہوگئے تھے۔ وہ بڑی محبت اور شفقت سے ملے۔ پرانے سکول کو یاد کرکے اور اپنے سٹوڈنٹ کو مل کے بہت خوش ہوئے۔ میاں رشید صاحب سائنس ٹیچر تھے بڑی گرجدار آواز میں پڑھاتے تھے۔اللہ پاک جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ شریف بٹ صاحب ہمارے ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے سرخ و سفید رنگ، لمبا قد، کشمیری النسل،ملنسار،ہرکلاس میں ایک پیریڈ کسی بھی سبجیکٹ کا ضرور پرھاتے۔ میرے گاوۤں کے ساتھ والے گاوۤں سے تھے ۔ میرے دادا جی کے جاننے والے تھے ۔ وہ مجھ سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گاوۤں میں کیتھی باڑی کرتے تھے ۔ صدیقی صاحب دبلے پتلے،نحیف ونزار سائیکل پر سکول آتے، اُس زمانے میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس موٹر سائیکل ہوا کرتی تھی۔ باقی ٹیچرز پیدل تو کچھ بائیسکل پر سکول آتے تھے۔ صدیقی صاحب ہمارے ساتھ والے گاوۤں کے تھے۔ جو ہمیں چھٹی کلاس میں انگریزی پڑھاتے تھے ۔ نظر کا چشمہ لگاتے تھے اور مذہب پر بہت بحث کرتے تھے۔ بوڑھے آدمی تھے تھوڑے عرصہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ وہ نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ صوفی عطا محمد صاحب ہمیں عربی پڑھاتے تھے۔ حکیم عبدالقیوم صاحب فارسی پڑھایا کرتے شیخ سعدی کی شاعری کے ساتھ ساتھ حکمت کی باتیں بتاتے۔ وہ میرے والد صاحب مرحوم و مغفور کے بہت اچھے دوست تھے ۔ میرے ساتھ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ ہمیں آٹھویں کلاس میں نوجوان سرورصاحب انگریزی پڑھاتے تھے۔ جب نارووال جائیں تو لُوبن پلی سٹاپ کے قریب اُن کا گاوں تھا۔ جب ضلع الگ ہوا وہ نارووال چلے گئے تھے۔ جن سے کئی سال بعد ملاقات ہوئی۔ تب نارووال کے ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ بوڑھے ہوگئے تھے جو ایک آدھ سال بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔ مل کر بہت خوش ہوئے ۔ میں جب تک نارووال رہا اکثر ملاقات رہتی بہت پیار اور محبت سے پیش آتے تھے ۔ میں ملتا تو پرانے سکول کی پرانی یادیں تازہ کرتے تھے ۔ نوجوان لمبے گورے چٹے خوبصورت زکریا صاحب ہمارے فزیکل ایجوکیشن کے استاد نورکورٹ مینگڑی شکرگڑھ سے تھے جو فزیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی پڑھاتے تھے ۔جب ضلع کی تقسیم ہوئی تو وہ بھی واپس چلے گئے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پرویز مشرف دور میں لوکل گورنمنٹ کے الیکشن میں مینگڑی یونین کونسل کے نائب ناظم بھی منتخب ہوئے تھے۔ جو بعد میں ایک این جی او بنا کر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہماری پچیس چھبیس سال بعد ملاقات ہوئی تو مل کربہت خوش ہوئے پرانے سکول کے دور کو یاد کرنے لگے۔ میں جتنا عرصہ شکرگڑھ رہا اپنے اساتذہ سے میل،ملاقات رہی، ان سے مل کر دلی خوشی ہوتی،نوجوان ٹیچر خلیل صاحب ہمیں آٹھویں کلاس تک زراعت کا مضمون پڑھایا کرتے تھے۔ جو خود زمیندار گھرانے سے تھے۔ ہم بھی چونکہ چھوٹے زمیندار گھرانے سے تھے۔ ہم سکول سے واپس کھیتی باڑی اور مال مویشی کی دیکھ بھال میں والدین کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ ہم بھی زراعت، زمینداری کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ وہ ہمیں بڑی لگن سے پڑھاتے تھے۔ نواز صاحب ہمیں جنرل سائنس پڑھاتے،اصغرعلی ججہ صاحب اسلامیات پڑھاتے کبھی کبھی مذہبی بحث مباحثے میں اُلجھ جاتے۔ ہمارے سکول کی سب سے معروف شخصیت بشیر احمد عرف پاگا تھے ۔ جو سکول میں چوکیدار تھے۔ سکول لگنے پر، پیریڈ شروع،ختم ہونے پر،تفریح کے وقت سکول کی گھنٹی بجاتا تھا۔ ہم سب چھٹی کے وقت گھنٹی بجنے کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ۔ سب کی نظریں پاگا پر لگی رہتیں،ہائی سکول میرے گاوۤں سے قریب چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پرتھا جو اُس وقت قریب ترین سکول تھا۔ روزانہ پیدل سکول جانا اور شام پیدل واپس آنا محنت والا کام تھا۔ آج کے بچے تو وہ مشکلات برداشت ہی نہ کرسکیں جو ہم کو درپیش تھیں۔ میرے کلاس فیلوز میں بھی رنگ رنگ کے کھیتوں کے رنگ برنگے پھول تھے۔ جن میں مفتی کفایت اللہ شاکر صاحب بڑی کمال کی تقریر کرتے تھے۔ اُس زمانے میں صوم و صلات کے پابند تھے۔ بعد میں بڑے عالم فاضل بنے معروف مذہبی اسکالر ہیں۔ پسرور شہر میں ایک مدرسہ چلاتے ہیں امام مسجد ہیں۔ بہت بڑے عالم فاضل،خطیب ہیں۔ ضلع امن کمیٹی کے ممبر ہیں۔ ملکی اخبارات میں ان کے مذہبی،سماجی،اصلاحی،معاشرتی، مضامین،کالم شائع ہوتے ہیں۔ حافظ ندیم صاحب ہماری کلاس کے بڑے ذہین طالب علم تھے۔ وہ ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آتے تھے۔ ہم سکول پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور، اور لا کالج کے زمانہ تک ساتھ رہے ۔ وہ بعد میں انگلینڈ چلے گئے وہاں پریکٹس کرتے ہیں۔ ہماری کلاس کے ایک اور ذہین سٹوڈنٹ ارشد صاحب تھے ۔ جو میرے ساتھ والے گاوُں سے تھے ۔ وہ بھی ماسٹر کرنے کے بعد سکول ٹیچر ہوگئے تھے۔ میاں حفیظ باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے، خوش رہنا اچھا لباس پہننا، ہنسنا دوسروں کو ہنسانا جانتے تھے۔آج کل پسرور میں ایک بنک چلا رہے ہیں۔احسان صاحب میرے گاوُں کے تھے۔ میرے بچپن کے دوست پرائمری اور ہائی سکول تک ہم اکھٹے رہے ہائی سکول کے بعد وہ گوجرانوالہ چلے گئے اور کراکری کا کام شروع کیا پہلے چھوٹے سے یونٹ سے کام شروع کیا اب ماشاءاللہ بہت بڑے کارخانے کے مالک ہیں۔ درجنوں ملازم ان کے پاس کام کرتے ہیں ۔ اللہ پاک نے ان کو بہت نوازا ہے نیک نیت آدمی تھے۔ بہت ترقی کی ہے۔ اختر علی ججہ صاحب ہمیشہ شرارتیں کرتے تھے۔ جٹ زمیندار گھر سے تھے سکول کے بعد دبئی جاکر بس گئے، محنتی آدمی تھی، بہت ترقی کی ہے،عبدالستار،سجاد، فیض,ہدایت،عمران، کوئی کویت اور کوئی سعودی عرب چلا گیا ہے۔امجد،سرور،جمیل، صغیر،عتیق الرحمن، ارشد ہنجرا، طارق محمود، عبدالرزاق، عباس،پپو،قیصر،یوسف، سجاد بٹ، افتخار،چن سلطان اور دوسرے جو ہماری طرح یہیں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ یارو ہمت نہیں ہارنی حوصلہ نہ چھوڑنا یہی دنیا ہے یہی زندگی ہے ہمشہ اُمید سے بندھے رہنا اچھے کا گماں رکھنا،اپنے حصے کی شمع جلائے رکھنا، دوستوں تم اِس جہاں میں کہاں ہو، تم یاد آتے ہو تو دل میں کوک سی اُٹھتی ہے ۔ آخر پر سکول کی دو اور معروف شخصیات کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی ایک تو میرے کلاس فیلو میاں حفیظ کے بڑے بھائی ہم سب انہیں بڑے میاں صاحب بلاتے تھے وہ چھٹی وقت جسے ہم تفریح بریک ٹائم بولتے وہ سموسے پکوڑے اور نان کا خانچہ ٹھیلہ لگاتے تھے ۔ اُس زمانے میں ہمارے لئے ایک روپیہ بڑی رقم ہوتی تھی۔ جس میں چار سموسے آ جاتے تھے۔وہ بہت زندہ دل آدمی تھے۔ محبت کرنے والے،دوسرے ہم سے دو کلاس سینئر سٹوڈنٹ تھے حافظ یوسف صاحب، جو بعد میں بہت بڑے مذہبی، عالم دین مفکر بنے جنہیں دنیا آج مولانا یوسف پسروری کے نام سے جانتی ہے یہ بھی وہیں کے تھے جہاں سے ہم تھے۔

شاہد محمود سیالکوٹ
28/10/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں