222

دل کی بات خ ح شہزاد

دل کی بات
خ ح شہزاد
زیر نظر غزہ کی تصویر میں 25کلومیٹر پر پھیلے 23لاکھ سے زائد زندہ لوگوں کا شھر تھا کبھی۔جہاں فلسطینی رھتے تھے۔پھر اچانک درندوں نے اس بستی پر حملہ کردیا اور ہنستا بستا شھر اجاڑ کے رکھ دیا اور ہزاروں افراد جن میں بچے۔بوڑھے عورتیں۔جوان سبھی کو ملبے کے ڈھیر میں دفن کردیا ۔57ان کے ھم مزہب ممالک اس وقت دنیا میں موجود تھے۔دنیا کی ھر چیز انکے پاس تھی۔اور ان ممالک میں دو ارب لوگ رھتے تھے۔سب کچھ تھا۔محلات۔ہتھیار۔تیل۔ایٹم بم۔دنیا کی سب سے بڑی عمارت بھی انکے پاس تھی۔تیل کے کنواں۔پچاس لاکھ سے زائد فوج۔جدید اسلحہ لیس تھی۔اور 34ممالک کی مشترکہ فوج بھی ھے۔جس کی کماند ایک بڑے مشھور جرنیل کے پاس تھی۔لیکن لیکن بس ایک چیز کی کمی تھی وہ تھی غیرت ایمانی۔انکا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں تھا۔موت سے یہ دو ارب کا ہجوم ڈرتا تھا لیکن موت سے کب کون بچ سکا ھے۔اس سے کون بھاگ سکتا ھے۔لیکن بے حس۔بے غیرت اس غزہ کے ارد گرد موجود تھے لیکن غدار اعظم تھے۔چوری چھپے درندوں کی مدد کرتے تھے۔اپنے ھم مزہب لوگوں کی چیخ وپکار سن کر بھی خاموش رھتے تھے جیسے انہوں نے کچھ سنا اور دیکھا نہیں۔غزہ کی تباھی کو دیکھکر سمجھ رھے تھے کہ ھم محفوظ ھیں۔لیکن ایک کہاوت ھے کہ ایک گھر میں چوھا رھتا تھا مالک ایک دن چوھا پکڑنے والی کڑکی لایا تو چوھے نے اس گھر میں موجود دیگر جانووں سے مدد مانگی لیکن سبھی نے انکار کیا کہ ھمارا مسلہ نہیں۔لیکن غلطی سے اس کڑکی میں ایک سانپ پھنس گیا جسکو نکالتے ھوے گھر کی مالکن ڈس لیا ۔قصہ مختصر گھر کی مالکن کے علاج۔اور پوچھنے کے آنے والے احباب اور پھر اسکی وفات پر ایک ایک کرکے سبھی جانور ذبح ھوگے۔تاریخ دان لکھے گا کہ 57اسلامی ممالک مھٹی بھر درندوں کو غزہ میں درندگی سے نہ روک اور خود کو تسلی دیتے رھے کہ ھمارا مسلہ نہیں ھے۔لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔؟؟؟؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں