*79 واں یومِ آزادی: کیا ہم واقعی آزادی کے حقدار ہیں*؟
آج ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ گلیاں، بازار، شاہراہیں اور عمارتیں سبز ہلالی پرچموں سے سج چکی ہیں۔ کہیں ملی نغمے گونج رہے ہیں، کہیں جشن کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں، کہیں آتش بازی کی تیاریاں ہیں اور سوشل میڈیا پر پاکستان سے محبت کے پیغامات کا سیلاب ہے۔
یقیناً 14 اگست ہمارے لیے خوشی، فخر اور شکر کا دن ہے، لیکن آج ہمیں خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے:
کیا ہم واقعی اس آزادی کے حقدار ثابت ہوئے ہیں جس کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت، کسی ایک حکومت، کسی ایک ادارے یا کسی ایک طبقے سے نہیں، بلکہ ہم سب سے ہے۔
پاکستان ہمیں مفت میں نہیں ملا۔ اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، خاندان بچھڑے، عزتیں لٹیں اور بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک وجود میں آ جائے، بلکہ ایک ایسی ریاست قائم ہو جہاں مسلمان اپنے دین، تہذیب اور اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں، جہاں انصاف ہو، قانون کی حکمرانی ہو، عام آدمی کی عزت ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہو۔
قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا اور 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق 14 اگست کو اقتدار کی منتقلی ہوئی، جبکہ قائداعظم نے اگلے دن پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
مگر آج 79 سال بعد ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا؟
قائداعظم کا پاکستان کہاں ہے؟
ہم تقریروں میں قائداعظم کے فرمودات دہراتے ہیں، ان کی تصاویر اپنے دفاتر، اسکولوں اور اداروں میں لگاتے ہیں، ان کے نام پر سیمینار اور تقریبات منعقد کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے ان کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا؟
قائداعظم نے اپنی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں قانون کی حکمرانی، شہریوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی اس تقریر کو مذہبی آزادی، مساوات، رواداری اور قانون کی حکمرانی کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں ہر شخص کو برابر کا انصاف مل رہا ہے؟
کیا غریب اور امیر کے لیے قانون ایک ہے؟
کیا طاقتور اور کمزور کے لیے عدالت کے دروازے برابر کھلے ہیں؟
کیا میرٹ سفارش سے بالاتر ہے؟
کیا سرکاری اداروں میں شہری کی عزت محفوظ ہے؟
کیا ہم رشوت، سفارش، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو ختم کرنے کے لیے واقعی تیار ہیں؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کیا جائے تو شاید ہمیں جشنِ آزادی کے شور میں ایک بہت گہری خاموشی سنائی دے۔
منشور پاکستان اور ہماری سیاسی جماعتیں
پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں۔ ہر جماعت اپنے منشور میں غریب کی خوشحالی، روزگار، تعلیم، صحت، انصاف، امن، کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتی ہے۔
لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اکثر ترجیح عوام کے مسائل سے زیادہ اقتدار کا تحفظ بن جاتی ہے۔
سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی حکومتوں کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش میں ریاستی اداروں اور قومی مفادات کو بھی سیاسی کشمکش کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا سیاست اقتدار حاصل کرنے کا نام ہے یا قوم کی خدمت کا؟
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت دراصل عوام کے مینڈیٹ، قانون کی حکمرانی، اختلافِ رائے کے احترام، شفافیت اور جواب دہی کا نام ہے۔
کیا ہم نے آزادی کو صرف جشن بنا دیا؟
ہم ہر سال 14 اگست کو پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں:
پاکستان زندہ باد!
لیکن اگلے ہی دن اگر ہم ٹریفک قوانین توڑیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں، ملاوٹ کریں، رشوت دیں یا لیں، سفارش کو میرٹ پر ترجیح دیں، اپنے فرائض میں خیانت کریں، ٹیکس چوری کریں، دوسروں کے حقوق پامال کریں اور پھر بھی خود کو محبِ وطن سمجھیں تو ہمیں اپنے تصورِ حب الوطنی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
پاکستان سے محبت صرف پرچم خریدنے کا نام نہیں؛ پاکستان سے محبت اپنے کردار کو پاکستانی بنانے کا نام ہے۔
ایک استاد کا ایمانداری سے پڑھانا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک ڈاکٹر کا مریض کو دیانت داری سے علاج فراہم کرنا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک پولیس اہلکار کا بلاامتیاز قانون پر عمل کرنا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک صحافی کا حق اور سچ لکھنا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک جج کا بلا خوف و دباؤ انصاف کرنا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک تاجر کا ملاوٹ اور دھوکے سے بچنا بھی حب الوطنی ہے۔
ایک سیاست دان کا قومی خزانے کو ذاتی مفاد سے محفوظ رکھنا بھی حب الوطنی ہے۔
اور ایک عام شہری کا قانون کی پابندی کرنا بھی پاکستان سے محبت ہے۔
اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک اور ہماری ذمہ داری
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ پاکستان کی تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ سیاسی تشخص اور آزاد وطن کی منزل کی طرف متحد کیا۔ 1949 میں قراردادِ مقاصد پیش ہوئی اور 12 مارچ کو منظور کی گئی، جو بعد میں پاکستان کے آئینی نظام کا بنیادی حوالہ بنی۔
ہم جب پاکستان کو اسلام کے نام سے جوڑتے ہیں تو پھر ہمیں اسلام کی ان بنیادی تعلیمات کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن میں عدل، امانت، دیانت، مساوات، حقوق العباد اور ظلم سے اجتناب بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
صرف مذہبی نعرے کافی نہیں۔
اگر ہمارے بازار میں ملاوٹ ہے، دفتر میں رشوت ہے، سیاست میں جھوٹ ہے، عدالت میں تاخیر ہے، تعلیم میں کاروبار ہے، اسپتال میں غریب بے بس ہے اور طاقتور شخص قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے تو ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے پاکستان کے نظریے کو کتنا سمجھا ہے؟
قائداعظم کا سب سے بڑا پیغام: کردار
قائداعظم نے قوم کو ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کا پیغام دیا۔
لیکن آج ہم اتحاد کے بجائے تقسیم کا شکار ہیں۔ سیاسی وابستگیاں ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہیں۔ لسانی، علاقائی، طبقاتی اور سیاسی اختلافات قومی وحدت کو کمزور کرتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی ایک جماعت، صوبے، زبان یا طبقے کا نہیں۔
پاکستان ہم سب کا ہے۔
پنجابی کا بھی، سندھی کا بھی، بلوچی کا بھی، پشتون کا بھی، کشمیری کا بھی، سرائیکی کا بھی اور ہر اس شہری کا بھی جو اس وطن کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔
قائداعظم نے 11 اگست 1947 کو شہری مساوات اور مذہبی آزادی پر زور دیا تھا۔
لہٰذا پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ریاست شہریوں کے حقوق کی محافظ ہو اور شہری ریاست کے قوانین اور آئین کا احترام کریں۔
ہمیں آزادی کی حفاظت کرنی ہے
آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت سے محفوظ نہیں رہتی؛ آزادی اداروں، آئین، قانون، تعلیم، معیشت، اخلاق اور قومی کردار سے محفوظ رہتی ہے۔
اگر قوم تعلیم سے دور ہو جائے تو آزادی کمزور ہوتی ہے۔
اگر معیشت کمزور ہو جائے تو آزادی دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔
اگر ادارے کمزور ہوں تو ریاست کمزور ہوتی ہے۔
اگر انصاف کمزور ہو تو معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور اگر قوم کا کردار کمزور ہو جائے تو کوئی بھی آزادی دیرپا نہیں رہ سکتی۔
آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم صرف آزادی کا جشن منائیں گے یا آزادی کی ذمہ داری بھی ادا کریں گے۔
79ویں جشنِ آزادی پر ایک عہد
آج ہمیں اپنے شہداء اور ہجرت کرنے والے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ایک عہد کرنا چاہیے:
ہم پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
ہم قانون کی پاسداری کریں گے۔
ہم میرٹ کی حمایت کریں گے۔
ہم سفارش اور رشوت کی حوصلہ شکنی کریں گے۔
ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بنائیں گے۔
ہم اپنے بچوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار بھی دیں گے۔
ہم اقلیتوں سمیت ہر پاکستانی شہری کے حقوق کا احترام کریں گے۔
ہم سیاسی جماعتوں سے شخصیت پرستی کے بجائے کارکردگی اور منشور کی بنیاد پر سوال کریں گے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم پاکستان کو صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے بلکہ اپنی ذمہ داری بھی سمجھیں گے۔
آخر میں ایک سوال
آج جب سبز ہلالی پرچم ہمارے گھروں پر لہرا رہا ہے، جب فضا میں ملی نغمے گونج رہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دے رہے ہیں تو ذرا ایک لمحے کے لیے خاموش ہو کر اپنے دل سے پوچھیں:
کیا ہم واقعی اس آزادی کے حقدار بن چکے ہیں؟
اگر جواب ہاں ہے تو ہمیں اپنے کردار سے اسے ثابت کرنا ہوگا۔
اور اگر جواب نہیں ہے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ پاکستان ابھی بھی ہمارا ہے، اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کا موقع بھی ہمارے پاس ہے اور اس ملک کو قائداعظم کے خوابوں کے قریب لے جانے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔
آزادی کا اصل جشن اس دن ہوگا جب پاکستان کا عام شہری عزت سے زندگی گزار سکے گا، جب انصاف خریدنا نہیں پڑے گا، جب میرٹ سفارش سے بلند ہوگا، جب قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہوگا، جب حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں گے اور جب ہم بحیثیت قوم اپنے فرائض کو اپنے حقوق جتنا اہم سمجھیں گے۔
آئیے اس 14 اگست کو صرف یہ نہ کہیں کہ:
پاکستان زندہ باد!
بلکہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ:
پاکستان ہمارے لیے صرف ایک ملک نہیں، ایک امانت ہے—اور ہم اس امانت کے امین ہیں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، خوشحالی اور اتحاد عطا فرمائے اور ہمیں اپنے وطن کی حقیقی خدمت کرنے کی توفیق دے۔
**پاکستان زندہ باد — قوم پائندہ باد









