بسم اللہ الرحمن الرحیم
کالم:۔۔۔۔یاد رفتگان
تحریر:۔ عثمان غنی
عنوان:۔ ہمہ گیر صحافت کا امام حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒکی 40 ویںبرسی
قیام پاکستان کی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس عظیم اسلامی مملکت پاکستان کو حاصل کرنے میں مسلم صحافت کا اہم کردار رہا ہے ۔برصغیر پاک و ہند میں مسلم اردوصحافت کا آغاز 1822ءمیں اردو اخبار ”جام جہاں نما“سے ہوا ۔یہ اخبار کلکتہ سے جاری ہو ا۔اس میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں مواد شائع کیا جاتاتھا۔اس اخبار کا مقصدفارسی کی اہمیت کو کم کر کے اردوزبان کو فروغ دینا تھا۔کیونکہ فارسی زبان مسلمانوں کے دور اقتدار کی نشانیوںمیں ایک تھی ۔جسے انگریز مٹادینا چاہتے تھے۔لیکن اس اخبار کے ذریعے مسلم صحافت نے اردو زبان میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔یہ تھا برصغیر میں اردو صحافت کا ارتقاء۔اس کے بعد19 ویںصدی میںاردوصحافت کو فروغ دینے کیلئے نامور صحافی و دانشور آئے۔ جنھوں نے انگریزوں کے سامنے ڈٹ کر اپنے صحافتی قلم سے جنگ کی۔قیام پاکستان سے پہلے ان جلیل القدرلوگوں میںمولانا محمد علی جوہر،مولانا حسرت موہانی ،مولانا شوکت علی ، ابوالکلام آزاد، حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ ،حمید نظامی ،میر جعفرخان جمالی ،افتخار الدین ،ملک نور الہی،مولانا سید حبیب جیسے دیگر محب مسلم شخصیات نے صحافت کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کی مردہ رگوں میں حیات نو کے آثار پیدا کرنے شروع کردئیے۔
مسلم صحافت میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں ناموں میں ایک نام(الحاج حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)کا بھی تھا ۔جنھوں نے انگریز دور میں بچپن میں انگریزوں کی غلامی بھی کی۔اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام بھی کیا۔بھاری بھر مشقتیں بھی کیں۔ایسے دن بھی گزرے کہ دن میں صرف ایک وقت ہی کھانے کو ملتا تھا۔جب انگریز سامراج عروج پر تھا،ہندووں کو مسلمانوں پر برتری بھی حاصل تھی۔اس دور میں جب علامہ اقبالؒ کے خواب پاکستان کوپورا کرنے کیلئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مسلمانوںکو مخاطب کر کے کہا کہ ہمیں صحافت کی دنیامیں بھی اپنے اخبارات لانے ہو ں گے۔تو ان کی لبیک پر متعدد لوگوں نے اخبارات نکالے ۔جنھوں نے اپنے اپنے دور میں مسلمانوںکو اکھٹا کرنے میںبہت اہم کردار ادا کیا ۔تو تب اسی دوران ایک با ہمت ،مشہورشعلہ جواں مقررنوجوان(الحاج حضرت امام بخش ناسخ سیفی ) نے بھی اپنے قائدکی آواز پرانگریزوں اور ہندﺅوں کے خلاف ہمت کر کے صوبہ پنجاب کے چھوٹے سے شہرکمالیہ سے ایک ہفت روز (سعادت)نکالا۔انہوں نے اپنی قلم کی طاقت سے اس وقت نہ صرف لائلپور بلکہ پورے پنجاب کے مسلمانوں کو اپنے گرما دینے والے اداریوں اور کالموں ،خبروں سے ایک جگہ اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اور جب قائداعظم محمد علی جناحؒ کے جلسے ہوتے توخصوصی نمبر شائع کرتے۔آئیے ہم ان کی خدمات کے بارے میں کچھ قارئین کو بتاتے ہیں۔ جلیل القدر شخصیت بابائے صحافت وبانی روزنامہ سعادت( قبلہ حضرت امام بخش ناسخ سیفی)کی سالانہ برسی ہر سال 7جولائی کو سعادت اخبار کے تین بڑے دفاتر ( لاہور ،فیصل آباد،گوجرانوالہ) سمیت انکے آبائی شہر کمالیہ (جہاں پر مرحوم و مغفور مدفون ہیں) میں ہر سال بڑی عقیدت واحترام سے منا ئی جاتی ہے۔
اس سال بابائے صحافت وبانی روزنامہ سعادت( قبلہ الحاج ناسخ سیفیؒ)کی 40ویں برسی منائی جارہی ہے۔قارئین سے گزارش ہے کہ ان کیلئے ایصال ثواب کیلئے دُعائے مغفرت بھی کریں۔اللہ تعالی ان کے درجات کو بلنددرجات عطا فرمائے آمین ۔ مرحوم( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)صحافت کے امام،مجاہد اور تحریک نظام مصطفی ﷺکے بے باک راہنما تھے ۔تحریک پاکستان میں الحاج ناسخ سیفیؒنے روزنامہ سعادت کے پلیٹ فار م سے جو گراں قد ر خدمات سر انجام دی ہیں وہ صحافت کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہیںآ پ نے صحافت کے پیشے کو پاکیزگی عطا کی۔سیفی صاحب سچے عاشق رسول ﷺمحب اولیائے عظام اور سادات کی عزت کرنے والے پکے سنی راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔وہ ایک شب زندہ دار عبادت گزارتھے وہ (لائلپور) فیصل آباد میں صحافیوں کے بانیوں میں سے ایک سرخیل اور میرکارواں تھے وہ فیصل آباد کے چہاردریشوں(چوہدری شاہ محمد عزیز،جناب خلیق قریشی،چوہدری ریاست علی آزاد اور الحاج حضرت امام بخش ناسخ سیفیؒ) میں سے ایک تھے جن کی رفاقت کا لوہا مرحوم ایو ب خان بھی مانتے تھے۔میرا تعلق مرحوم حضرت امام بخش ناسخ سیفیؒسے پوتے کا ہے ۔قبلہ( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)میرے دادا محترم تھے ۔اگرآج میں کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہو تو میں یہ سمجھتا ہوکہ یہ سب میرے شفیق و محترم دادا جان کی دعاﺅں سے ہی ہے۔میں انکے بارے میں زیادہ تو کچھ نہیں جانتا لیکن میں جب بھی کبھی کسی محفل میں جاتا ہوں تو مجھے انکی وجہ سے بہت عزت و شفقت ملتی ہے ہر کوئی فر د چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہووہ قبلہ( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔اگر کوئی بزرگ مجھ پر دست شفقت فرمائے تو وہ مجھے بتاتے ہیں کہ تمھارے داداایک سچے عاشق رسول ﷺتھے وہ ایک شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔وہ اپنے قلم کی تلوار سے ہمیشہ ملک دشمن عناصر کا بلاخوف و لالچ مقابلہ کرتے رہتے تھے۔ان کے اداریوں سے قائداعظم محمد علی جناحؒبھی استفادہ حاصل کرتے تھے۔ایک دفعہ میں ایک تقریب میں گیا تو مجھے ایک سنئیر صحافی نے مخاطب کر کے کہا کہ برخودار مجھے خوشی ہے کہ( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ) کی تیسری پیڑھی نے بھی صحافت کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔انکی بات پر مجھے دیگر صحافیوں نے کہا کہ یہ سب تمھارے دادا کی دعاﺅں سے ہے۔کہ روزنامہ سعادت 87سال سے قائم و دائم ہے ۔بڑے بزرگوں کی باتوں کے علاوہ میں نے انکی لکھی ہوئی تحریروںاوران کے چالیسویں پر شائع ہونے والے نمبر میں موجودسینکڑوں تعزیت نامے اور انکی یادوں سے وابستہ مضامین کا بغور مطالعہ کیا ہے جس سے مجھے انکی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں ادنی سی آگائی حاصل ہوئی ہے جو میں چاہوں گا کہ قارئین کے ساتھ شئیر کرﺅں۔قبلہ الحاج ناسخ سیفیؒ تحریک پاکستان کے بےباک صحافی تھے ۔آپ نے 27ءاگست 1937ءمیں پاکستان کے تاریخی شہر کمالیہ سے شمع سعادت روشن کی ۔جس کی وجہ سے کمالیہ شہر کا نام بھی تحریک پاکستان میں روشن ہواآپ نے اس دور میںاخبار نکالاجس دور میں مسلمانوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا جاتا تھا۔مرحوم نے حضرت قائد اعظم محمد علی جنا حؒکی ہر آوا ز پر لبیک کہا اور سعادت کو علمبردار مسلم لیگ تحریک پاکستان کا درجہ حاصل ہو گیاآ پ نے پاکستان کے مسئلے پرکبھی کسی سے سمجھوتا نہیںکیا۔بلکہ بعض اوقات انکو شدید مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔مگر آپ نے ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کا مقابلہ کیاقبلہ صاحب کے چاہنے والوں میں سے محمدمنظور احمد دُودُو انکی وفات کے فوراًبعد اپنی تحریر میں لکھتے ہیں۔کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کی بارگاہ میں جب کبھی نشست ہوتی توفرماتے کہ ُدودُو یہاں باقاعدگی سے نہ سہی جمعرات کی شب تہجد ضرور پڑھ لیا کرﺅ ۔اس لیے اس عبادت صبح گاہی میں بندوںپر بند ہ نواز عالم ختمی مرتبت ضرور اپنا کرم فرماتے ہیںیہ کہہ کرفرط عقیدت سے انکی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ قبلہ سیفی صاحب پر یہ بار بار کرم ہو رہا ہے۔مرحوم نبی اکرمسے سچی محبت کرنے والے تھے۔قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جو ایمان والے ہیںوہ اللہ سے شدید محبت کرنے والے ہیں۔ مرحوم اولیائے اللہ سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔وہ علمائے حق سے محبت کرتے تھے۔انہوں نے اپنے اخبار روزنامہ سعادت کو بھی پاکستان نظام مصطفے ﷺ اور اولیاءاللہ کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے وقف کر رکھا تھا مالی مفادات حاصل کرنے کی خواہش نہ تھی صرف اسلام کے مقدس مشن کو آگے بڑھانے کی آرزو تھی۔
( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)کی صحافت بلاشبہ اعلی روایا ت او ر اقتدار کی امین تھی۔ مرحوم کے اداریوں میں بلاکی جان ہوتی تھی ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ قیام پاکستان سے پہلے تحریک پاکستان کی ترجمانی کرتا تھا۔ان کے اخبار روزنامہ سعادت سے انگریز سرکار بہت خائف تھی اور ہمیشہ سعادت کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔
مرحوم( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ) مورخہ3-10-83میںاپنے آخری اداریہ میں کچھ اسطرح سے لکھ گئے تھے۔”کہ پاکستان میں دشمن عناصر کی اعلانیہ اور خفیہ سرگرمیاں جاری ہیںاور محب پاکستان سیاسی جماعتیں قانون کے احترام کے پیش نظر کوئی خدمت سرانجام دینے سے قاصر ہیں“۔
قبلہ الحاج حضرت امام بخش ناسخ سیفیؒسے لوگ اس قدر عقیدت و محبت کرتے تھے کہ انکی وفات کے بعد روزنامہ سعادت کے دفتر میںکئی مہینے تک سینکٹروںتعزیت نامے آتے رہے ان میں سے چند تعزیت ناموں کے عنوان کچھ اسطرح سے تھے۔
1984میں روزنامہ نوائے وقت کے مدیر جناب مجید نظامی اپنے تعزیت نامے میں لکھتے ہیں۔کہ
’ ناسخ سیفی مرحوم راسخ العقیدہ مسلمان اور محب وطن پاکستانی تھے بلا شبہ ہم نظریہ پاکستان کے بڑے داعی سے محروم ہوگئے ہیں“ مجید نظامی
شہید حکیم سعید ؒنے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھاتھا کہ ”صحافت کے میدان میں انکی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گئیںاور الحاج ناسخ سیفی کی وفات کے خلاکو پر کرنا مشکل ہے“حکیم محمد سعید
۔ سچے عاشق رسول ﷺ کو1979ءلاہور میں پہلا فالج ہوا۔آخر کار 7جولائی1984ءکی صبح( حضرت امام بخش ناسخ سیفی ؒ)صاحب کی آخری
ہچکی ان کی ابدی زندگی کا عنوان اول و آخر بن گئی۔یہ سچ ہے کہ الحاج ناسخ سیفیؒکودنیا فانی سے گئے ہوئے کئی برس گزر چکے ہیںلیکن وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔انہوںنے روزنامہ سعادت کی جو شمع روشن کی تھی وہ آج بھی87سال گزرنے کے باوجود ویسے ہی قائم و دائم ہے جیسے یوم آغاز پر تھی ان کے بیٹے اور پوتے آج بھی انھی کے بتائے ہوئے اصولوںکے مطابق اخبار کو چلا رہے ہیںجو اللہ تعالی کے فضل و کر م سے اس وقت تین شہروں فیصل آباد ،لاہور ،گوجرانوالہ سے روزانہ شائع ہو رہا ہے۔میں سمجھتا ہو ں کہ آج اگر روزنامہ سعادت اپنی منازل کو کامیابی سے طے کر رہا ہے تو اس کامیابی کے پیچھے ایک سچے عاشق رسول ﷺکی دعاﺅوں کا اثر ہے۔اور یہ ہر مسلمان کاایمان ہے کہ جو اللہ اور اسکے پیارے حبیب حضرت محمدﷺسے دلی عقیدت و محبت رکھتا ہے وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔اللہ تعالی مرحوم و مغفور کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔(امین)
لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا آخری وائسرائے تھا
مجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، لیکن کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کرجاتا ہے جس سے وہ قانون کی گرفت میں آجاتا ہے۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
* دروازۂ جہنم —* ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے
*ڈاکٹر قالیباف :* فلسطین کے بغیر امن و استحکام نہیں ہوسکتا۔