*پاکستان کی آزادی کی قیمت 1947 کے مہاجرین کا خون اور لٹی ہوئی عزتیں*
جمعہ 14 اگست 2026
خصوصی کاوش:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
(سینئر سٹیزن)
پاکستان کی آزادی محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ تاریخ ہے جو لاکھوں جانوں کے نذرانے، بے شمار عورتوں کی پامال عصمتوں، اور اجڑے ہوئے قافلوں کے آنسوؤں سے لکھی گئی ہے۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی اور دردناک ہجرت ثابت ہوئی۔ محتاط تاریخی اندازوں کے مطابق:
تقریباً 65 لاکھ مسلمان ہندوستان سے پاکستان آئے
جبکہ 47 لاکھ ہندو اور سکھ پاکستان سے ہندوستان منتقل ہوئے۔ یوں تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ انسان بے گھر ہوئے۔
اور قریباً 20 لاکھ افراد اس ہجرت کی نذر ہو گئے:
یہ اعداد محض ہندسے نہیں، بلکہ لاشوں، چیخوں، آہوں اور سسکیوں کی گواہی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دوران مسلمانوں کا قتلِ عام نسبتاً زیادہ ہوا۔ فسادات کے ابتدائی دنوں میں ٹرینوں پر حملے، قافلوں کی لوٹ مار اور نہتے مہاجرین پر منظم تشدد نے حالات کو آگ میں جھونک دیا۔ واہگہ کے راستے پاکستان آنے والی پہلی ٹرینوں میں لاشوں سے بھری بوگیاں پہنچیں، جنہیں دیکھ کر ردِعمل میں تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔
اس خونریزی کے درست اعداد و شمار آج بھی تاریخ کے سینے میں دفن ہیں۔ بعد ازاں جب دونوں جانب فوج نے کنٹرول سنبھالا، تب جا کر قافلوں اور ٹرینوں کو کسی حد تک تحفظ ملا۔
*عصمتوں کا المیہ*
اس سانحے کا سب سے دل خراش پہلو وہ ہے جسے تاریخ کے اوراق بھی مکمل طور پر سمیٹ نہیں سکے۔ میں خود ان مسلمان خواتین اور لڑکیوں سے ملا ہوں جو اس دور میں جنسی درندگی کا شکار ہوئیں۔ نہتے قافلوں سے نوجوان لڑکیوں کو زبردستی جدا کر کے گھروں میں قید کر لیا گیا۔ ان پر کیا گزری—اس کا مکمل علم تو صرف اللہ کو ہے—لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعد میں پاکستان آنے والی ان میں سے اکثر خواتین ماں بننے کے قابل نہ رہیں۔
اسی پس منظر میں برلاس کے تین کنوؤں کا واقعہ تاریخ کا وہ باب ہے جسے لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے۔ اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے مسلمان عورتوں نے ان کنوؤں میں چھلانگیں لگا دیں، اور کنوئیں لاشوں سے بھر گئے۔ یہ واقعات محض داستانیں نہیں، بلکہ پاکستان کے قیام کی قیمت ہیں۔
*قوم کے نام پیغام*
برادرانِ ملت!
پاکستان انھی شہداء کی امانت ہے۔ ان لٹے پٹے قافلوں کا قرض آج بھی پاکستانی قوم کے ذمے ہے۔ یہی وہ زخم ہیں جو آج بھی قوم کے وجود میں رس رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان نے آزادی کسی میز پر بیٹھ کر حاصل نہیں کی، بلکہ جانوں اور عزتوں کا نذرانہ دے کر خریدی ہے۔
یہ سطور لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہیں، کیونکہ یہ واقعات میں نے بارہا اپنے والدین اور بزرگوں سے سنے ہیں۔ معصوم بچوں کو ماؤں کی گود سے چھیننا، عورتوں پر وحشیانہ تشدد—یہ سب ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اب قلم مزید ساتھ نہیں دے رہا۔ کہاں تک لکھا جائے اور کہاں تک سنایا جائے؟
ادھورا خواب
پاکستان وہ واحد ریاست ہے جو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آئی:
لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ
مگر افسوس کہ 79 برس گزر جانے کے باوجود وہ خواب پوری طرح شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔ سیاسی نااہلی، بددیانتی اور ذاتی مفادات نے قوم کو اس راستے سے دور رکھا۔ جن مہاجرین نے سب کچھ لٹا کر یہ وطن حاصل کیا، ان کے آنسو پونچھنے کی سنجیدہ کوشش بہت کم نظر آئی۔
مہاجرین کا حقیقی قائد اگر کوئی تھا تو وہ شہیدِ ملت نواب لیاقت علی خان تھے، جنہوں نے پاکستان پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔ ان کی سادگی، ایثار اور قربانی آج کے حکمران طبقے کے لیے ایک زندہ طمانچہ ہے۔ دہلی کا بنگلہ پاکستان کے نام وقف کرنا ہو یا ان کی اہلیہ رعنا لیاقت علی خان کی قربانیاں—یہ سب تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔
امید کی کرن:
اس کے باوجود پاکستان آج بھی قائم ہے۔ یہ اُن محبِ وطن قائدین، سائنسدانوں اور پاک فوج کی بدولت ہے جنہوں نے اس ملک کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنایا۔ دشمنوں کی سازشوں اور دہشت گردی کے باوجود پاک فوج نے ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کیا، اور آج یہ ریاستِ پاکستان حرمین شریفین کی محافظ بھی ہے۔
الحمدللہ
الدعاء
اے ربِ کائنات!
یہ ملک تیری نعمت ہے، یہ آزادی تیرا انعام ہے۔
یا اللہ! پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھ،
اسے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرما،
ہمیں اپنے وطن سے سچی محبت اور قومی یکجہتی نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین
ہم ہیں پاسباں اس کے
اور تو ہے پاسباں ہمارا
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
تحقیق و تحریر
ایک سینئر سٹیزن
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333









