افسانہ
عنوان. ویسے تو آزاد ہی تھے
اناسیواں یومِ آزادی منانے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ گلیاں ہری جھنڈیوں، سبز و سفید پرچموں اور چاند تاروں سے سجی تھیں۔ بچے ہرے اور سفید لباس پہنے، ہاتھوں میں باجے لیے خوشی سے شور مچا رہے تھے۔ ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ جشنِ آزادی کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے مصروف تھے.
روز سنتے تھے کہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے، غربت نے بہت سوں کو پیٹ پر پتھر باندھ کر سونے پر مجبور کر دیا ہے، مگر جشن کا ہر جتن جاری تھا؛ جھنڈیوں اور شامیانوں سے لے کر آتش بازی، پٹاخوں اور رنگا رنگ تقریبات سے ڈھول ڈھمکے اور باجوں تاشوں تک……
سوچنے والے اہل شعور سوچتے رہے ، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے دور، علاج مہنگا، سرکاری ادارے بے بس، نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر، اور بیرونِ ملک جانے کے لیے لوگ اپنی زمینیں اور زیور تک بیچنے پر مجبور ہیں۔
پھر بھی عجیب قوم تھی!
جس لیڈر کو عوام نے واضح اکثریت سے جتوایا تھا، اسے قید کرکے اقتدار اُن ہاتھوں میں دے دیا گیا تھا،جن سے یہ ملک کئی دہائیوں سے نجات مانگ رہا تھا۔
جھوٹ، چوری، ملاوٹ، رشوت، بے ایمانی، اقربا پروری اور قانون شکنی—کون سا عیب تھا جو معاشرے میں باقی نہ رہا تھا.
راہِ دل کا دل اس وقت اور بھی ڈوب گیا جب ٹی وی اینکر نے مسکراتے ہوئے اعلان کیا:
’’پوری قوم جشنِ آزادی کی چاند رات بڑے جوش و خروش سے منا رہی ہے۔‘‘
راہِ دل کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
وہ سوچ رہی تھی، ہر شخص پریشانیوں کی اتاہ دلدل میں گرفتار ہے اور پھر بھی جشن منا رہا ہے۔
سچ تو یہ تھا کہ بظاہر سب آزاد تھے، مگر اندر سے ہر شخص کسی نہ کسی زنجیر میں جکڑا ہوا تھا۔
ملک آزاد تھا، دیس کے باسی آزاد تھے… مگر غلامی کی زنجیریں سب کے پیڑوں میں تھیں۔
ڈاکٹر پونمنورین گوندل لاہور
naureendrpunnam@gmail.com
12









