عورت کا عورت سے بیر ہی تباہی ہے
عورت کا عورت سے بیر
ہی تباہی ہے
بنت حوا تو نے یہ آگ کیا لگای ہے
اپنی ہی صنف سے کیا مقابلہ بازی؟
مالک نے دنیا یہ بہت خوب بنای ہے
مختلف شکلیں ہیں بے پناہ خوبیاں
حسد اور جلن تو بیبا اک برای ہے
تیری خوبیاں اور حسن ہے عطاے ربی بس
رب کی ہی خدای ہے
شکر تیرا بنتا تھا اس عطاے ربی پہ
اور تو خواہ مخواہ اپنی خوبیوں پہ اور حسن پہ اترای ہے
اے میری شہزادی سن یہ تو بانولا پن ہے
دوہای ہے دوہای ہے
بٹ صاحب کے گھر ساتویں بیٹی کی ولادت نے گویا تمام اہل خانہ کے سر پہ بم پھوڑ دیا تھا بٹ صاحب کی والدہ ماجدہ نے باقاعدہ اپنے سینے پہ دو ہٹر مار کے باقاعدہ بین بھی کیے بہو کو جو پہلے ہی دردزہ سہہ سہہ کے ادھ موی ہو چکی تھی جس کی روح بھی زخمی تھی اور بدن بھی تار تار اس کے لیے پگھلے ہوے سیسے جیسے چبھتے ہوے الفاظ کی چنداں ضرورت نہ تھی مگر ایک مشرقی ماں نے اپنا رول تو نبھانا تھا اپنے بیٹے کو اس طرح کا فضول واویلہ کر کے یہ تو دکھانا ہی تھا کہ دیکھ پتر میں تجھ سے کتنی محبت کرتی ہوں میرا دل تیری تکلیف پہ کتنا افسردہ ہے اور سب سے بڑی اور اہم بات کہ ایک مشرقی، روایتی ساس کو اپنے دل کے جلے پھپھولوں کی جلن کو کم کرنے کے لیے مظلوم، لاغر، محروم، بے کس اور بے بس سات بیٹیوں کی ماں اور اپنی بد نصیب بہو کو رگید کے جو ٹھنڈ پڑنی تھی اس کا تو حساب کتاب جواب اور سواد ہی نہ تھا. اینویں تھوڑی کہتے ہیں کہ اہل دنیا کا دستور ہے کہ مرے ہوے کو مزید مارتے ہیں. بڑے ظالم ہیں ناں یہ دنیا والے اور کس قدر ظالم اور مکروہ ہیں یہ خواتین جو ساس کے عہدے پہ براجمان ہوتے ہی کسی چڑیل کا روپ دھار کے انتہائی کمینی اور مکروہ ہو جاتی ہیں کہ لوگوں کی لاڈلی اور پھولوں جیسی بیٹیوں کا خواہ مخواہ میں ہی جینا حرام کر دیتی ہیں کوی ضروری تو نہیں کہ اپنی محرومیوں کا بدلہ اپنی بہووں سے لیا جاے درگزر اور معافی کا رستہ بھی تو اپنایا جا سکتا ہے ناں. مگر یہ تو انڈو پاک کے کلچر کی ایک انتہائی بری ریت ہے کہ تقریباً ہر ساس ہی اپنی بہو کا جینا کسی نہ کسی طرح سے حرام کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہے کہتے ہیں ناں کہ
جنی وی چنگی سس وے
ماڑی ماڑی….. کس وے
اب اس بھیڑ بھاڑ میں جو معدودے چند اچھی ساسیں ہیں وہ بھی لپیٹ میں آ جاتی ہیں اور بہووں کے خواہ مخواہ کے عتاب کا نشانہ بن جاتی ہیں.
خیر ساتویں بیٹی کی پیدائش پہ بٹ صاحب والدہ کی باتوں سے اتنے دکھی ہوے کہ بغیر بتائے گھر چھوڑ گیے اب بٹ صاحب کی بدنصیب بیگم صاحبہ کو سات بچیوں اور ایک شاطر ساس کی سانسوں کی ڈوری کو جاری و ساری رکھنے کے لیے چھلے ہی میں اپنے میاں کی پرچون کی دوکان بھی سنبھالنی پڑ گءی کر دی نے ایک عورت نے دوسری عورت سے دشمنی کی انتہا اور عورت بھی وہ جو مظلوم بھی تھی، مجبور بھی تھی، بقول ہمارے اور آپ کے بد نصیب بھی تھی کہ سات بیٹیوں کی ماں تھی اور کوی بیگانی نہیں اس ستر سالہ بڑھیا کی بہو بھی تھی.
ارے ہمارے ہاں تو عورت روز اول سے آج تلک مظلوم ہی ہے.
جونہی دایہ صدا لگاتی ہے کہ مبارک ہو بیٹی ہوی ہے تو بیٹی پیدا کرنے والی ماں کے ساتھ ساتھ دایہ کا مول بھی گر جاتا ہے, اور پیدا ہونے والی ننھی پری کو تو قدم قدم پہ زیادتیوں کے انبار تلے روندا جاتا ہے کھانے پینے سے لے کر کھیل کود تک کھیل کود سے کھلونوں تک کھلونوں سے لباس، لباس سے تعلیم تعلیم سے وراثت اور شادی کے فوراً بعد بچے کی گردان شروع کرنے میں سسرالیوں میں لڑکے کی ماں سر فہرست ہوتی ہے بچہ نہ ہو تو بھی عورت ہی مورد الزام ٹھہرای جاتی ہے اور اگر اولاد نرینہ نہ ہو پھر بھی تختہ ستم عورت کو ہی بنایا جاتا ہے. مجھے اپنی پریکٹس میں چند ایسے مرد حضرات بھی نظر آے جو چار چار بیویاں کر کے ان کے بانجھ پن کا علاج کرواتے پھرتے تھے مگر اپنا ایک معمولی ٹسٹ
Semen analysis کروانا اپنی مردانگی کی تذلیل سمجھتے تھے.
ہے نہ انتہاے جہالت. حالانکہ بانجھ پن کے کیسز میں عورت ہی نہیں مرد بھی مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور بانجھ پن کی وجہ بن جاتے ہیں.
بیٹے کی ماں جب اپنے بیٹے کا رشتہ کرنے کا سوچتی ہی ہے تو اس کے ذہن میں لمبی، دبلی پتلی، بڑی بڑی آنکھوں والی ہرنی جیسی چال والی Miss universe آ جاتی ہے ہاں ایک ضروری کام جو اس ماں نامی درندے کو کرنا چاہیے وہ کرنا ہمیشہ بھول جاتی ہے کہ کبھی اپنے چاند کو بھی تو غور سے دیکھ لیا کرے کہ وہ کتنا حسین و جمیل ہے
پہلوے حور میں لنگور سجے بیٹھے ہیں
کتنے بدشکل ہیں بے نور سجے بیٹھے ہیں
یہ شعر میں نے ایسے ہی ایک mismatch couple کی شان میں کہا تھا.
عورت نے اپنے مکروہ حسد اور بے جا خواہشات کے انبار تلے دب کے اپنی ہی صنف کا بے تحاشا استحصال کیا ہے.
شاہ بانو ایک پچیس سالہ معمولی شکل و صورت کی بیوہ تھی جس کا ایک معذور بچہ بھی تھا جو وہ اپنے سسرال میں ہی چھوڑ کر اپنے لیے بر ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایم این اے فیروز شاہ کی حویلی میں پہنچ کے شاہ بانو نے اپنے نازو ادا کے وہ تیر چلاے کہ پینتالیس سالہ فیروز شاہ اپنی وفادار اور نیک بیوی کے ساتھ ساتھ چار بچوں کو بھی بھول کے اپنے ہی گھر میں آگ لگا بیٹھا یہاں بھی عورت ہی عورت کا گھونٹ بھرتی ہوی دکھائی دیتی ہے.
شگفتہ جبین ایک معمولی رکشہ ڈرائیور کی بیٹی تھی اس کا باپ اسے جہیز میں اس طرح کا سازو سامان دینے کا متحمل نہ ہو سکا جیسا اس کی ساس نے مطالبہ کیا تھا شادی تو ہو گءی اور نبھ بھی گءی مگر شگفتہ جبین کو اس کی ساس نے ہر قدم پہ وہ وہ کوسنے دیے کہ فرش اور عرش دونوں ہی کانپتے رہے مگر ساس صاحبہ کی فرعونیت میں رتی برابر فرق نہ آیا ہاں جب ساسو ماں آخری عمر میں بستر پہ لگ گییں اور تمام آل اولاد انھیں چھوڑ گءی اور صرف شگفتہ جبین نے انھیں سمبھالا تو ساس صاحبہ کو یکدم احساس ندامت نے آن گھیرا کہ وہ تو اپنی نیک اور صالح بہو کے ساتھ خواہ مخواہ ہی اتنی زیادتی کرتی رہیں مگر اب اس ندامت اور احساس ندامت کا کوئی فائدہ نہ تھا.
زمانہ چال اپنی چل چکا تھا
کوئی مرنے سے پہلے مر چکا تھا
سوزانے ایک مل اونر کی بیٹی تھی اسے اپنے کلاس فیلو سے محبت ہوی اور دونوں خاندانوں کی خوش قسمتی کہ یہ محبت شادی میں تبدیل ہو گءی مگر سوزانے کی ساس کو بھی یہ ملال سونے نہ دیتا تھا کہ ایک انجان لڑکی اس کے قابل ترین اکلوتے بیٹے کو ایک ہی جست میں لے اڑی نہ ہی جہیز تگڑا ملا اور نہ ہی زیورات کی بلی چڑھای گءی تو اس ساس نامی ناگن نے جو اپنی زندگی کی ساٹھ آزادانہ بہاریں دیکھ چکی تھی اس نے خواہ مخواہ کے بہتان لگا کے محبت کرنے والوں میں دڑاریں ڈال دیں اللہ جانے عورتیں اتنی کم ظرف، حاسد اور بیوقوف کیوں ہوتی ہیں اپنے ہی گھروں کو برباد اور اپنے ہی جیسی خواتین پہ ظلم کر کے خواہ مخواہ ہی خوش ہونے کا ڈھونگ کرتی ہیں اللہ پاک تمام خواتین کو خواتین سے پیار اور احترام کی استطاعت عطاء فرمائے آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
14









