6

پشتو کے عظیم گلوکار: استاد خیال محمد ​تحریر: فیروز خان آفریدی

پشتو کے عظیم گلوکار: استاد خیال محمد
​تحریر: فیروز خان آفریدی
​استاد خیال محمد صرف ایک نام نہیں، بلکہ پشتو موسیقی اور روایات کی ایک عظیم تاریخ کا عنوان ہیں۔ آج جب انہیں دونوں بیٹوں کے درمیان ویل چیئر پر بیٹھا دیکھتا ہوں، تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اور بے اختیار آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہ خیال محمد، جو کبھی محفلوں کی جان اور فن کا روشن آفتاب ہوا کرتا تھا، اسے اس حالت میں دیکھنا ہر اس دل کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے جس نے اسے اس کے عروج کے زمانے میں دیکھا ہو۔ ان کی یہ بے بسی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب میں ان سے ملنے جانے کی سکت نہیں رکھتا؛ ورنہ وہ بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں اور میں بھی ان کی قدر و منزلت سے بخوبی واقف ہوں۔ دوحہ (قطر) میں بھی میرا ان سے کئی دفعہ ملاقاتیں ہوئیں ہیں ۔
​ایک بار کا ذکر ہے کہ ایک دوست نے مجھے پُرانی یاد سناتے ہوئے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں ہم نے خوشحال خان خٹک کی برسی پر ان کے مزار پر ایک شاندار موسیقی کا پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ کیا۔ ان دنوں خیبر پختونخوا کے علاوہ دو اور نامور گلوکار بھی کافی شہرت رکھتے تھے، جبکہ خیال محمد صاحب اپنے فلمی گانوں کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں اکثر لاہور ہی مقیم رہتے تھے۔
​ہم طلباء کا قافلہ سب سے پہلے اس گلوکار کے پاس پہنچا جو خود کو اپنے حلقے میں سب سے بڑا صوفی کہلوانا پسند کرتا ہے۔ ہم نے اسے تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس نے طمطراق سے کہا:
​”میں تو اپنے مکمل آرکسٹرا کے ساتھ آؤں گا اور ڈیڑھ لاکھ روپے لوں گا۔”
​اس دور میں یہ رقم بہت بڑی حیثیت رکھتی تھی۔ ہم نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ یہ بابا خوشحال خان کا عرس ہے اور ہم غریب طالب علم ہیں، اتنی بڑی رقم کہاں سے لا سکتے ہیں؟ اس نام نہاد صوفی فنکار نے بے رُخی سے جواب دیا:
​”تو پھر جاؤ ڈبگری میں کسی اور سستے فنکار کو ڈھونڈو، میں تم لوگوں کے لیے اپنی جیب سے آرکسٹرا کے پیسے نہیں دے سکتا، اس رقم میں تو میری روزمرہ کی ڈرینک کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔
​اور یوں ہمیں وہاں سے ناکام لوٹا دیا گیا۔
​اس کے بعد ہم دوسرے معروف فنکار کے پاس گئے۔ انہوں نے ہماری بات بڑی غور سے سنی اور مسکرا کر بولے:
​”یقیناً تم پہلے فلاں صوفی صاحب کے پاس گئے ہوں گے اور انہوں نے تم سے ڈیڑھ لاکھ ہی مانگا ہوگا نا؟ دیکھو بھائی, میں بھی فیس تو اتنی ہی لیتا ہوں، لیکن چونکہ تم سٹوڈنٹس ہو اس لیے بیس ہزار کم دے دینا۔
​اس دوسرے فنکار کا البم قوم پرستوں کے نغمے گانے کی وجہ سے کافی مشہور تھا۔ جب ہم نے اسے اپنی بے بسی اور مالی تنگی بتائی تو وہ صاف بولے:
​”جناب! ہمارے بھی اپنے اخراجات ہیں، میں اس فیس کے بغیر نہیں جا سکتا۔
