*انتخاب ،،، پرویزیاں*
پانج جولائی 1977 ، ملک قوم کی بدقسمتی اور تیزی سے ترقی کرتے ھوئے پاکستان کو تنزلی کی طرف لے جانے کی ابتداء کا دن ھے۔
16۔ دسمبر 1971 کو آدھا ملک گنوانے اور مغربی پاکستان کی پندرہ ھزار مربع کلو میٹر کے رقبے پہ بھارت قبضہ کر چکا تھا ۔ اس ٹوٹے پھوٹے ملک کو ساڑھے چار سال کے قلیل عرصے میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ازسر نو ترقی کی راہ پہ گامزن کیا ۔
مزدوروں کو حقوق دلوائے ، ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا ، سرداری ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا ۔ اقلیتوں کو حقوق دیئے ، کسانوں کو اپنی اجناس کی صحیح قیمت دلوانے کے لئے پاسکو کا محکمہ قائم کیا ۔ طلباء کو دس پیسے میں بیس کلو میٹر کا سفر کرنے اور بین الاضلاعی و عالمی سفر آدھے کرائے میں طے کرنے کی سہولت دی ۔ میٹرک تک مفت تعلیم ۔ تمام گریجویٹس تعلیم یافتہ افراد کو این ڈی وی پی کے تحت بیروزگاری الاؤنس یا ملازمتیں دی گئیں ۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے تمام اقدامات کئے ۔
پانچ جولائی 1977 کو تمام اقدامات کو رول بیک کر کے ملک و قوم کو بدقسمتی کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ۔ اور اس کے بعد پاکستان اور عوام کبھی سن ھل نہ سکے ۔
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے علاقائی اور قومی ثقافت کے چھن جانے کے بعد ضیاء کے ابتدائی دور میں ھیروئن اور کلاشنکوف کلچر میں مبتلا ھو گیا اور پاکستان کے 7.9 ملین افراد ھیروئن کے عادی ھو گئے ۔ اسی بدقسمتی کے تسلسل میں جہاد افغانستان کی زور شور سے تبلیغ شروع ھوئی اور پاکستان کے 19 لاکھ نوجوانوں کو ورغلا کر عالمی قوتوں کی سفاکانہ جنگ میں لقہ اجل بنوا دیا ۔ جبکہ جہاد کے مبلغین اپنے بچوں کو جرمنی ، فرانس ، امریکہ اور برطانیہ میں اعلی تعلیم دلوا رھے تھے ۔
یہ سلسلہ یہاں تک نہیں رکا ۔ پھر وہ لگی ھوئی آگ ھمارے گھر اندر بھی آ پہنچی پاکستان کی گلیوں بازاروں ، عبادت گاھوں میں بم دھماکوں سے اسی ھزار سے زائد افراد شہید کئے گئے ۔ سوات سے پاکستان کا پرچم اتر گیا اور سر بازار وحشت دہشتگردی کا بازار گرم ھو گیا ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شیہد پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد اور کارکن ، اس دہشتگردی کا نشانہ بنے ۔
آج مزدور ، کسان اور طلباء اور نچلا طبقہ 1967 سے بری حالت میں ھے آج پیپلز پارٹی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ھے ۔ لیکن اس کا ادراک عوام کو ھونا چاھئے جو جھوٹے اور لپاٹئے سیاستدانوں ، مذھبی کاروباری حضرات کی شیخیوں کا شکار ھو کر اور ان کے جھوٹے وعدوں پہ اپنے مستقبل کا سودا کر بیٹھتے ھیں ۔ عوام کو ماضی پہ طائرانہ نظر ڈالتے ھوئے عوام کی حقیقی خادم جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ بلا خوف خطر جڑ جانا چاھئے تاکہ عوامی بھلائی کے کام ازسر نو پورے پاکستان خصوصا پنجاب میں ھو سکیں ۔