*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ھم اس ملک میں رہتے ہیں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
ایسی ریاست کے باشندے ہیں ھم جہاں انسانوں کو جانور سے بھی بدتر سمجھا جاتا ھے، ھم اس سرزمین میں رہتے ہیں جہاں کے تین حاکم بیک وقت حکمرانی کرتے ہیں، ھم وہاں کے باشندے ہیں جہاں چنگیز اور ہلاکو کا ظالمانہ نظام رائج ھے۔ ھم اس دیش کے باشندے ہیں جہاں کی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ دین محمدی ﷺ کے مکمل مخالف سمت میں ھے۔ ھم اس ریاست میں رہتے ہیں جہاں انسانوں کے طبقات میں بہت دوری اور فرق موجود ھے جہاں ایک طبقہ بادشاہ یعنی اشرفیہ و ایلیٹ تو دوسرا غلام سے بھی بدتر یعنی عوام۔ ھم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں کی عوام، قوم نہیں بلکہ قبائل، لسانیت، عصبیت، تعصب، مسلکیت اور نجانے کن کن چھوٹے بڑے حصوں میں منقسم ھیں۔ ھم اس وطن کے باشندے ہیں جہاں قابلیت، اہلیت اور ذہانت کو بدترین سمجھا، دیکھا اور تصور کیا جاتا ھے۔ ھم اس ملک کے لوگ ہیں جہاں جاہلیت، ناخواندگی بدمعاشی غنڈہ گردی اور مافیاء کو آرٹ اور فن سمجھا جاتا ھے اور یہی بدترین ظالمانہ نظام مرتب بھی کرتے ہیں۔ ھم اس ملک کے باشندے ہیں جہاں کے محافظ ہی قوم کے دشمن بن چکے ہیں جو مہنگائی، ٹیکس در ٹیکس کے بےجا دباؤ کے باوجود چپ ساد بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں سب اچھا ھے جہاں عوام کا جینا محال ہوچکا ھے۔ ھم اس ملک کے شہری ہیں جہاں نفرت، اقربہ پروری، غرور، تکبر، ناجائز امور اور غیر اخلاقی اقدار پڑوان چڑھتے ہیں۔ ھم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں قلم اور صحافت بازاری عورت کی طرح اپنا بھاؤ کھولتی ھے۔ ھم وہ قوم ہیں جن میں بیغیرتی، بےحسی، بےشرمی، عروج پر ہے۔ ھم اس ریاست سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اللہ کا عذاب اور قہر نازل رہتا ھے۔ ھم اس ملک کے باشندے ہیں جہاں نہ اخوت ھے نہ اتحاد ھے اور نہ ہی بھائی چارگی۔ ھم اس دنیا کی بدترین قوم، بدترین حکمران، بدترین پایلیمینٹ، بدترین عدلیہ، بدترین سیاستدان اور بدترین باعث پس پشت شخصیات جنھوں نے پاک کو ناپاک کرکے رکھ دیا۔ اللہ ان سب کو کبھی معاف نہیں کریگا جنھوں نے اس پاک وطن کو اس حال تک پہنچایا اور تاریخ انہیں بدترین تاریک لکھے گی انشاءاللہ۔ھم اس ریاست کے باشندے ہیں جہاں بجلی پانی گیس ناپید اور ٹیکس روز کی بنیاد پر بڑھتے ہی بڑھتے رہتے ہیں، جہاں اپنی معدنیات ھونے کے باوجود محروم اور پیٹرول کے نرخ بے قابو، ھم شائد مسلمان تو ہوسکتے ہیں مگر ھم من حیث القوم مومن نہیں۔۔۔۔!!