​مایوسی کے اس عالم میں کسی نے ہمیں مشورہ دیا کہ کیوں نہ ‘خیال بھائی کے حوالے سے کسی سے پوچھا جائے کہ وہ لاہور سے کب واپس آ رہے ہیں۔ خیال بھائی پشاور میں اکثر ڈبگری کے ‘سرحد ہوٹل’ کے پاس اپنی گاڑی کھڑی کرتے تھے۔
​ہم فوراً اس کا پتہ لگانے سرحد ہوٹل پہنچ گئے۔ ابھی ہم وہاں پہنچ ہی رہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ خیال محمد بھائی اپنی ‘مارک ٹو’ گاڑی میں شان سے سرحد ہوٹل کے اندر پارکنگ سپیس میں داخل ہو گئے۔ ہم نے اسے غنیمت جانا، فوراً آگے بڑھے اور گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ وہ ہمیں اس اپنائیت اور محبت سے ملے گویا ہم ان کے پرانے اور گہرے دوست ہوں۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد جب انہوں نے آنے کا مقصد پوچھا تو ہم نے تمام کہانی کہہ سنائی۔
​خیال بھائی نے خلوص سے کہا:
​”میں ابھی ابھی لاہور سے سفر کر کے پہنچا ہوں۔ تم مجھے پندرہ بیس منٹ کا وقت دو، میں گھر جا کر کپڑے بدل کر ابھی واپس آتا ہوں اور تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔”
​ہم نے فوراً روکا اور کہا:
​”نہیں سر! ہم آپ کو اس طرح زحمت نہیں دے سکتے۔ آپ ہمیں بس وقت بتا دیں اور اپنی فیس کا بتا دیں۔”
​یہ سننا تھا کہ خیال بھائی کا چہرا ایک لمحے کے لیے اداس ہو گیا، وہ قدرے رنجیدہ ہو کر بولے:
​ خوشحال بابا کا عرس ہو اور میں تم طالب علموں سے پیسے لوں گا؟
تم لوگوں نے مجھے اتنا حقیر سمجھ رکھا ہے؟
​دوست نے بتایا کہ ہم ان کا یہ بے لوث جذبہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے وہیں ہوٹل سے ہمارے لیے چائے منگوائی اور محبت سے کہا کہ جب بھی جانا ہو، آپ بلا جھجھک مجھے یہیں سے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ اور پھر تاریخِ مقررہ پر وہ نہ صرف اپنی گاڑی میں ہمارے ساتھ گئے، بلکہ اپنے ساتھ اپنے مخصوص سازندوں کو بھی لے گئے، پورا محفلِ موسیقی کا سیشن سجایا اور ایک دھیلے کے بغیر واپس تشریف لائے۔
​اس عظیم انسان کے باطن کا یہ حسن میں نے خود بھی اپنی آنکھوں سے پرکھا ہے۔ ایک بار وہ قطر میں ایک بڑے کنسرٹ کے سلسلے میں تشریف لائے۔ میں نے انہیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور دوحہ کے معروف ترین شاپنگ مال ‘سٹی سینٹر’ لے گیا۔ میں نے خیال بھائی سے کہا:
​آج آپ جس بھی چیز پر انگلی رکھ دیں گے، وہ میں آپ کے لیے خرید کر دوں گا۔
​یہ سنتے ہی وہ اپنی جگہ اکڑ گئے اور غایتِ خودداری سے بولے:
​”بھلا مسافر اور محنت کش لوگوں کی کمائی سے میں کیسے کوئی تحفہ یا چیز لے سکتا ہوں؟”
​بڑی مشکل اور منت سماجت کے بعد وہ ایک ایسی معمولی چیز پر راضی ہوئے جو اس رقم کا عشر عشیر بھی نہیں تھی جو میں نے دل میں ان کے لیے سوچ رکھی تھی۔
​حقیقت یہ ہے کہ استاد خیال محمد صرف ایک باکمال گلوکار کا نام نہیں، بلکہ وہ پشتون تہذیب، خلوص اور روایات کا ایک ایسا جیتا جاتا علامت (Symbol) ہیں کہ اس جیسی ہستیاں صدیوں میں جنم لیتی ہیں۔
​بقول شاعر:
​ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں