صحت کا نظام یا مفادات کی سیاست؟ ((تحریر ڈاکٹر ایم لال واگھانی سیکریٹری جنرل صوبہ سندھ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ جنیوا پاکستان))
صحت کا نظام یا مفادات کی سیاست؟
((تحریر ڈاکٹر ایم لال واگھانی سیکریٹری جنرل صوبہ سندھ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ جنیوا پاکستان))
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایک عام شہری جب بیمار ہوتا ہے تو وہ حکومت، ڈاکٹر، اسپتال اور طبی اداروں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے بروقت، باعزت اور مناسب علاج ملے گا۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ ہمارے صحت کے نظام میں مریض سب سے آخر میں کیوں رہ جاتا ہے اور نظام سے وابستہ مختلف مفادات سب سے آگے کیوں نظر آتے ہیں؟
اکثر عوامی شکایات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ سرکاری اسپتال میں مریض کو ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں عملے کا رویہ مناسب نہیں ہوتا، کہیں سفارش کو ترجیح ملنے کی شکایت ہوتی ہے اور کہیں غیرضروری اخراجات کا بوجھ مریض کے خاندان پر پڑ جاتا ہے۔
ایک عام مریض کا تصور کیجیے۔ وہ بیماری کی تکلیف میں اسپتال پہنچتا ہے۔ اگر اسے ڈاکٹر تک پہنچنے میں دشواری پیش آئے تو اس کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔ پھر ڈاکٹر کے مرحلے پر بعض اوقات اسے مختلف ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مریض کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سا ٹیسٹ واقعی ضروری ہے اور کون سا صرف احتیاط کے طور پر تجویز کیا گیا ہے؟
اس کے بعد لیبارٹری کا مرحلہ آتا ہے۔ مریض کے لیے سب سے اہم بات یہ ہونی چاہیے کہ اسے درست، معیاری اور قابلِ اعتماد رپورٹ ملے، نہ کہ ایسی جگہ بھیجا جائے جہاں کسی قسم کے ذاتی یا کاروباری مفاد کا شبہ پیدا ہو۔ اگر مریض کو مختلف لیبارٹریوں کے ریٹس میں بڑا فرق نظر آئے تو وہ لازماً سوال کرتا ہے کہ آخر اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
پھر مریض میڈیکل اسٹور کا رخ کرتا ہے۔ ادویات کی قیمتیں، برانڈز کا انتخاب اور بعض اوقات دستیابی بھی اس کے لیے ایک نیا مسئلہ بن جاتی ہے۔ غریب مریض کے لیے یہ پورا عمل انتہائی مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ بیماری کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ، ادویات، سفر اور دیگر اخراجات بھی اس کے خاندان پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
اور اگر بیماری پیچیدہ ہو تو آخرکار مریض کو کسی ماہر یا پروفیسر کے پاس ریفر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ماہر ڈاکٹر کے پاس کیوں بھیجا گیا؛ سوال یہ ہے کہ کیا مریض کو شروع ہی سے درست تشخیص، مناسب رہنمائی اور بروقت علاج میسر تھا؟
یہاں ایک اہم بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ہر ڈاکٹر، ہر نرس، ہر پیون، ہر لیبارٹری یا ہر میڈیکل اسٹور کو بدعنوان قرار دینا درست نہیں۔ ہمارے نظام میں بے شمار ایسے ڈاکٹر اور طبی کارکن موجود ہیں جو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ان نظامی خامیوں اور مبینہ مفادات کا ہے جن کی وجہ سے عام مریض کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صحت کے شعبے میں سیاست کیوں؟
صحت کا شعبہ سیاست سے الگ نہیں رہ سکتا، کیونکہ اسپتال، بجٹ، ادویات کی خریداری، طبی آلات، بھرتیاں، تبادلے اور انتظامی فیصلے سب حکومتی پالیسی سے جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مریض کی ضرورت کے بجائے سیاسی یا ذاتی مفاد فیصلہ سازی پر غالب آ جائے۔
سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ صحت کی وزارت کی قیادت کے لیے صرف سیاسی تجربہ کافی ہونا چاہیے یا صحت کے شعبے کی بنیادی سمجھ، انتظامی صلاحیت اور ماہرین کی مؤثر ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہونی چاہیے؟
وزیرِ صحت کا ڈاکٹر ہونا لازمی شرط نہیں، کیونکہ وزارت ایک انتظامی اور سیاسی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن وزیرِ صحت کو صحت کے نظام، پبلک ہیلتھ، اسپتال انتظامیہ، ادویات کی پالیسی، بجٹ، طبی تعلیم اور عوامی صحت کے بنیادی مسائل کی گہری سمجھ ضرور ہونی چاہیے، اور اس کے ساتھ ماہرین کی مضبوط ٹیم بھی ہونی چاہیے۔
اصل ضرورت: مریض مرکز نظام
صحت کے نظام میں اصلاحات کا مقصد کسی ایک طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
– سرکاری اسپتالوں میں مریض کی ڈاکٹر تک رسائی آسان بنائی جائے۔
– عملے کے رویے اور کارکردگی کی مؤثر نگرانی ہو۔
– ٹیسٹ تجویز کرنے کے عمل میں شفافیت اور طبی ضرورت کو ترجیح دی جائے۔
– لیبارٹریوں کے معیار اور نرخوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
– ادویات کی قیمتوں اور دستیابی پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس ہو۔
– سرکاری اسپتالوں میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
– مریضوں کی شکایات کے لیے آزاد اور قابلِ رسائی نظام بنایا جائے۔
– اسپتالوں کی خریداری اور ادویات کی procurement میں مکمل شفافیت ہو۔
– ڈاکٹرز اور طبی عملے کو سیاسی دباؤ سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔
– صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ حقیقی طبی سہولیات اور مریضوں کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔
– ہر سطح پر احتساب ہو، لیکن احتساب ثبوت اور قانون کے مطابق ہو۔
سیاست نہیں، صحت چاہیے
ایک غریب آدمی جب اسپتال پہنچتا ہے تو وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن بن کر نہیں جاتا۔ وہ صرف ایک مریض بن کر جاتا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اسپتال کا انتظام کس جماعت کے پاس ہے، وزیرِ صحت کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا ڈاکٹر کس گروپ سے وابستہ ہے۔ اسے صرف علاج، عزت اور امید چاہیے۔
اگر صحت کا نظام ایسا بن جائے جہاں مریض کو ہر قدم پر سفارش، اضافی اخراجات یا غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
لہٰذا وقت آگیا ہے کہ صحت کو سیاسی مفادات کی بجائے عوامی خدمت کا شعبہ سمجھا جائے۔ وزیرِ صحت ہو یا اسپتال کا سربراہ، ڈاکٹر ہو یا انتظامی افسر، لیبارٹری ہو یا میڈیکل اسٹور—ہر شخص سے ایک ہی سوال ہونا چاہیے:
آپ کا فیصلہ مریض کے مفاد میں ہے یا اپنے مفاد میں؟
کیونکہ صحت کوئی کاروباری کھیل نہیں، یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔
مریض کو سیاست نہیں، علاج چاہیے۔
مریض کو سفارش نہیں، سہولت چاہیے۔
مریض کو منافع نہیں، زندگی چاہیے۔
اور ایک مضبوط ریاست کی پہچان یہی ہے کہ اس کا کمزور ترین شہری بھی بیمار ہونے کی صورت میں خود کو تنہا اور بے بس محسوس نہ کرے۔