“جب ہم نے روشنی سے دشمنی مول لی”
دنیا بھر میں جب بھی کسی شاعر، مصور یا مفکر پر حملہ ہوتا ہے، تو دراصل انسانیت کے قلب پر وار ہوتا ہے۔ اور آج جب بنگلہ دیش میں ربندر ناتھ ٹیگور کے آبائی مکان پر ہجوم نے دھاوا بولا، تو میں نے یہ خبر کسی بیرونی واقعے کی طرح نہیں دیکھی — مجھے یوں لگا جیسے یہ حملہ لاہور کی اندرون دیواروں پر، یا کراچی کی کسی پرانی لائبریری پر ہوا ہو۔
ہم جنوبی ایشیا والے ایک جیسے ہیں — زبان بدلتی ہے، لب و لہجہ بدلتا ہے، مگر ذہن کی ساخت، سماج کی تلخیاں، اور مذہبی جذبات کے بیج سب جگہ ایک ہی مٹی میں بوئے گئے ہیں۔ ٹیگور کا جرم یہی تھا کہ اُس نے سوچا، لکھا، اور محبت کو نفرت پر ترجیح دی۔
اور بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے زمانے میں محبت لکھنے والا سب سے پہلا مشکوک قرار پاتا ہے۔
ٹیگور نے کہا تھا:
> “جہاں دماغ بے خوف ہو، وہاں میرا وطن ہے۔”
اور ہم، برِصغیر کے وارث، آج خوف میں سانس لیتے ہیں۔
سوچنے سے ڈرتے ہیں۔ بولنے سے گھبراتے ہیں۔
کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ کسی بھی دن ہمارا “خیال” کسی کے “عقیدے” سے ٹکرا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش میں ٹیگور کے مکان پر حملہ دراصل ہمارے پورے خطے کے فکری زوال کی علامت ہے۔ وہی زوال جو کبھی ہمارے اپنے ہاں فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، یا حبیب جالب کی زبان کو پابند کرنے کے لیے استعمال ہوا۔
فرق صرف یہ ہے کہ وہاں عمارت گری، یہاں ذہن گرائے گئے۔
یہ جو نفرت کی لہر ہے، یہ اچانک نہیں اٹھی۔
یہ برسوں سے ہمارے نصاب، ہمارے واعظوں، اور ہمارے سیاست دانوں کے بیانات میں پرورش پاتی رہی۔
ہم نے اپنی نسلوں کو بتایا کہ شاعر خطرناک ہوتے ہیں،
کہ سوال کرنا گستاخی ہے،
کہ ادب محض تفریح نہیں بلکہ “فکر کی خرابی” ہے۔
اور آج جب ہجوم ٹیگور کے گھر پر پتھر پھینکتا ہے، تو وہ دراصل اسی تعلیم کا عملی مظاہرہ ہے۔
پاکستان کے کئی شہروں میں بھی یہی روش دیکھی جا سکتی ہے۔
کبھی کسی کتاب پر پابندی، کبھی کسی مصنف پر فتوٰی،
کبھی کسی فنکار کے بول پر شور۔
ہم بھی روشنی سے خوف زدہ قوم ہیں۔
ہمیں اندھیرے میں رہنے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ اب اگر کوئی دیا جلائے تو ہمیں آنکھیں چندھیا دیتی ہیں۔
ٹیگور برِصغیر کا شاعر تھا، اس کی وراثت ہم سب کی ہے۔
جب اُس پر حملہ ہوا، تو اس کے ساتھ ہماری اپنی ثقافت، ہماری مشترکہ روح، اور ہمارا ادبی ضمیر بھی زخمی ہوا۔
یہ خبر بنگلہ دیش کی نہیں — یہ ہمارے اپنے المیے کی جھلک ہے۔
ہم اپنے خطے میں علم سے، ادب سے، اور رواداری سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم بھول گئے کہ یہ وہی خطہ ہے جہاں تصوف نے انسان کو انسان سے جوڑا،
جہاں بلھے شاہ نے کہا تھا:
> “بلھا کیہ جاناں میں کون…”
جہاں وارث شاہ نے ہیر رانجھا کی محبت کو مذہب سے اوپر رکھا۔
اور آج ہم وہی وارث شاہ، وہی بلھا، اور وہی ٹیگور — سب کو دفن کر کے نفرت کے مینار تعمیر کر رہے ہیں۔
ٹیگور کے مکان پر حملہ دراصل اس سوال کا جواب مانگتا ہے کہ کیا ہم واقعی مہذب ہو گئے ہیں؟
یا صرف ٹیکنالوجی نے ہمیں “جدید وحشی” بنا دیا ہے؟
ہم نے گوگل اور ای۔آئی کو تو اپنالیا، مگر دل کے اندر جو تاریکی تھی، وہ جوں کی توں باقی رہی۔
میں اکثر سوچتا ہوں — اگر آج ٹیگور زندہ ہوتا،
تو کیا وہ بھی کسی فتوے کا شکار ہوتا؟
کیا اُس کے نغمے بھی کسی چینل سے “غیر موزوں مواد” کہہ کر بند کر دیے جاتے؟
کیا اُس کے گیتوں کو بھی “غیر ملکی ایجنڈا” قرار دیا جاتا؟
شاید ہاں۔ کیونکہ ہم اب “سوچنے والوں” کے نہیں، “چیخنے والوں” کے زمانے میں رہتے ہیں۔
ٹیگور کے مکان کی اینٹیں اگر گری ہیں،
تو سمجھ لیجیے کہ ہمارے دلوں کی دیواریں بھی لرز اٹھی ہیں۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے —
ہم اندھیروں کے ساتھی بننا چاہتے ہیں، یا اُس شاعر کے جو ہمیں روشنی دکھاتا رہا؟
@@@@@@@@@@@@@@@@@









