*رشوت خور اور حرام خور قوم کے دشمن*
بدھ 03 جولائی 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
پاکستان میں رزق کی کمی نہیں مگر اخلاص کا فقدان ہے جس کا جہاں اور جتنا ہاتھ پڑتا ہے لوٹنے کی کوشش کرتا ہے مانا کہ ملک میں مہنگائی ہے مگر اکثر دکانداروں نے قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا لیں ہیں شکل ورکرز نے اپنی مزدوری ڈیل کر دی ہے ٹرانسپورٹ کے کرائے تقریبا” ڈبل کر دیئے ہیں کیونکہ کوئی چیک اور بیلنس سسٹم نہیں ہے اسی لئے گورنمنٹ سے کوئی نہیں ڈرتا سرکاری اہلکاروں کے منہ کھل گئے ہیں اور رشوت مانگتے سے دریغ نہیں کرتے باقاعدہ رشوت کے لیں دین میں بھاو تاو کرتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔
گورنمنٹ اگر رشوت روکنے میں بے ناکام ہے ٹو پھر اسے لیگلائز کر کے اسے ڈبل فیس کی مد میں گاہک سے وصول کر کے خزانے میں جمع کرائیں اور اس میں سے اپنی کمیشن وصول کر یں تو اس طریقہ سے کام بھی تیز ہوگا اور رشوت کا ڈر بھی جاتا رہے گا۔
الحمدللہ آج پاکستان میں اکثریت کلمہ گو مسلمانوں کی ہے مگر افسوس صد افسوس ہم نے اسلام سے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا۔ در اصل ہم نے اسلام کا لبادہ تو اوڑھ لیا ہے مگر آج بھی ہمارے اندر ایک بدبو دار ہندو بنیا چھپا ہوا ہے
اس امر واقعی میں یہ کوئی دو راۓ نہیں کہ وطن عزیز میں لوگ رشوت کو حرام تو کیا گناہ بھی نہیں سمجھتے۔رشوت لینا کبیره گناه ھے(بقره-١٨٨
رشوت لینے اور دینے والے پر رسول الله نے لعنت فرمائ (ترمذی
رشوت لینے والے اور دینے والا دونوں جھنم میں جائیں گے (طبرانی
کرپشن کا کلا قمہ اس ملک سے بہت مشکل ہو گیا ہے رشوت ستانی قوم کی رگوں میں سرایت کر گئ ہے اور یہ کینسر کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اس کے روکنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ جو پکڑا جاۓ اسے سخت سے سخت سزا دی جاۓ
مگر سب سے پہلے افسران بالا ٹھیک ہو جائیں تو بات بنے وگرنہ
*رشوت لیتے پکڑے گۓ تو رشوت دے کر چھوٹ جائیں*
آییۓ مل کر رشوت کے خلاف جہاد کریں
مگر حکومت ہمیں پرٹیکشن دے وگرنہ ان سانپوں کے بلوں میں ہاتھ ڈالنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے
*حرف آخر*
جب تک قوم میں اتنی ایمانداری نہیں آجاتی کہ لوگ رشوت کو حرام جاننیں لگیں اور اس سے نفرت نہ کرنے لگیں اس وقت تک قوم نہیں سدھر سکتی۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ رشوت ملک سے فقط دو طریقے سے ختم ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ لوگ اللہ سے ڈرنے لگیں اور رزق حلال کمانے اور کھانے کو اپنے اوپر لازم کر لیں یا پھر حکومت وقت رشوت خور کی اتنی سخت سزا رکھے کہ حرام خوروں کی عقل ٹھکانے آ جائے۔
جہاں تک اللہ سے ڈرنے کا تعلق ہے وہ تو آپ بھول جائیں۔ مجھے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان سے اللہ کا ڈر تو یکسرختم ہو گیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے جزا سزا آخرت میں رکھی ہے اور اس یقین کا تعلق ایمان سے ہے اور اگر ایمان نہ رہا تو پھر تو ڈر بھے ختم۔
میں ذاتی طور پر کچھ ایسے نڈر بے ایمانوں کو جانتا ہوں جو از راہ جہالت کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ! اللہ کیا کرے گا جہنم میں ڈالے گا تو ڈال لے گا لیکن کبھی تو نکالے گا(شفاعت رسول کا غلط تصور)۔
افسوس کچھ لوگ آج بھی آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے اور اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ
*”کل نہیں کسے نے ویکھی تے مزا لییۓ اج دا”*
*اک مختلف زاویہ نگاہ*
ایک دفعہ میں آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس اپنے والد صاحب کی آنکھیں چیک کرانے گیا تو دو سو لوگ لائین میں کھڑے تھے میں نے بکنگ کاؤنٹر سے استفسار کیا کہ میرا نمبر کب آۓ گا تو اس نی بتلایا کہ کچھ لوگوں کے گزرے کل کے نمبر بھی ہیں تو میں نے کہا کہ میرے پاس تو اتنا وقت نہیں ہے تو وہ بڑے بیباک انداز میں بولا کہ صاحب آپ ڈبل فیس جمع کرا دیں تو اندر والے مریض کے بعد آپ کا نمبر آجاۓ گا۔
میں نے ڈبل فیس فورا” ادا کی اور والد صاحب کا چیک اپ کروا لیا۔
یہ رشوت نہیں تھی لیکن ڈبل فیس تھی اگر ہم سب لیگل کاموں کی فیس مقرر کر دیں اور فوری کام کروانے پر ڈبل فیس ادا کریں اصل فیس گورنمنٹ کے خزانے میں جاۓ اور باقی آدھی یعنی زائد فیس افسر مجاز کو دے دی جائے تو اس طرح کام کی رفتار بھی بڑھے گی اور ریوینیو بھی بڑے گا اور افسر مجاز بھی بھاگ بھاگ کر کام کرے گا۔
جج صاحبان پر بھی یہی فارمولا لگایا جاۓ گا مگر ان کو پابند کیا جائے گا کہ روزانہ کی بنیاد پر تیس کیس ضرور نمٹاۓ گا وگرنہ پچیس فی صد اس دن کی کمیشن کم ہو جاۓ گی۔
*ناجائز اور غیر قانونی کام*
جو افسر ناجائز یا غیر قانونی کام کرے یا ایسا کرنے کے لۓ تعاون اور وکیل اپنے مؤکل کی
ناجائز طرف داری کرے تو اس کے لائسنس پر نیگیٹیو مارکنک کی جاۓ یہ عادی کردار کش وکیل کا لائسنس ضبط کیا سکے گا۔
اہل علم اپنی آراء کا اظہار کریں شاید کوئی بہتر حل نکل آۓ۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.6com
Cell:00923008604333